کولکتہ: اسلام مخالف فلم کے خلاف مظاہرہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 ستمبر 2012 ,‭ 13:11 GMT 18:11 PST
چننئی میں مظاہرین

چننئي میں امریکی قونصلیٹ کے سامنے مظاہروں کا منظر

بھارتی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں امریکہ میں بننے والی اسلام مخالف فلم کے خلاف ہزاروں لوگوں نے مظاہرہ کیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق شہر میں تقریبا بیس ہزار لوگوں نے امریکی سینٹر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا اور امریکہ سے معافی مانگنے کو کہا۔

مظاہروں کا اہتمام مسلم تنظیموں نے کیا تھا جس میں ’آل بنگال یوتھ فیڈریشن‘ جیسی نوجوانوں کی تنظیمیں بھی شامل تھیں۔

مظاہرین نے شہر کے چورنگی علاقے میں واقع امریکی سینٹر کے سکیورٹی حصار کو توڑنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں عمارت سے پہلے ہی روک دیا۔

اطلاعات کے مطابق مظاہرین اور پولیس میں اس دوران جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اس سے شہر دیگر علاقوں میں بھی ٹریفک کے نظام پر اثر پڑا اور کاروباری سرگریاں متاثر ہوئیں۔

جنوبی ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت چنئي کے بعد اس فلم کے خلاف کولکتہ میں یہ ایک بڑا مظاہرہ ہے۔

ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت چنئي میں واقع امریکی وقونصلیٹ کے سامنے پیغمبر اسلام پر بنی فلم کے خلاف کئی روز تک احتجاج ہوا تھا۔

چند روز قبل امریکہ نے پیغمبر اسلام پر فلم کے خلاف ہونے والے احتجاج کے پیش نظر بھارت کے شہر چنئی میں اپنے قونصلیٹ کا ویزا سیکشن دو روز کے لیے بند کر دیا تھا۔

علاقائی جماعت ’تمل ناڈو مسلم منیترا کزگم‘ کے کارکنان نے احتجاجی مظاہرہ شروع کیا تھا اور مظاہرین کے امریکی قونصلیٹ پر پتھراؤ کیا تھا۔

اس حملے میں سفارت خانے کی عمارت کی کچھ کھڑکیاں ٹوٹ گئی تھیں جس کے بعد سے پولیس نے عمارت کے آس پاس بھاری تعداد میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا ہے۔

بھارت میں اس فلم کے خلاف دوسرے ممالک کے مقابلے میں قدر کم احتجاج ہوا ہے لیکن جنوبی ریست تمل ناڈو کے بعد سری نگر اور کولکتہ میں اس کے خلاف لوگ باہر نکلے ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔