ریٹیل بازار میں سرمایہ کاری، اتحادی ناراض

آخری وقت اشاعت:  پير 17 ستمبر 2012 ,‭ 09:04 GMT 14:04 PST

ایف ڈي آئی کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع ہورہا ہے

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ریٹیل بازار میں بیرونی سرمایہ کاری اور ڈیزل کی قیمت بڑھائے جانے کے حکومتی فیصلے پر اس قدر ناراض ہیں کہ اب وہ مرکزی حکومت سے الگ ہونے پر غور کر رہی ہیں۔

حکمراں جماعت کانگریس پارٹی کی قیادت والے یوپی اے محاذ میں ممتا بینرجی کی جماعت ترنمول کانگریس ایک اہم اتحادی پارٹی ہے جس کے پاس چند اہم وزارتیں ہیں۔

خبر رساں ادارہ پریس ٹرسٹ آف انڈيا کے مطابق ریٹیل بازار میں بیرونی سرمایہ کاری اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے فیصلے کے خلاف بطور احتجاج وہ حکومت سے علحیدہ ہونے پر غور کر رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بطور احتجاج ان کے وزراء کابینہ سے مستعفی ہو جائیں گے لیکن وزارتیں چھوڑنے اور حکومت سے باہر آنے کے باوجود ان کی جماعت حکومت کی باہر سے حمایت جاری رکھےگي۔

حکمراں یو پی اے اتحاد میں کئي علاقائی جماعتیں شامل ہیں اور کانگریس کے بعد ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کے انیس ارکان پارلیمان ہیں جو کانگریس کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔

اگر ایسا ہوا تو ترنمول کانگریس موجودہ حکومت سے الگ ہونے والی پہلی جماعت ہوگي اور اس سے وسط مدتی انتخابات کے وقت سے پہلے انعقاد کے حوالے سے قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو جائے گا۔

کانگریس کی قیادت والی حکومت کو سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی بھی حمایت حاصل ہے اور یہ دونوں پارٹیاں بھی ریٹیل بازار میں ایف ڈی آئی کی سخت مخالف ہیں۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھی حکومت کے اس فیصلے پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ جنتا دل یو کے رہنما کا کہنا ہے کہ ’ایف ڈی آئي بالآخر کاشتکاروں کو غلام بنا کر چھوڑے گی۔‘

ممتا بینرجی

ممتا بینرجی نے حکومت کو بہتّر گھنٹے کا وقت دیا تھا

لیکن اتنی سخت مخالفت کے باوجود ان میں کسی بھی جماعت نے حکومت سے اپنی حمایت واپس لینے کی بات نہیں کہی ہے۔

ان سب کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کو باہر سے حمایت دیتے رہیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی جماعت فی الوقت عام انتخابات کے حق میں نہیں ہے اور سب مناسب وقت کی منتظر ہیں۔

دوسری جانب کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت پوری طرح مستحکم ہے اور اس کی کوشش ہے کہ جو اس کے اتحادی ہیں ان سے بات چیت کے بعد انہیں راضی کر لیا جائے۔

حکومت نے حال ہی میں ایک اہم فیصلے کے تحت ڈیزل کی قیمت پانچ روپے فی لیٹر بڑھا دی ہے اور خوردہ بازار یا ریٹیل مارکیٹ میں بیرونی سرمایہ کاری کی اجازت دی ہے۔

اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی اور بائیں بازو کی جماعتوں سمیت اس کی سخت مخالف ہیں اور سبھی نے مشترکہ طور پر بطور احتجاج بیس سمتبر کو ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو حکومت نے بیرونی سرمایہ کاری پر فیصلہ لیتے ہوئے سنگل برانڈ میں سو فیصد جبکہ ملٹی برانڈ میں اکیاون فیصد تک کی سرمایہ کاری کی اجازت دی تھی۔

اس کے ساتھ پبلک شعبے کی چار کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی بھی منظوری دی گئی تھی۔

وزیر تجارت آنند شرما کا کہنا ہے کہ شہری ہوا بازی کے شعبے میں انچاس فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری کی منظوری دی گئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔