ریٹیل بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کی مخالفت

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 ستمبر 2012 ,‭ 07:49 GMT 12:49 PST
بھارتی خوردہ دکان

زراعت کے بعد خوردہ بازار ملک کا سب سے بڑا روزگار کا شعبہ ہے

بھارت میں ریٹیل بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کے حکومتی فیصلے کی مخالفت جاری ہے اور حلیف جماعت ترنامول کانگریس نے اس فیصلے کو واپس لینے کے لیے حکومت کو بہتّر گھنٹے کا وقت دیا ہے۔

بھارت میں حزب اختلاف کی اہم جماعت بی جے پی اور بائیں بازو کی جماعت نے حکومت کے اس فیصلے کی سخت تنقید کی ہے۔

کانگریس کی سربراہی میں یو پی اے حکومت کی حلیف جماعت ترنامول کانگریس نے اس فیصلے کو واپس لینے کے لیے حکومت کو بہتّر گھنٹے کا وقت دیا ہے۔

انھوں نے ڈیزل اور کھانے کی گیس کی قیمتوں میں اضافے پر بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔

بائیں بازو کی جماعتوں نے اس فیصلے کے خلاف سڑکوں پر آنے کی بھی دھمکی دی ہے جبکہ بی جے پی نے اسے غیر ملکی طاقتوں کے دباؤ میں ملک مخالف فیصلہ قرار دیا ہے۔

تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے بھی حکومت کے ان اقدام کی سخت مخالفت کی ہے۔

اتر پردیش کی سابق وزیر اعلی اور بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ وہ حکومت کے ان اقدام کی مخالف ہیں اور اس بارے میں ان کی پارٹی نو اکتوبر کو ایک ریلی کا انعقاد کرے گی جبکہ دس اکتوبر کو ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں یہ فیصلہ لیا جائے گا کہ حکومت کو ان کی پارٹی حمایت جاری رکھے گی یا نہیں۔

دوسری جانب گجرات کے وزیر اعلی نرندر مودی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو کیا ہو گیا ہے۔ اس سے چھوٹے دکانداروں کو نقصان ہوگا۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ڈی راجا نے ایک ٹی چینل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سپر مارکٹ کا سلسلہ غریب کسانوں اور چھوٹے دکانداروں کے مفاد کے خلاف ہے۔ اس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار ،ختم ہو جائے گا۔

سپربازار

واضح رہے کہ جمعہ کو حکومت نے بیرونی سرمایہ کاری پر فیصلہ لیتے ہوئے سنگل برانڈ میں سو فیصد جبکہ ملٹی برانڈ میں اکیاون فیصد تک کی سرمایہ کاری کی اجازت دی تھی۔

اس کے ساتھ پبلک شعبے کی چار کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی بھی منظوری دی گئی تھی۔

وزیر تجارت آنند شرما کا کہنا ہے کہ شہری ہوابازی کے شعبے میں انچاس فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری کی منظوری دی گئی ہے۔

اس سے قبل سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو، سی پی ایم کے جنرل سیکرٹری پرکاش کارت، سی پی آئی کے جنرل سیکرٹری ایس سدھاکر ریڈی، فارورڈ بلاک کے دیوبرت بسواس، جنتا دل (ایس) کے دانش علی اور ریوولوشنری سوشلسٹ پارٹی کے اونی راۓ نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو ایک مشترکہ خط کے ذریعہ اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔