حکومتی فیصلوں کے خلاف ملگ گیر ہڑتال

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 ستمبر 2012 ,‭ 04:30 GMT 09:30 PST

ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے، گھریلو استعمال کی گیس پر سبسڈی کم کرنے اور ریٹیل بازار میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت کے خلاف جمعرات کو بھارت میں اپوزیشن کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال ہو رہی ہے۔

ہڑتال کی وجہ سے کئی مقامات پر ریل سروس متاثر ہونے کی خبریں آ رہی ہیں۔

کئی ریاستوں میں سیاسی جماعتوں کے کارکن دھرنا اور مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کچھ جگہوں پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے ہیں لیکن کسی بڑی واقعے کی اطلاع نہیں ہے۔

بہار میں جگہ جگہ سڑکوں پر پہیہ جام ہے اور ٹرینوں کو روکا جا رہا ہے جبکہ مہاراشٹر میں احتجاج کا اثر فی الحال کم دکھائی دے رہا ہے۔

کلکتہ میں بھی بسیں اور ٹرین اپنے وقت سے چل رہی ہیں، تاہم تعلیمی ادارے اور دکانیں بند ہیں۔

الٰہ آباد، وارانسی اور کانپور وغیرہ اہم شہروں میں بھی جگہ جگہ مظاہرے کیے گئے اور دھرنا دیا گیا۔

اتر پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد میں بی بی سی کے نامہ نگار عمر فاروق نے کہا ہے کہ ریاست میں ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر ہوا ہے اور کئی چھوٹے قصبوں میں بھی عام زندگی معطل ہے۔

بنگلور میں کارکن ہڑتال کو یقینی بنانے کے لئے موٹر سائیکل پر گشت کر رہے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ہڑتال نہ کرنے والوں کے ساتھ مارپیٹ بھی کی گئی ہے۔

حکومت نے ہر ریاست میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔

ہر خاندان کے لیے سال میں سبسڈی والے صرف چھ گیس سلینڈروں کی حد مقرر کی گئی ہے

دہلی شہر میں بائیں بازو کی پارٹیوں کے لیڈر جمع ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت بھارتی عوام کی بجائے امریکہ کے صدر براک اوباما اور وزیر خارجہ ہلري کلنٹن کو خوش کرنے کے لئے زیادہ فکر مند رہتی ہے۔

بی جے پی کے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی نے کہا، ’امریکی کمپنی وال مارٹ کا جتنا کاروبار ہے، ہمارے ملک میں کل ریٹیل بازار کا اتنا کاروبار ہے لیکن وال مارٹ بیس لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے لیکن بھارت کے ریٹیل بازار سے پانچ کروڑ لوگ روزی روٹی کماتے ہیں۔‘

انہوں نے الزام لگایا کہ یہ سب کچھ چین کو پچھلے دروازے سے بھارت میں داخل ہونے دینے کی سازش کا حصہ ہے۔

بھارتی حکومت نےگزشتہ ہفتے ڈیزل کی قیمتوں میں پانچ روپے فی لیٹر کا اضافہ کرنے کے علاوہ ہر خاندان کو سال میں سبسڈی والے صرف چھ گیس سلینڈروں کی حد مقرر کر دی ہے۔ اس کے علاوہ ریٹیل بازار اور شہری ہوا بازی کے شعبے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دے دی گئی ہے۔

حکومت جہاں ان فیصلوں کو اقتصادی اصلاحات کی سمت میں اہم قدم قرار دے رہی ہے، وہیں حزب اختلاف انہیں عوام مخالف قرار دے رہا ہے۔

جمعرات کو ہونے والی اس ہڑتال میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے علاوہ حکومت کی ساتھی ڈی ایم کے اور سماج وادی پارٹی کے علاوہ دو دن پہلے حکومتی اتحاد یو پی اے سے الگ ہونے والی ترنمول کانگریس بھی حصہ لے رہی ہے۔

حکومت مخالف اتحاد کی سب سے بڑی پارٹی بی جے پی کے ترجمان پرکاش جاوڑیکر کا دعوی ہے،’بھارت بند زبردست کامیاب ہوگا‘۔

بی جے پی کے علاوہ جمعرات کو یو پی اے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر اترنے والوں میں سماج وادی پارٹی، مارکسی پارٹی، کمیونسٹ پارٹی، تیلگو دےشم پارٹی، بیجو جنتا دل، جنتا دل سےكلر، فارورڈ بلاک اور آر اے سی پي بھی شامل ہیں۔

تازہ اقتصادی فیصلوں پر کانگریس کی زیرِ قیادت یو پی اے حکومت کا ساتھ چھوڑنے والی ممتا بنرجی نے بھی جمعرات کو حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ یو پی اے حکومت میں شامل ڈی ایم کے بھی اس ملک ہڑتال میں حصہ لے رہی ہے۔

سی پی ایم کا کہنا ہے کہ حالیہ اقتصادی فیصلوں کی وجہ سے حکمران اتحاد میں پڑنے والی دراڑیں ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت کی پالیسیوں کو وسیع سیاسی حمایت حاصل نہیں ہے۔ اتحاد کے ایک اعلامیہ کے مطابق، ’یو پی اے میں شامل میں کانگریس کے اتحادیوں کے رخ سے صاف ہو گیا ہے کہ زیادہ تر رکن ان پالیسیوں کے خلاف ہیں‘۔

سیاسی جماعتوں کے علاوہ بھارتی تاجروں کی مرکزی تنظیم ’سي اے اي ٹي‘ نے بھی ہڑتال میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کو کوئی کاروباری سرگرمی نہیں ہوگی اور پچیس ہزار سے زیادہ کاروباری یونین بھارت بند میں شامل ہوں گی۔

ریٹیل بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو چھوٹے کاروباری لوگوں کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے.

دلی میں جنتر منتر پر سي اے اي ٹي کے مظاہرے میں جنتا دل (یو) کے سربراہ شرد یادو، بی جے پی لیڈر مرلی منوہر جوشی، سی پی ایم کے جنرل سکریٹری پرکاش کرات اور سی پی آئی لیڈر اے بی بردھن شامل ہوں گے.

اس وسیع مخالفت کے باوجود بھارتی حکومت کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں نظر آتا۔ ترنمول کانگریس کے الگ ہونے کے باوجود یو پی اے حکومت کو سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔

تاہم سماج وادی پارٹی ریٹیل بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی مخالفت کر رہی ہے لیکن اس نے حکومت سے حمایت واپس لینے کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے جب کہ بی ایس پی سربراہ مایاوتی اس سلسلے میں اگلے ماہ اپنے پارٹی کے لیڈروں سے بات چیت کرنے والی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔