ممتا بینرجی کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 ستمبر 2012 ,‭ 16:52 GMT 21:52 PST

بھارتی حکومت میں شامل ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بینرجی نے متحدہ ترقی پسند محاذ (یو پی اے) کی حمایت ترک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

موجودہ لوک سبھا میں ترنمول کانگریس کے انیس ارکان ہیں۔

بھارتی لوک سبھا کے پانچ سو تینتالیس ارکان کے ایوان میں یو پی اے کو اکثریت کے لیے دو سو بہتر ارکان کی حمایت درکار ہے۔

یو پی اے کے لوک سبھا میں دو سو تہتر ممبران پارلیمان ہیں لیکن اسے سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل کی بیرونی حمایت حاصل ہے۔

ترنمول کانگریس کی حمایت واپس لینے سے یہ تعداد دو سو چوّن ہو جائے گی جس سے یو پی اے حکومت بیرونی حمایت دینے والے جماعتوں پر بری طرح سے منحصر ہو گی۔

ممتا بینرجی نے ریٹیل بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کے فیصلے اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مرکزی حکومت کو یہ فیصلہ واپس لینے کے لیے بہتر گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا۔

وزیر خزانہ پی چدمبرم نے منگل کو کسی بھی طرح کے ’رول بیك‘ یعنی فیصلہ واپس لیے جانے کے امکان کو رد کیا تھا۔

دو گھنٹے سے بھی زیادہ جاری رہنے والے ترنمول کانگریس کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے بعد ممتا بینرجي نے کہا ’اس حکومت نے ایک کے بعد ایک عوام مخالف فیصلے کیے ہیں اس لیے ہم حکومت سے اپنی حمایت واپس لے رہے ہیں اور جمعہ کو دوپہر تین بجے ترنمول کانگریس کے وزیر دہلی میں وزیر اعظم من موہن سنگھ کو اپنے استعفے پیش کریں گے۔‘

"حکومت ہماری پارٹی کے خیالات کو ایک اتحادی جماعت کی طرح عزت نہیں دے رہی ہے، اب طویل وقت تک انتظار کرنے کے بعد ہمیں یہ افسوسناک فیصلہ لینا پڑ رہا ہے۔"

ممتا بینرجي

ممتا بینرجی نے یہ بھی کہا کہ اگر مرکزی حکومت خوردہ علاقے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فیصلے کو واپس لیتی ہے، ہر سال ہر خاندان کو ملنے والے گیس کے سلینڈروں کی تعداد بارہ تک بڑھاتی ہے اور ڈیزل کی قیمت میں کیے گئے اضافے میں کچھ کمی لاتی ہے تو وہ حمایت واپس لینے کے فیصلے پر دوبارہ غور کر سکتی ہیں۔

ممتا نے حکومت کو باہر سے حمایت دینے کے کسی بھی امکان سے انکار کیا اور کہا کہ انہوں نے حمایت واپس لینے کا فیصلہ آدھے دل سے نہیں لیا ہے۔

ترنمول کانگریس کے پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ کے بعد ممتا بینرجي نے کہا کہ پرچون کاروبار کے غیر منظم شعبوں میں اپنی روزی روٹی چلانے والے غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں پر غیر ملکی کثیر ملکی کمپنیوں کے آنے سے برا اثر پڑے گا۔

ممتا بینرجي نے کہا ’حکومت ہماری پارٹی کے خیالات کو ایک اتحادی جماعت کی طرح عزت نہیں دے رہی ہے، اب طویل وقت تک انتظار کرنے کے بعد ہمیں یہ افسوسناک فیصلہ لینا پڑ رہا ہے۔‘

اس سے قبل دہلی میں وزیر خزانہ پی چدمبرم نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی۔

پیر کو پی چدمبرم نے کہا تھا کہ حکومت اپنے اتحادیوں کو سمجھانے کی پوری کوشش کرے گی۔

چدمبرم نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔