اسلام مخالف فلم ، بھارت میں مظاہرے کیوں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 ستمبر 2012 ,‭ 12:40 GMT 17:40 PST
کشمیر میں مظاہرہ

کشمیر سمیت بھارت کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے ہیں۔

چند برس قبل ایک سرکردہ میڈیا ادارے نے یہ خبر نشر کی کہ امریکہ کی سپریم کورٹ میں دنیا کے جن سو عظیم ترین ’لا میکرز‘ یا قانون دانوں کے نام اور علامتیں نقش ہیں ان میں حضرت عیسیٰ و حضرت موسیٰ اور پیغمبر اسلام حضرت محمد کے نام بھی شامل ہیں ۔ لیکن اصل خبر یہ تھی کہ امریکہ کی بعض مسلم تنطیموں نے ایک نکتہ اعتراض یہ اٹھایا تھا کہ حضرت محمد ’لامیکر‘ یا قانون بنانے والے نہیں تھے بلکہ انہوں نے خدا کا قانون انسانوں تک پہنچایا تھا۔

چونکہ دونوں ہی جانب سے کسی بد نیتی کا کوئی دخل نہیں تھا اس لیے امریکہ میں یہ مذاکرہ کچھ دنوں میں کسی تنازعے کے بغیر ختم ہوگیا ۔

لیکن اس خبر پر بھارت میں ہنگامہ ہوگیا کہ امریکہ کی سپریم کورٹ میں حضرت محمد سے متعلق سو برس قبل کچھ علامتیں بنائی گئی تھیں اور یہ کہ انہیں لا میکر (یعنی قانون بنانے والا ) کہا گیا۔سری نگر میں مظاہرے ہونے لگے۔ شاید ممبئی میں بھی ایک دو مظاہرے ہوئے۔ کشمیر میں ہڑتالیں ہوئیں اور مظاہروں میں کئی لو گ مارے گئے ۔

اسی طرح سلمان رشدی کی متنازعہ کتاب کے خلاف بھی بھارت کے کئي شہروں میں مظاہرے ہوئے تھے اور ممـبئی میں مظاہروں کے درمیان متعدد مظاہرین پولیس کے ہاتھوں مارے گئے۔

ابھی پچھلے ہفتے دلی کے نواح میں کسی فتنہ گر نے قرآن کا ایک پھٹا ہو صفحہ کہیں پھینک دیا۔ یہ افواہ پھیلائی گئی کہ کسی نے چلتی ہو ئی ٹرین سے مسلمانوں کی مذہبی کتاب کی بے حرمتی کی۔

ایک ہی مقصد

"اسلام مخالف فلم ہو یا قرآن کی بے حرمتی کی خبریں ان کے پیچھے بس ایک ایک ہی مقصد ہے ۔ مسلمانوں کو مشتعل کرنا ۔ اور ان سبھی معاملوں میں فتنہ گر اپنے مقصد میں اپنی توقع سے کہیں زیادہ کامیاب ہوئے ہیں"

یہی نہیں فتنہ پھیلانے والے نے پھٹے ہوئے صفحے پر ایک موبائل نمبر بھی لکھ رکھا تھا۔ آ‎س پاس کے کئی گاؤں کے مسلمان مشتعل ہوگئے اور کچھ سمجھے بوجھے بغیر مقامی پولیس اسٹیشن پر حملہ کر دیا۔ متعدد گاڑیاں جلا دیں۔ میڈ یا پر حملہ کیا، آتے جاتے لوگوں پر حملے کیے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں چودہ سال کے ایک کمسن بچے سمیت سات لوگ مارے گئے۔ پانچ ہزار سے زیادہ لوگوں کے خلاف مقدمات درج کیےگئے ہیں۔

مذہبی کتاب کی’بے حرمتی‘ کی افواہیں اس خطے سے پچھلے کئی مہینے سے سامنے آتی رہی ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے سے ایک مصری نژاد امریکی شہری کے ذریعے بنائی گئی ایک اسلام مخالف فلم کے نام پر پوری دنیا میں امریکہ اور بعض دیگر مغربی ملکوں کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بھارت کے شہر چننئی میں بھی کچھ مسلمان پچھلے کئی دنوں سے امریکی قونصل خانے کے باہر پر تشدد مظاہرے کر رہے ہیں ۔امریکی قونصل خانہ وقتی طور پر بند کرنا پڑا ہے ۔

احتجاج اور مظاہرے جمہوری نظام کا لازمی جزو ہیں اور پوری دنیا میں ہر شخص کو جمہوری طریقے سے اپنے جذبات کے اظہار کا حق حاصل ہے لیکن فلم کوئی فراڈ اور سرپھراشخص بنائے اور مظاہرے امریکی حکومت کے خلاف ہوں ، قونصل خانوں پر حملے کیے جائیں ، بے قصور شہریوں کو زدو کوب کیا جائے اور سفارتخانوں پر یلغار کی جائے تو بات کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔

ظلم برما میں ہو اور مظاہرین حملے مقامی پولیس اور عام لوگوں پر کریں ۔یہ کس طرح کے جمہوری جذبے کا اظہار ہے؟

یہ سلسلہ بہت پرانا ہے۔ مظاہروں کی اپنی ایک سیاست ہے۔ ان مظاہروں میں جو مارے گئے ان میں سے کئی خاندان ہمیشہ کے لیے تباہ ہو جاتے ہیں اور کچھ کبھی نارمل نہیں ہو پائیں گے ۔ ان خاندانوں پر کیا گزرے گی یہ کوئی نہیں جانے گا ۔

اسلام مخالف فلم ہو یا قرآن کی بے حرمتی کی خبریں ان کے پیچھے بس ایک ایک ہی مقصد ہے ۔ مسلمانوں کو مشتعل کرنا ۔ اور ان سبھی معاملوں میں فتنہ گر اپنے مقصد میں اپنی توقع سے کہیں زیادہ کامیاب ہوئے ہیں ۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔