فلم تنازعہ: کشمیر میں عام تعطیل، مظاہرے

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 ستمبر 2012 ,‭ 10:56 GMT 15:56 PST
کشمیر ہڑتال

کشمیر میں متنازعہ فلم پر حکومت اور علیحدگی پسند دونوں گروپوں نے ناراضگی ظاہر کی۔

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کی حکومت بھی اسلام مخالف فلم کے خلاف احتجاج میں شامل ہوگئی ہے.

یہ پہلا موقع ہے جب کشمیر کی انتظامیہ ، علیٰحدگی پسند گروپ اور مذہبی تنظیمیں امریکہ میں بنی ایک متنازعہ فلم کے خلاف ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کی حمایت کررہی ہیں۔

پاکستان کی کال پر جمعہ کے روز بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کیے گئے، جبکہ سری نگر کے بعض حساس علاقوں میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

حکومت نے پہلے سے ہی جمعہ کو سکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں عام تعطیل کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ریاستی کابینہ کا اجلاس طلب کرکے حکومت کی طرف سے اسلام مخالف فلم کی مذمت کی تھی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستانی حکومت نے جمعہ کو عام تعطیل کا اعلان کرکے اس روز کو ’یوم عشق رسول‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کی حمایت میں یہاں کے علیٰحدگی پسندوں اور مذہبی گروپوں نے لوگوں سے احتجاج کی اپیل کی ہے۔

احتجاج کی اپیل

"متنازعہ فلم کے بارے میں علیٰحدگی پسندوں کی اسی پالیسی پر یہاں کی مذہبی تنظیموں نے ناراضگی کا اظہار کیاہے۔ اس کے بعد تراسی سالہ علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے گزشتہ منگل کو احتجاج کا اعلان کیا اور جمعہ کے روز بھی انہوں نے نوجوانوں سے احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی"

صبح سے ہی وادی کے مختلف قصبوں میں نوجوانوں نے جلوس نکالنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں ایسا کرنے سے باز رکھا۔ نوجوانوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا، تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

واضح رہے کشمیر کے علیٰحدگی پسند رہنما یورپ اور امریکہ سے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی خاطر براہ راست مداخلت کی اپیل کرتے رہے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بھی بھارت کی شکایت امریکہ یا یورپ سے ہی کی جاتی ہے۔ اس سیاسی پس منظر میں امریکہ یا مغرب کے خلاف علیٰحدگی پسندوں کا لہجہ ہمیشہ محتاط رہتا ہے۔

متنازعہ فلم کے بارے میں علیٰحدگی پسندوں کی اسی پالیسی پر یہاں کی مذہبی تنظیموں نے ناراضگی کا اظہار کیاہے۔ اس کے بعد تراسی سالہ علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے گزشتہ منگل کو احتجاج کا اعلان کیا اور جمعہ کے روز بھی انہوں نے نوجوانوں سے احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی۔

منگل کو کئی مقامات پر مظاہرے ہوئے تھے جس کے دوران ایک سرکاری گاڑی کو بھی نذرآتش کیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔