’آئی بی کا ایجنٹ کہا گیا لیکن میں ڈری نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 ستمبر 2012 ,‭ 10:32 GMT 15:32 PST
نصرت جہاں آرا

پھولوں کے بزنس سے اپنے کرئیر کا آغاز کرنے والی نصرت جہاں آج تقریبا پچاس چھوٹی کمپنیوں کا نظام دیکھ رہی ہیں

گزشتہ کئی دہائیوں سے علیحدگی پسند تحریک کے سبب شورش کا سامنا کرنے والی ریاست کشمیر جیسے مردوں کے غلبے والے سماج میں نصرت جہاں آرا کا شمار سری نگر کی کامیاب خواتین تاجروں میں ہوتا ہے۔

پھولوں کے بزنس سے اپنے کرئیر کا آغاز کرنے والی نصرت جہاں آر اس وقت تقریبًا پچاس چھوٹی بڑی کمپنیوں کا نظام دیکھ رہی ہیں۔

نصرت کے لیے کشمیر جیسی جگہ میں دھمکیوں کے درمیان اپنا کام کرنا آسان نہیں تھا۔

نصرت بچپن سے بزنس کرنا چاتی تھیں لیکن انیس سو اٹھانوے میں انہیں شہری ترقی کے ریاستی محکمہ میں نوکری مل گئی تھی۔

اس وقت بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگي پسند پرتشدد تحریک اپنے عروج پر تھی۔

نصرت کے مطابق ،’میں نے بے دلی سے نوکری شروع کردی۔ اس وقت میری عمر انیس برس تھی۔ مجھے نوکری کے لیے جموں بھیجا گیا اور یہ پہلا موقع تھا جب میں گھر سے باہر گئی تھی‘۔

نصرت نے اپنا ٹرانسفر واپس سری نگر کروانے کی کوشش کی۔

نصرت کا کہنا ہے کہ ’سرکاری ملازمت میں میرا دل نہیں لگ رہا تھا اس لیے ایک سال بعد میں نے نوکری چھوڑ دی‘۔

نصرت جہاں

نصرت جہاں نے پھولوں کے بزنس سے کرئیر کا آغاز کیا تھا

سری نگر واپس آنے کے بعد نصرت خود کا بزنس کرنا چاہتی تھیں لیکن ان کا خاندان اس کے لیے تیار نہیں تھا۔

نصرت بتاتی ہیں کہ اس وقت کے سری نگر کے پرتشدد حالات ایک لڑکی کے لیے کاروباری شعبے میں قدم رکھنے کے بالکل موافق نہیں تھے۔

نصرت کہتی ہیں ’میں نے اپنے والدین کو بہت سمجھایا جس کے بعد انہوں نے مجھے پھولوں کا بزنس کرنے کی اجازت دی۔میری کمپنی سری نگر میں ہونے والی مختلف تقریبات میں پھولوں کی سجاوٹ کا کام کرتی تھی۔ یہ ایک نئے طرح کا بزنس تھا‘۔

پھولوں کا کاروبار شروع کرنے کے بعد اپنے پہلے آرڈر کے بارے میں نصرت بتاتی ہیں’ سب سے پہلے مجھے جو آرڈر ملا و ہ اٹل بہاری واجپئی کے لیے سٹیج کو پھولوں سے سجانے کا تھا اس وقت وہ سری نگر آئے تھے۔ میرے لیے یہ فخر اور خوشی کا دن تھا‘۔

انہوں نے بتایا کہ اہم تقریبات کی سجاوٹ کے لیے انہیں حکومت کی طرف سے اس جگہ کا داخلی پاس دیا جاتا تھا۔

لیکن یہ سب اتنا آسان نہیں تھا نصرت کے ایسی تقریبات میں جانے پر انہیں دھمکیاں ملنے لگیں۔

ان کا کہنا ہے’اس طرح کی اہم تقریبات میں میرے جانے پر لوگ مجھے آئی بی کا ایجنٹ سمجھنے لگے۔ مجھے اور میرے گھروالوں کو شدت پسندوں کی جانب سے دھمکیاں ملنے لگیں۔ میرے گھر والے ڈر گئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں یہ بزنس بند کردوں۔ اس کے بعد بڑی مشکل سے میں انہیں منایا کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے مجھے اپنا کام کرنے دیں‘۔

والدین کے کہنے پر سال دوہزار پانچ میں نصرت نے شادی کرلی ۔

شادی سے پہلے نصرت کے سسرال والوں نے ان کے بارے میں کافی تفتیش کی۔ شادی کے بعد بھی نصرت نے نہ صرف اپنا کاروبار جاری رکھا بلکہ دیگر کمپنیاں کھولیں۔ اور شادی کے بعد نصرت نہ صرف کام کرتی رہیں بلکہ انہوں اپنے کاروبار کو بڑھا بھی لیا.

سال 1999 میں جب نصرت نے اپنا کام شروع کیا تو ان کی سالانہ فروخت کی رقم پچاس لاکھ روپیے تھی جو اب بڑھ کر آٹھ کروڑ تک ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔