فریبی شوہروں یا بے ایمان ملازموں کے لیے ٹیسٹ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 ستمبر 2012 ,‭ 15:11 GMT 20:11 PST

ہندوستان میں جھوٹ، دھوکہ دہی اور فریب پکڑنے کے لیے خدمات دینے والی کمپنیوں میں اضافہ ہوا ہے

بھارت میں ایسے نجی کمپنیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو عام لوگوں اور کمپنیوں کو جھوٹ، فریبی شوہروں اور بے ایمان ملازموں کو پکڑنے کے لیے خدمات فراہم کرتی ہیں۔

لیکن بعض حلقوں کی جانب سے ان کمپنیوں کی خدمات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان پرقانون اپنے ہاتھ میں لینے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

دیپتی پورانائک ایک سائنسدان ہیں جو ممبئی میں ہیلِک ایڈوائزری نامی کمپنی میں پولی گراف ٹیسٹ کے ماہر کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔

وہ ہفتے میں کئی گاہکوں کے لیے پولی گراف ٹیسٹ کرتی ہیں جو سچ معلوم کرنے کے لیے انہیں ایک سو پچاس سے تین سو امریکی ڈالر تک کا معاوضہ ادا کرتے ہیں۔

یہ کمپنی مختلف کیسز میں پولی گراف ٹیسٹ کرتی ہے۔

بعض اوقات کچھ کمپنیاں ملازمت دینے سے پہلے ملازمت کے امیدواروں کی ایمان داری معلوم کرنا چاہتی ہیں یا پھر کسی کمپنی یا گھر میں اگر ڈاکہ پڑا ہو اور چور کو پکڑنا ہو تو ایسے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں۔

ایک سال سے خدمات فراہم کرنے والی اس کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کی خدمات حاصل کرنے کے حوالے سے معلومات لینے والے لوگوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔

" بہت سے لوگ پولیس کے پاس نہیں جاتے کیونکہ اس کے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے اور جو بات پولیس تک پہنچ جائے تو وہ عوام کے سامنے آ جاتی ہے۔ کچھ لوگ ہمارے پاس صرف اس لیے آتے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے کہ باہر لوگوں کو پتہ چلے کہ ان کے ادارے میں کوئی ڈاکہ پڑا ہے۔"

روکمنی کرشنامورتھی

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ ذاتی معلومات کو خفیہ رکھنے کے لیے زیادہ لوگ ان کی خدمات لیتے ہیں۔

ہیلِک کمپنی کی چیئرپرسن اور مہاراشٹرا کے فورنزک سروسز کی سابقہ سربراہ روکمنی کرشنامورتھی کا کہنا ہے کہ ’بہت سے لوگ پولیس کے پاس اس لیے نہیں جاتے کیونکہ اس کے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے اور جو بات پولیس تک پہنچ جائے تو وہ عوام کے سامنے آ جاتی ہے۔ کچھ لوگ ہمارے پاس صرف اس لیے آتے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے کہ باہر لوگوں کو پتہ چلے کہ ان کے ادارے میں کوئی ڈاکہ پڑا ہے۔‘

جھوٹ پکڑنے کے آلے پر ٹیسٹ کرنے سے پہلے متعلقہ شخص کی رضامندی لی جاتی ہے اور ان کے کچھ ابتدائی انٹرویوز کیے جاتے ہیں۔

دیپتی پورانائک یہ بات مانتی ہیں کہ پولی گراف ٹیسٹ کسی کی بے گناہی یا جرم معلوم کر سکتا ہے لیکن اس بات کا اعتراف بھی کرتی ہیں کہ یہ نظام فول پروف نہیں ہے۔

دیپتی پورانائک کا کہنا ہے کہ یہ ٹیسٹ اسّی فیصد تک صحیح ہوتے ہیں۔

پولی گراف ٹیسٹوں میں فعلیاتی تبدیلیوں کو ناپا جاتا ہے جیسا کے فشار خون، پسینہ اور سانس۔

امریکی سائنسدان ویلیم مرسٹن جو دائیں سے دوسرے نمبر پر بیھٹے ہیں نے جھوٹ پکڑنے کے آلے کو انیس سو سترہ میں ایجاد کیا

اس آلے کو کئی سالوں سے ہندوستان میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

لیکن دو ہزار دس میں ملک کی سپریم کورٹ نے پولی گراف کی مدد سے لیے گئے ثبوتوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ یہ شخصی آذادی پر قدغن ہے اور اس نظام کی مدد سے لی گئی معلومات کو صرف معاون ثبوت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بھارت میں فورنزک خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور کچھ کمپنیاں دستخطوں کی تصدیق (ہندوستان میں بینک چیک فراڈ ایک بڑا مسئلہ ہے)، ہاتھ کی لکھائی کا تجزیہ کرنے اور شخصیت معلوم کرنے کے ٹیسٹ کرنے کی خدمات فراہم کرتی ہیں۔

بھارت کی بڑھتی ہوئی آبادی اور پہلے سے کام کے بوجھ تلے دبے پولیس کے محکمے کی وجہ سے یہ کمپنیاں موجود خلا کو اپنی خدمات سے پر کرتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا کام پولیس کو دوسرے بڑے جرائم پر توجہ دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

دوسری طرف سپریم کورٹ کے وکیل بھارت چوغ ان کمپنیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں یہ ایک خطرناک رجحان ہے کہ نجی کمپنیاں پیسے بنانے کے لیے میدان میں آئیں باوجود اس کے کہ ان کے پاس انصاف فراہم کرنے کے لیے نظام نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ان لوگوں نے باقاعدہ قانون کو ہاتھ میں لیا ہوا ہے یہ ایک متوازی نظام چلا رہے ہیں جس میں یہ جھگڑوں کو نپٹا رہے ہیں جو کہ ٹھیک نہیں ہے۔‘

لیکن روکمانی کرشنامورتھی کا موقف ہے کہ جب تک حکومت ملک میں مزید فورنزک لیبارٹریاں نہیں بناتی نجی کمپنیاں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خدمات دے سکتیں ہیں جس سے جرائم میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔