اجمل قصاب کی بھارتی صدر سے رحم کی اپیل

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 ستمبر 2012 ,‭ 08:38 GMT 13:38 PST

قصاب نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا

بھارتی شہر ممبئي کے حملہ آوروں میں سے واحد زندہ بچنے والے مجرم اجمل امیر قصاب نے اپنی موت کی سزا معاف کرنے کے لیے بھارتی صدر سے رحم کی اپیل کی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ ان کی موت کی سزا کو برقرار رکھا تھا جس کے بعد پھانسی سے بچنے کا آخری راستہ صدر سے رحم کی اپیل ہے۔

اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد انہوں نے بھارتی صدر پرنب مکھرجی سے رحم کی اپیل کی ہے اور ان کی درخواست صدر کے پاس بھیج دی گئی ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارہ پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے خبر دی ہے کہ ممبئی کے آرتھر روڈ جیل کے ایک سینیئر اہلکار نے اس کی تصدیق کی ہے۔

’ہم نے اجمل کی جانب سے فائل کی گئی رحم کی اپیل کو صدر کے پاس بھیج دیا ہے۔‘

جیل کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ اس سے پہلے اجمل امیر قصاب کو سپریم کورٹ کی جانب سے موت کی سزا کی توثیق کرنے کا سرٹیفیکٹ سونپا گيا تھا۔

بیان کے مطابق ’تین روز پہلے قصاب کو سپریم کورٹ نے موت کی سزا کی جو توثیق کی تھی اس کا سرٹیفیکیٹ سونپا گیا تھا۔ اس کی ایک کاپی قصاب کو دی گئی اور دوسری کاپی ان کے دستخط کے ساتھ سپریم کورٹ کو واپس بھیج دی گئی۔‘

اس سے قبل بھارتی سپریم کورٹ نے اجمل قصاب کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی تھی۔

اجمل قصاب چھبیس نومبر 2008 کو ممبئی پر حملے میں دس حملہ آوروں کے گروپ کا حصہ تھے۔ ان کے باقی ساتھی پولیس کے ہاتھوں مارے گئے تھے لیکن قصاب کو حملے کے دوران زندہ پکڑ لیا گیا تھا۔

"تین روز پہلے قصاب کو سپریم کورٹ نے موت کی سزا کی جو توثیق کی تھی اس کا سرٹیفیکٹ سونپا گیا تھا۔ اس کی ایک کاپی قصاب کو دی گئی اور دوسری کاپی ان کے دستخط کے ساتھ سپریم کورٹ کو واپس بھیج دیی گئی۔"

انہیں ایک مقدمے میں ممبئی کی ایک ذیلی عدالت نے موت کی سزا سنائي تھی۔ گزشتہ فروری میں ممبئی ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت کی طرف سے قصاب کو سنائی گئی موت کی سزا کی توثیق کر دی تھی۔

سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا ’ہمارے پاس سزائے موت دینے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ قصاب کا سب سے پہلا اور سب سے اہم جرم یہ ہے کہ اس نے بھارت کی حکومت کے خلاف جنگ کی۔‘

عدالت عظمیٰ نےاجمل قصاب کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ ممبئی میں ان کے خلاف مقدمے کی منصفانہ سماعت نہیں ہوئی تھی کیونکہ انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے وکیل کی خدمات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔

بینچ نے کہا کہ مقدمے کی سماعت کے ابتدائی مراحل میں ذیلی عدالت نے قصاب کو کئی مرتبہ وکیل کی خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی جسے انہوں نے نامنظور کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ میں اجمل قصاب کی جانب سے سینیئر وکیل راجو رام چندرن پیش ہوئے، جن کا کہنا تھا کہ ابتدائی مراحل میں وکیل نہ ملنے سے سماعت کا عمل متثاثر ہوا تھا۔

’اگر قصاب کو شروع سے ہی ایک وکیل کی خدمات حاصل ہوتیں تو پھر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا پھر بھی وہ اقبالیہ بیان دیتے؟‘

قصاب کا تعلق پاکستان سے ہے۔ انہوں نے اپنے دیگرساتھیوں کے ہمراہ ممبئی کے ریلوے سٹیشن، تاج ہوٹل، اوبیرائے ہوٹل، ناریمن ہاؤس اور لیوپولڈ کیفے پر ایک ساتھ حملہ کیا تھا۔ اس میں متعدد غیر ملکی سمیت 166 افراد ہلاک اور 238 زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔