کویت، بھارتی شہریوں کی قانونی مدد کی کوشش

آخری وقت اشاعت:  پير 24 ستمبر 2012 ,‭ 11:03 GMT 16:03 PST
کویت پولیس

پچھلے ہفتے کویت میں سکیورٹی حکام نے کئی مقامات پر چھاپے مارے تھے

کویت میں بھارتی سفارتخانہ ان بھارتی شہریوں تک رسائی کی کوشش کر رہا ہے جنہیں حکام نے ویزا کی خلاف ورزیوں کے سلسلے میں حراست میں رکھا ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق خلیجی ممالک میں ایک ہزار سے زیادہ بھارتی شہریوں کو ویزا قوانین کی خلاف ورزیاں کرنے پر گرفتار کیا گيا تھا۔

کویت میں بھارتی سفارتکار ودھو نائر کا کہنا ہے کہ سفارت خانے نے اب تک ایسے ساڑھے چھ سو افراد کا پتہ لگایا ہے اور ان کے دستاویزات جمع کیے ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارہ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق مسٹر نائر نے بتایا ہے کہ بھارتی حکام ان افراد کے مسائل کو حل کرنے کی پوری کوشش میں لگے ہیں۔

ان کا کہنا تھا '’وہ تما م بھارتی شہری جن کے پاس مناسب دستاویزات ہوں اور ان کے سپانسر کرنے والے سامنے آئیں تو انہیں رہا کر دیا جائے گا جبکہ باقی افراد کو بھارت واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ ان میں بعض افراد کو پہلے ہی رہا کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر کے کیسز کی نوعیت کے حساب سے کارروائی ہو رہی ہے۔‘

"سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ گھروں میں امدادی کام کے ویزے پر آتے ہیں لیکن وہ کام دوسری جگہ پر کرتے ہیں۔ کویت کی حکومت ایسے لوگوں کو ان کے سپانسر کرنے والوں کو واپس بھیجنا چاہتی ہے کیونکہ وہ لوگ گھروں کے باہر کام کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ یہ ویزا قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔"

کویت کی وزارت داخلہ نے گزشتہ بدھ کو ملک گیر چھاپے مارے تھے اور تقریباً دو ہزار افراد کو مقررہ وقت سے زیادہ تک ملک میں رہنے، چوری، شراب اور منشیات میں ملوث ہونے جیسے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

اگرچہ ابھی تک حراست میں لیے گئے افارد کی صحیح تعداد کا پتہ نہیں چل پایا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق گرفتار ک افراد میں سے تقریباً اٹھارہ سو کا تعلق بھارت سے ہے۔

کویت میں بھارتی سفیر مسٹر نائر کا کہنا ہے ’اس طرح کی کسی بھی کارروائی کے متعلق ہمیں نہیں مطلع کیا گيا اور نا ہی مقامی انتظامیہ نے شناخت کی غرض سے اس بارے میں رابطہ کیا۔‘

اطلاعات کے مطابق گرفتارشدہ بھارتی شہریوں کو جہاں رکھا گيا ہے وہاں سے بھارتی حکام کا رابطہ ہوگيا ہے۔ مسٹر نائر کے مطابق بہت سے افراد کو متعلقہ تھانوں میں رکھا گيا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ گھروں میں امدادی کام کے ویزے پر آتے ہیں لیکن وہ کام دوسری جگہ پر کرتے ہیں۔

’ کویت کی حکومت ایسے لوگوں کو ان کے سپانسر کرنے والوں کو واپس بھیجنا چاہتی ہے کیونکہ وہ لوگ گھروں کے باہر کام کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ یہ ویزا قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘

لیکن بھارتی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان افراد کی حالت پر انہیں تشویش ہے اور اس بارے میں کویت کے حکام کو لکھ چکے ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔