دلی:’قرآن کی بے حرمتی‘پر تصادم، چھ ہلاک

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 ستمبر 2012 ,‭ 08:09 GMT 13:09 PST
بھارتی پولیس

مسوری گاؤں میں مسلمان اکثریت میں ہیں

بھارت کے دارالحکومت دلی کے مضافات میں مسلمانوں کے ایک ہجوم اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں چھ افراد کی ہلاکت کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔

حکام نے علاقے میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر کے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے۔

ہلاک ہونے والوں کی عمریں چودہ سے انیس سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔

ریاست اتر پردیش علاقے غازی آباد کے پولیس سربراہ پرشانت کمار نے اتوار کی صبح بی بی سی سے بات کرتے ہو‏‏ئے بتایا کہ علاقے میں حالات قابو میں ہیں اور تشدد کے واقعے کی تفتیش جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ ریاست اتر پردیش کے غازی آباد ضلع میں ڈاسنا تھانے کی حدود میں واقع مسوری گاؤں کے قریب ریل کی پٹری سے قرآن کے کچھ مسخ شدہ نسخے ملنے کے بعد پیش آیا۔

نسخے برآمد ہونے کے بعد بڑی تعداد میں مسلمان مقامی تھانے پہنچے جس کے بعد پولیس اور مقامی لوگوں کے درمیان جھڑپ ہو گئی۔

مقامی لوگوں کا الزام ہےکہ ڈاسنا تھانے کی پولیس نے رپورٹ درج کرنے اور کارروائی شروع کرنے میں تاخیر کی جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ہجوم مشتعل تھا اور کچھ لوگوں کے پاس دیسی ساخت کے ہتھیار تھے جن سے انہوں نے فائرنگ شروع کر دی تھی، لہذٰا پولیس کو بھی جوابی فائرنگ کرنی پڑی۔

پولیس افسر پرشانت کمار کے مطابق دو پولیس اہلکار بھی شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

تصادم کے دوران مظاہرین نے کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی اور علاقے سے گزرنے والی قومی شاہراہ ’چوبیس‘ پر کئی گھنٹے ٹریفک معطل رہی۔

لکھنؤ سےملنے والی اطلاعات کے مطابق ریاست کے وزیر اعلیٰ اکھیلیش یادو نے اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا ہے اس کے ساتھ ہی ان سےمنسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس صورتحال سے صحیح انداز میں نمٹنے میں ناکام رہی۔

ہلاکتیں

"مرنے والوں میں شامل ایک چودہ سال کا بچہ بس سے اتر رہا تھا کہ گولی کی زد میں آگیا۔ بتایا جاتا ہےکہ ایک نوجوان اپنی چھت پر کھڑا تھا کہ اس کی ٹانگ میں گولی لگی لیکن علاقے کے تمام راستے بند ہونے کی وجہ سے اسے بروقت ہسپتال نہیں پہنچایا جا سکا"

اگرچہ تشدد کے واقعات جمعہ کی شب دیر گئے پیش آئے تھے لیکن جانی نقصان کی صحیح معلومات سنیچر کی شب ہی سامنے آنا شروع ہوئیں۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان تمام لوگوں کی موت پولیس فائرنگ میں ہوئی ہے یا نہیں۔

ان اموات کی تصدیق پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے کے بعد ہی ہو سکے گی کیونکہ اس سلسلے میں متضاد اطلاعات ہیں۔

ایس ایس پی پرشانت کمار کے مطابق تین نوجوانوں کی موت گولی لگنے سے ہوئی ہے لیکن مقامی لوگوں کا دعویٰ اس کے برعکس ہے۔

مرنے والوں میں شامل ایک چودہ سال کا بچہ بس سے اتر رہا تھا کہ گولی کی زد میں آگیا۔

بتایا جاتا ہے کہ ایک نوجوان اپنی چھت پر کھڑا تھاکہ اس کی ٹانگ میں گولی لگی لیکن علاقے کے تمام راستے بند ہونے کی وجہ سے اسے بروقت ہسپتال نہیں منتقل نہیں کیا جا سکا۔

ریاستی حکومت نے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے پانچ پانچ لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

اتوار کی صبح تک پولیس نے تشدد کے سلسلے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔