موٹے ہاتھیوں کے لیے اب ڈائٹنگ کا وقت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 ستمبر 2012 ,‭ 08:03 GMT 13:03 PST
ہاتھی

تمل ناڈو کے مندروں میں سیتیس ہاتھی کام کرتے ہیں

بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے مندروں میں رہنے والے بیشتر ہاتھیوں کا وزن بہت زیادہ ہوگیا جس کے بعد اب انہیں دبلا کرنے کی کوشش شروع کی گئی ہے۔

مندروں کی انجمن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ لوگ کوشش کررہے ہیں کہ ان ہاتھیوں کو ’دبلا‘ کیا جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جانوروں کے ڈاکٹروں کی ہدایات پر مندر کے اہلکاروں نے ان ہاتھیوں کی غذا میں تبدیلی کی ہے۔

تمل ناڈو کے شہر مدورئی کے ایک مندر کے اہلکار پون جے رمن کا کہنا ہے کہ ’اس مندر میں پندرہ سال کی ایک ہتھنی ہے جس کا وزن پانچ سو کلوگرام زیادہ ہے اس کو دبلا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے‘۔

وہیں کلڑگڑھ مندر کے ایک ہتھنی مدراولی کا وزن بھی اپنی عمر کے حساب سے سات سو کلوگرام زیادہ ہے۔

ایسا مانا جاتا ہے کہ ان ہاتھیوں کے وزن بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ ہے یہ ہے کہ مندروں میں آنے والے عقیدت مند انہیں زیادہ کھانا کھلا دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا وزن بڑھ جاتا ہے اور پھر انہیں چلنے پھرنے اور مندر کے کام کرنے میں دقت پیش آتی ہے۔

وہیں جانوروں کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہاتھیوں کو قدرتی ماحول میں نہ رکھنے سے یہ موٹاپے کا شکار ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جنگل میں ہاتھی دو سو طرح کے مختلف کھانے کھاتے ہیں جن میں پھل، پھول، درختوں کی جڑیں، ٹہنیاں وغیرہ شامل ہیں لیکن مندروں میں انہیں جو کھانا ملتا ہے اس میں اتنی مختلف اقسام نہیں ہوتی ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جنگلوں میں ہاتھی جتنا چل پاتے ہیں اتنا وہ مندروں میں رہ کر نہیں چل پھر سکتے ہیں۔

مندروں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کی ہدایت پر مہاوت ان ہاتھیوں کو روزانہ پانچ کلو میٹر کی چہل قدمی پر لے جاتے ہیں اور اس کے علاوہ ان کی غذا میں بھی اہم تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔