کیا منموہن سنگھ کا وقت ختم ہوا؟

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 ستمبر 2012 ,‭ 12:23 GMT 17:23 PST

’وقت پورا ہو گیا‘

منموہن سنگھ

منموہن سنگھ گزشتہ آٹھ برسوں سے بھارت کے وزیر اعظم ہیں

وزیراعظم کے طور پر دس برسوں تک کام کرنے کے بعد وہ چاہتے تھے کہ اب وہ کچھ وقت بغیر کسی ذمہ داری کے ایک عام شہری کے طور پر گزاریں۔

ان کے ذہن میں خیال آیا کہ اچھا ہوگا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں اور پھر پرانے دوستوں سے ملاقاتیں کریں، کتابوں کو بھی وقت دیں، اور ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کریں۔

لیکن نہرو کو ان کے فیصلے پر ازسرنو غور کرنے اور وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہنے کے لیے منا لیا گیا۔

"جواہر لال نہروں کی تمام مخالفت اور انکے سیاسی کام کاج کے طریقہ کار پر شک و شبہات کے باوجود بھارت میں جمہوریت کی فروغ میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ جواہر لال نہرو نے ہی یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ بھارت ' ہندو پاکستان' نہیں بنے گا۔"

اگر جواہر لال نہرو نے انیس سو اٹھاون میں اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہوتا تو انہیں نہ صرف بھارت کے بہترین وزیراعظم کے طور پر یاد کیا جاتا بلکہ ان کا شمار جدید دنیا کے اعلی رہنماؤں میں ہوتا۔

جواہر لال نہرو کی تمام مخالفت اور ان کے سیاسی کام کاج کے طریقۂ کار پر شک و شبہات کے باوجود بھارت میں جمہوریت کے فروغ میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ جواہر لال نہرو نے ہی یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ بھارت ’ہندو پاکستان‘ نہیں بنے گا۔

لیکن انیس سو اٹھاون کے بعد نہرو کے لیے پریشانیاں شروع ہوئیں۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ہی پہلا بڑا گھپلہ ’مونڈرا‘ گھپلہ سامنے آیا اور کیرالا کی منتخب حکومت کی اچانک برخاستگی کو ان کو خاموشی سے قبول کرنا پڑا۔

چین کے ساتھ سرحد پر جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں چین کے ہاتھوں بھارت کی شرمناک ہار ہوئی۔ مئی انیس سو چونسٹھ میں جب ان کی موت ہوئی تب تک ایک لیڈر کے طور پر ان کی عزت تار تار ہوچکی تھی۔

"ان کے دور اقتدار میں جو گھپلے ہوئے ہیں ان کی فہرست لمبی ہی، چاہے وہ دولت مشترکہ کے کھیلوں کے دوران ہوئے گھپلے ہوں یا پھر ٹو جی گھپلے، منموہن سنگھ نہ تو انہیں پہچان پائے نہ ہی انہیں روک پائے۔ان گھپلوں کے سامنے آتے ہی کوئی کاروائی نہ کرنے سے نہ صرف ان کی پارٹی بلکہ خود اپنی شبیہ کو بھی بے حد نقصان پہنچایا اور ایسا نقصان جس کو کبھی صحیح نہیں کیا جاسکتا ہے۔"

منموہن سنگھ نہرو نہیں ہیں پھر بھی ان کے اور نہرو کے دورِ اقتدار میں کافی مماثلت ہے۔ ان کے چاہنے والے امید کررہے تھے کہ وہ 2009 میں چھٹی لے لیں گے اور شاید ان کے ذہن میں یہ خیال آیا بھی ہوگا۔

گجرات فسادات اور ’انڈیا شائننگ‘ کی مہم کے بعد ملک کے عوام کو ایک حفاظت کرنے والے ’ہاتھ‘ ( ہاتھ حکمراں کانگریس کا انتخابی نشان ہے) کی ضرورت تھی۔

منموہن سنگھ کے دور اقتدار میں مذہبی فسادات کم ہوئے، حکومت کا کام کاج کا طریقہ قدر شفاف ہوا، اور دیہی علاقوں کے غریب مزدوروں کے لیے فلاحی منصوبے بنے۔

اگر منموہن سنگھ دو ہزار نو میں مستعفی ہوجاتے تو انہیں ایک اوسط درجے کے وزیراعظم کے طور پر تو یاد کیا ہی جاتا۔

"'اب وقت آ گیاہے کہ منموہن سنگھ ایک نوجوان شخص یا عورت کے لئے جگہ بنائیں، جس کے پاس مزید سیاسی ہمت ہو اور وہ راجیہ سبھا کا رکن نہ ہو کر لوک سبھا کا رکن ہو۔ جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں ان کی عزت کم ہوتی جا رہی ہے اور سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ آئینی جمہوریت پر یقین کم ہوتا جارہا ہے۔' "

ان کے دورِ اقتدار میں جو گھپلے ہوئے ہیں ان کی فہرست لمبی ہے۔ چاہے وہ دولت مشترکہ کے کھیلوں کے دوران ہوئے گھپلے ہوں یا پھر ٹو جی گھپلے، منموہن سنگھ نہ تو انہیں پہچان پائے نہ ہی انہیں روک پائے۔

ان گھپلوں کے سامنے آتے ہی کوئی کارروائی نہ کرنے سے نہ صرف ان کی پارٹی بلکہ خود اپنی شبیہ کو بھی بے حد نقصان پہنچایا اور ایسا نقصان جس کی تلافی ممکن نہیں۔

وزیراعظم کے طور پر دوسری مدت کے دوران سرکاری خزانے کی بڑی سطح پر لوٹ مچی۔ بدعنوانی کے علاوہ اس مدت کے دوران حکومت کی نا اہلی اور کسی بھی مسئلے پر غیر ذمہ دارانہ رویہ صاف نظر آیا۔ اس دوران عوام نے جو بھی سوال پوچھے حکومت نے ان کا جواب بھی دینا ٹھیک نہیں سمجھا۔ حکومت مغرور نظر آئی۔

دو ہزار چار میں جب منموہن سنگھ پہلی بار وزیراعظم بنے تو ان سے امید تھی کہ وہ جدید انتظامیہ کو یقینی بنائیں گے، قابل لوگوں کو اہم عہدوں پر فائز کریں گے اور پولیس اور سفارتکاروں کو سیاسی مداخلت سے بچائیں گے لیکن انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔

اس کے علاوہ منموہن سنگھ کی حکومت نے بعض ایسی پالیسیاں بنائیں جو ملک کی معیشت کو صحیح سمت میں نہیں لے گئیں۔

منموہن سنگھ نے اپنی منڈی کو دوسرے ممالک کے لیے نہ کھولنے والی سیاست کو چھوڑنے کے ارادے کا اظہار نہیں کیا جس کی وجہ سے عوام کو صحیح تعلیم، صحت کی سہولیات اور سکیورٹی بری طرح سے متاثر ہوئی ہیں۔

دھیمے، کمزور، لکیر کے فقیر اور سب سے بڑھ کر بدعنوان یہ الفاظ ہیں جن سے منموہن سنگھ اور ان کی حکومت کو یاد کیا جائے گا۔ایسا ممکن تھا کہ یہ لفظ ان کے لیے نہیں کہے جاتے۔

لیکن بھارت کی یہ مثال پوری دنیا میں ہونے والے اس طرح کے واقعات کی ایک مثال پیش کرتا ہے جس میں کئی معاملے ایسے ہیں جہاں ایک وقت میں قابل سمجھے جانے والے سیاستدان جب اپنے عہدے پر طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں تو ان کی شہرت دھیرے دھیرے ختم ہوتی چلی جاتی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اپنے صدر کو دو سے زیادہ مدت دینے پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ برطانیہ میں بھی مارگریٹ تھیچر اور ٹونی بلئیر کے دوسرے دورے اقتدار کے دوران جب ان کی پارٹی کی مقبولیت کم ہونے لگی تو ان کی جگہ دوسرے لوگوں کو ان کے عہدے پر فائز کیا گیا۔

اگست دو ہزار گیارہ میں ٹو جی گھپلے کے رونما ہونے بعد اور کوئلہ گھپلے ہونے سے پہلے میں نے اخبار ہندوستان ٹائمز میں ایک مضمون لکھ کر استعفی دینے کی اپیل کی۔

اس دوران ان کی مایوسی، عمر اور آزاد سیاسی فیصلہ نہ لینے کی صلاحیت صاف دیکھی جا سکتی تھی۔

میں نے لکھا تھا، ’ اب وقت آ گیاہے کہ منموہن سنگھ ایک نوجوان شخص یا عورت کے لیے جگہ بنائیں، جس کے پاس مزید سیاسی ہمت ہو اور وہ راجیہ سبھا کا رکن نہ ہو کر لوک سبھا کا رکن ہو۔ جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں ان کی عزت کم ہوتی جا رہی ہے اور سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ آئینی جمہوریت پر یقین کم ہوتا جارہا ہے‘۔

جب میں نے یہ لکھا تھا تو مجھے معلوم تھا کہ بھارت برطانیہ نہیں ہے اور اس بات کی کوئی امید نہیں تھی کہ بزدل اور لکیر کی فقیر کانگریس پارٹی منموہن سنگھ سے استعفی دینے کے لیے کہے گی جیسے کہ مارگریٹ تھیچر اور ٹونی بلیئر کی جماعتوں نے کیا تھا۔

اس لیے میری اپیل وزیر اعظم منموہن سنگھ کے قابل ذہن سے تھی کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ وہ ایک قابل دانشور ہیں جنہیں معلوم ہے کہ ان کے جانے کا وقت آگیا ہے۔

عظیم کرکٹ کھلاڑی وجے مرچنٹ سے جب پوچھا گیا کہ اپنی آخری اننگز میں سنچری بنانے کے بعد بھی انہوں نے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیوں کیا تو انہوں نے جواب دیا تھا ’میں کرکٹ کو اس وقت الوداع کہنا چاہتا تھا جب لوگ مجھ سے پوچھیں کیوں نا کہ کیوں نہیں‘۔

یہ سبق بہت کم کرکٹ کھلاڑیوں نے سیکھا ہے اور سیاستدانوں میں تو یہ تعداد اور بھی کم ہے۔

ایک لمبی مدت تک اپنے عہدے پر فائز رہ کر منموہن سنگھ ان لیڈروں میں شامل ہوگئے ہیں جن میں ونسٹن چرچل، چارلس ڈی گال، مارگریٹ تھیچر اور جواہر لال نہرو کے نام شامل ہیں۔

منموہن بہترسلوک کے مستحق

منموہن سنگھ کے ماسک پہنے لوگ

منموہن سنگھ سے عام عوام بھی ناراض ہے

بیس سال قبل بھارت کے ایک خاموش مزاج وزیر خزانہ نے حیرت انگیز طور پر ایک بے حد متاثر کرنے والے بحٹ کو پیش کرتے ہوئے کہا تھا ’دنیا میں کوئی بھی طاقت اس خیال کو نہیں روک سکتی جس کا وقت آ چکا ہو‘۔

وہ خاموش مزاج وزیر خزانہ آج بھارت کے وزیر اعظم ہیں۔

جس خیال کو منموہن سنگھ آگے بڑھا رہے تھے وہ بھارتی معیشت میں اصلاحات کا خیال تھا تھا اور جو اصلاح انہوں نے کیے اس کے نتیجے تقریباً انقلابی تھے۔

ان اصلاحات نے لائسنس - پرمٹ - کوٹہ راج پر کنٹرول ختم کر دیا اور بھارت کی بےتکی سست شرحِ ترقی جو کہ تین فیصد سے نیچے تھی، اسے آٹھ فیصد سے زیادہ اوپر لے گئے اور یہ اضافہ ڈیڑھ دہائی تک جاری رہا۔

"ان کی خاموشی کو کو بذدلی اور ان کے نرم مزاجی کو ان کی کمزوری سمجھا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ بھارت کی چمک انہوں نے پھیلی کردی ہے۔ یہاں تک کہ ایک مشہور بین الاقوامی جریدے نے انہیں ' انڈراچیور' کہ ڈالا۔"

تمام ماہرین ان پر ایک ایسا لیڈر ہونے کا الزام لگا رہے ہیں جس کی حکومت فیصلے نہ لے پانے والی، سخت فیصلے لینے سے ڈرنے والی اور پالیسی ساز معذوری کا شکار ہے اور جس کے بدعنوان اتحادی ملک کے وسائل کو لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔

ان کی خاموشی کو بزدلی اور ان کی نرم مزاجی کو ان کی کمزوری سمجھا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ بھارت کی چمک انہوں نے پھیکی کر دی ہے۔ یہاں تک کہ ایک مشہور بین الاقوامی جریدے نے انہیں ’انڈر اچیور‘ کہہ ڈالا۔

یا تو اسی سالہ منموہن سنگھ اپنے ہدف سے بھٹک گئے ہیں یا ان کے ناقدین ان کی کامیابیوں کو نظر انداز کررہے ہیں۔

یہ ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے اپنے ملک کو عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی کامیاب معیشت کے طور پر شہرت دلائی اور انہوں نے کسی بھی لیڈر سے زیادہ کام کیا ہے۔ منموہن سنگھ اس سے بہتر عزت کے مستحق ہیں۔

یہ بات صحیح ہے کہ کچھ کام خراب ہوئے۔ بعض ممکنہ سرمایہ کار اس لیے واپس چلے گئے کیونکہ حکومت نے ٹیکس کے نئے ضوابط کو عمل میں لانے کا فیصلہ کیا جو میں خصوصی معاملات میں کچھ برس پہلے سے نافذ کرنا تھا۔


اس پالیسی کو نافذ کرنے کے اعلان میں اس لیے سال بھر کی دیر ہوئی کیونکہ حزب اختلاف اور حکومت کی اتحادی جماعتیں اس کی مخالفت کر رہی تھیں۔

"یہ بات صحیح ہے کہ کچھ کام خراب ہوئے۔ بعض ممکنہ سرمایہ کار اس لیے واپس چلے گئے کیونکہ حکومت نے ٹیکس کے نئے ضوابط کو عمال میں لانے کا فیصلہ کیا جو میں خصوصی معاملات کچھ برس پہلے سے نافذ کرنا تھا۔ "

لیکن یہ یقین کرنے کی کوئی بھی وجہ نہیں کہ یہ مسائل طویل عرصے تک رہنے والے ہیں۔ یہ لمبی مدت کی کامیابی کے گراف میں چھوٹا سا جھٹکا ہے۔

زیادہ تر تنقید میں مایوسی کو اسی طرح بڑھاچڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جیسے اس سے پہلے بھارت کی تیز ترقی کی کہانی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا تھا۔

منموہن سنگھ کی کامیابیاں غیر معمولی ہیں۔ انیس سو اکانوے میں جس بھارت کو انہوں نے بحران سے نکالا وہ غیر فعال اور مرکزی منصوبہ بندی والی ایسی معیشت تھی، جس پر گزشتہ پینتالیس سالوں سے نوکر شاہی کا غلبہ تھا نہ کہ صنعت کاروں کا۔

اس تبدیلی کا اگر کوئی ذمہ دار ہے تو وہ ہیں وزیر اعظم منموہن سنگھ۔

گزشتہ کچھ برسوں میں پوری دنیا نے ایک غیر معمولی اقتصادی بحران اور کساد بازاری کے دور کا سامنا کیا ہے، لیکن بھارت اس عالمی بحران کے باوجود مستحکم رہا ہے اور دنیا میں چین کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بن رہا ہے خاص کر اس وقت جب زیادہ تر ممالک کی اقتصادی شرح نمو گزشتہ چار سالوں کے دوران کسی نہ کسی سہ ماہی میں منفی تھی یہ منموہن سنگھ کا ہی کمال تھا۔

جب جی ٹوئنٹی ممالک کے رہنما عالمی معیشت پر غور کرنے کے لیے ایک جگہ جمع ہوئے تو منموہن سنگھ کی باتوں کو بہت احترام کے ساتھ سنا گیا۔ صدر اوباما نے انہیں اپنے پسندیدہ ترین رہنماؤں کی فہرست میں اول نمبر پر رکھا۔

سال دوہزار گیارہ اور بارہ میں میں بھارت نے سات فیصد کی شرح ترقی حاصل کی، سروس سیکٹر میں نو فی صد کی شرح سے اضافہ ہوا اور ملک کی مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ اٹھاون فیصد رہی۔

آج ملک کے تریسٹھ فیصد لوگوں کو پاس فون ہیں، جب کہ ایک دہائی پہلے صرف نو فیصد ہندوستانی ہی فون استعمال کر پاتے تھے۔گزشتہ سال ہی دس کروڑ فون لگائے گئے۔اس میں چار کروڑ دیہی علاقوں میں تھے۔ آج بھارت میں انچاس کروڑ پینتیس لاکھ ٹیلی فون کنکشن ہیں۔

تقریبا ساٹھ فیصد بھارتیوں کے بینک اکاؤنٹ ہیں۔ اس کا کریڈٹ منموہن سنگھ کی پالیسیوں کو ہی جاتا ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں ہی پانچ کروڑ سے زیادہ لوگوں کے بینک اکاؤنٹ کھولے گئے اور ان میں زیادہ تر اکاؤنٹ گاؤں میں کھولے گئے۔

بھارت میں بدعنوانی ایک سچائی ہے، لیکن یہ پورے بھارت کا مسئلہ ہے نہ کہ خاص طور پر منموہن سنگھ حکومت کی۔ ان کے وزیر اعظم بننے سے پہلے بھی بدعنوانی تھی اور اس کے بعد بھی رہے گی۔

پچھلے سال تقریباً بیس ہزار میگا واٹ اضافی بجلی کی پیداوار ہوئی اور دیہی علاقوں میں پینتیس لاکھ بجلی کے نئے کنکشن لگائے گئے۔ آٹھ ہزار دیہاتوں کو پہلی بار بجلی نصیب ہوئی ہے۔

آج ملک کے قصبوں اور شہروں میں ترانوے فیصد افراد کے پاس بجلی پہنچ گئی ہے۔

منموہن سنگھ حکومت کا مقصد اگلے پانچ سالوں میں بنیادی ڈھانچہ کی سہولیات کی ترقی میں ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ہے اور ان میں سے زیادہ تر پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت میں ہوگا۔ یہ سرمایہ کاروں کے لیے کافی پرکشش موقع ہے۔

حکومت کی مبینہ ناکامی کا مقابلے میں اپوزیشن کا غیر ذمہ دارانہ اور تقسیم کرنے والا رویہ اس تصویر کے لیے مزید ذمہ دار ہے کہ بھارت اکیسویں صدی میں ملنے والے مواقع سے پوری طرح سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ان چلنجز کے درمیان منموہن سنگھ کی حکومت اور بھارت کی ترقی کی سچی تصویر ان الزامات کے برعکس ہے جس میں حکومت پر غیر فعال ہونے اور پالیسی ساز معذوری کا الزام لگایا گیا تھا۔

جیسا کہ وزیر اعظم خود ہی کہتے ہیں ’ميں یہ قبول کرنے والا وہ پہلا شخص ہوں جو یہ کہتا ہے کہ ہمیں بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم نے زیادہ حاصل کیا ہے‘۔

وزیر اعظم جی، آپ نے جو کچھ حاصل کیا ہے اس کے لیے آپ کی تعریف کے حقدار ہیں، لیکن جو کچھ ابھی آپ کو حاصل کرنا ہے اس کے لیے آپ پر سوالیہ نشان لگانا غلط ہے۔

وزیر اعظم جی، آپ کو اسی ویں سالگرہ کی دلی مبارکباد۔ ہمیں یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں ملک مزید شاندار ترقی کرے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔