رسل ایکسچینج: بھارت کا قدیم ترین نیلام گھر

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 ستمبر 2012 ,‭ 11:56 GMT 16:56 PST
رسل نیلام گھر

ایک زمانہ تھا جب بھارت کے شمالی شہر کولکتہ میں ‌بیس سے زائد نیلام گھر ہوا کرتے تھے اور یہ بہت بڑی تجارت ہوا کرتی تھی لیکن وقت کے ساتھ زیادہ تر نیلام گھر بند ہو گئے۔

دستاویزی فلمساز ایڈ آؤلز نے کولکتہ ایک ایسے ہی قدیم ترین نیلام گھر رسل ایکسچینج کا دورہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بیسویں صدی کے وسط میں کولکتہ جو پہلے کلکتہ کہلاتا تھا کے نیلام گھروں میں ملک کے روساء، مشاہیر کے ساتھ ساتھ اداکاروں، تاجروں اور سفارتکاروں کی بھیڑ جمع رہتی تھی۔

لیکن اس کے بعد بھارت کا دارالحکومت دلّی منتقل ہو گیا اور مغربی بنگال کی معیشت مدھم پڑ گئی جس کی وجہ سے رسل ایکسچینج کے علاوہ تقریباً تمام نیلام گھر بے کار ہو گئے۔

انیس سو چالیس سے رسل ایکسچینج ایک ہی خاندان کی ملکیت ہے اور وہی اسے قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس خاندان نے یہ نیلام گھر ایک برطانوی سے خریدا تھا۔

یہ بھارت کا سب سے پرانا نیلام گھر ہے اور یہ کولکتہ کے معروف علاقے پارک سٹریٹ میں ایک شاندار جگہ پر قائم ہے۔

اپنے عروج کے زمانے میں یہ بین الاقوامی سطح پر ’سوتھبی‘ جیسے نیلام گھروں کا مقابلہ کرتا تھا اور یہاں دہلی اور ممبئی سے لوگ بہترین فرنیچر خریدنے اور فروخت کرنےآیا کرتے تھے۔

آج یہاں زیادہ تر الیکٹرانک سامان ملتا ہے جس میں موٹر سائیکل کے پرانے ٹوٹے پھوٹے ہیلمٹ سے لیکر بلّور کے فانوس اور ٹوٹی ہوئی ملی سائرس کی سی ڈیز اور برما کے شاندار نقاشی والی ٹیک کی مسہریاں شامل ہیں۔

پہلے یہاں بطور خاص غیر ممالک کے سفیروں اور بنگالی رئیسوں کے گھروں کا سامان ملا کرتا تھا لیکن اب ایسی بات نہیں ہیں۔

نیلامی کا سامان

نیلام گھر میں پہلے رؤسا اور مشاہیر آیا کرتے تھے۔

اب نیلامی کا سارا معاملہ دو بھائی دیکھتے ہیں جو اسی نیلام گھر کی دھول اور گرد میں پلے بڑھے ہیں اور انھیں یہ کاروبار ان کے والد کے انتقال کے بعد وراثت میں ملا ہے۔

ان دونوں کی زندگی مشکلات سے بھرپور رہی ہے، بڑے بھائی انور سلیم حال ہی میں بیرونی ممالک سے لوٹے ہیں اور وہ اپنے اس رسل ایکسچینج کو ایک بار پھر سے اس کے عروج کے زمانے میں پہنچانا چاہتےہیں۔

انور سلیم نے کئی ملکوں کا سفر کر رکھا ہے اور انھیں اپنے تجربات پر کافی اعتماد ہے اس کے برعکس ان کے چھوٹے بھائی ارشد سلیم پوری طرح سے کلکتے کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں انھوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں نیلامی کا کام کرنا شروع کیا تھا اور اپنے زمانے میں وہ بھارت کے سب سے کم عمر نیلام کرنے والے تھے۔

ان کے خیال سے کولکتہ میں نیلام گھروں کے رفتہ رفتہ بند ہونے سے شہر کی تنزلی کا پتہ چلتا ہے اور انہیں اس بات میں شبہہ ہے کہ نئی نسل نیلام گھر کے کاروبار میں دلچسپی لے گی۔

رسل ایکسچینج کو اس کی بیتی شان واپس دلانے کے لیے یہ دونوں بھائی نئی کوششیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے نیلام گھر کے ایک حصے کو کھول کر اس کی تزئین و آرائش کے بعد اس میں پرانی چیزوں کی فکسڈ پرائس شاپ کھول دی ہے۔

انھوں نے مقامی فیشن ڈیزائنر دیو آر نیل کی فیشن کارپٹ کیٹ واک شو بھی کیا جو کہ کسی نیلام گھر کے لیے غیر معمولی بات ہے۔ ان لوگوں نے یہ منصوبہ بھی بنایا ہے کہ اب وہ اپنی جگہ کو نئی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے میوزیکل نائٹ کے لیے مستقل دیں گے۔

ان سب کے باوجود دونوں بھائیوں کا کہنا ہے کہ رسل ایکسچینج بنیادی طور پر ایک نیلام گھر ہی رہے گا اور یہی خیال ہے اس میں کام کرنے والے درجن بھر ملازمین کا جن کی دوسری یا تیسری نسل یہاں پر کام کر رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔