کشمیر: پنچایت بحران سے حکومت پریشان

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 ستمبر 2012 ,‭ 13:35 GMT 18:35 PST
کشمیر (فائل فوٹو)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پنچوں، سرپنچوں کے استعفی کے بعد سیاسی تعطل برقرار ہے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہزاروں پنچوں اور سرپنچوں کی سلامتی پر سیاسی ہنگامہ آرائی جاری ہے۔

حالیہ دنوں کشمیر میں پنچایتوں کے تین منتخب اراکین کا قتل ہوا ہے۔ اس سے قبل تمام وادی میں نامعلوم مسلح گروپوں کی طرف سے تحریری دھمکیوں سے خوف کی لہر پیدا ہوگئی تھی۔

جموں کشمیر میں کل تینتیس ہزار سات سو پچیس پنچ اور سرپنچ ہیں اور ان پنچایتوں میں وادی کے سولہ ہزار سے زائد ممبران شامل ہیں۔

پاکستان میں مقیم عسکریت پسندوں کے اتحاد جہاد کونسل نے پنچایت الیکشن کے بارے میں نرم موقف اختیار کیا تھا، لیکن اس سال کے آغاز سے پنچوں اور سرپنچوں کو دھمکیوں اور حملوں کا سامنا رہا ہے جس کے بعد ان کے اختیارات اور سیکورٹی کا معاملہ ایک سیاسی تنازعہ بن گیا ہے۔

حکومت یوں تو اعلان کرتی رہی ہے کہ نچلی سطح پر سرگرم ان سیاستدانوں کو سیکورٹی فراہم کی جائے گی، لیکن پولیس حکام کہتے ہیں کہ ایسا عملی طور ممکن ہی نہیں۔ رہا سوال اختیارات کا، تو اس پر حکومت نے ابھی کوئی قطعی فیصلہ نہیں لیا ہے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق ایک سال کے عرصے میں آٹھ سو سے زائد پنچایت کارکنوں نے استعفٰی کا اعلان کیا ہے۔ اس صورتحال سے خوف زدہ پنچائیت اراکین کا ایک نمائندہ وفد فی الوقت دلّی میں ہے جہاں وہ حکمران کانگریس کے رہنماؤں خاص طور پر راہل گاندھی سے ملاقات کی ہے۔

کانگریس کا گریز

"ہم راہل گاندھی کے ساتھ کل اور آج نشتوں کے کئی ادوار کرچکے ہیں۔ ہم وزیرداخلہ سے بھی ملے، ہم اپوزیشن رہنما اڈوانی سے بھی ملنے والے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر پنچوں اور سرپنچوں کو آئینی اختیارات اور سیکورٹی کون فراہم کرے گا۔ یہ کام تو ریاستی حکومت کو کرنا ہے، لیکن کانگریس براہ راست ریاستی حکومت کو حکم دینے سے گریز کررہی ہے"

خورشید ملک

اس وفد کے سربراہ خورشید ملک نے بی بی سی کو فون پر بتایا ’ہم راہل گاندھی کے ساتھ کل اور آج نشتوں کے کئی ادوار کرچکے ہیں۔ ہم وزیرداخلہ سے بھی ملے، ہم اپوزیشن رہنما اڈوانی سے بھی ملنے والے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر پنچوں اور سرپنچوں کو آئینی اختیارات اور سیکورٹی کون فراہم کرے گا۔ یہ کام تو ریاستی حکومت کو کرنا ہے، لیکن کانگریس براہ راست ریاستی حکومت کو حکم دینے سے گریز کررہی ہے۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر ہزاروں کی تعداد میں پنچوں اور سرپنچوں کی موجودگی کشمیر میں سیاسی فضا کو متاثر کرتی ہے۔ جس گروپ کے ساتھ جتنی زیادہ پنچایتیں ہیں، وہ اگلے الیکشن میں زیادہ ووٹ لے گا۔

ریاست میں حزب اختلاف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے چونکہ انہیں پنچایت الیکشن میں حکمران نیشنل کانفرنس کے مقابلے میں برتری حاصل ہے، لہٰذا ان کے ممبروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ متعدد اسمبلی ممبران اصرار کرتے رہے ہیں کہ پنچایتوں کو بااختیار نہ بنایا جائے۔

علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی اور خواتین کی تنظیم دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے استعفیٰ دینے والے پنچایت ممبروں کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان بیانات سے یہ بحران مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔

اسمبلی کے ممبر عبدالرشید شیخ کہتے ہیں’یہاں بہت ساری ایجنسیاں سرگرم ہیں۔ ابھی یہ پتہ نہیں کون (پنچایت ممبروں کو) مار رہا ہے۔ لیکن اگر حکومت کو یقین ہے کہ عسکریت پسند مار رہے ہیں تو انہیں اپیل کرنی چاہیے لیکن وہ ایسا نہیں کرسکتے کیوں کہ ان کے اپنے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔‘

عمر عبداللہ (فائل فوٹو)

عمر عبداللہ کشمیر کے وزیر اعلی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ گاؤں اور بستیوں کی سطح پر پنچایت ممبروں کو سرکاری سرمایہ خرچ کرنے کا اختیار دینے سے یہاں کے اعلیٰ افسر ، وزراء اور بعض اراکین اسمبلی خائف ہیں۔

کشمیر یونیورسٹی کے ایک محقق سُہیل احمد نے بتایا ’دیہی ترقی کے لیے حکومت ہند ہزاروں کروڑ روپے کی سکیمیوں کا اعلان کرچکی ہے۔ ان سکیموں پر پنچایتوں کے ذریعے ہی عمل ہونا ہے۔ کانگریس یہاں کی سیاست میں چونکہ ایک غیرمعروف تنظیم ہے، لہٰذا اس کی کوشش ہے کہ ان سکیموں کے ذریعہ وہ دیہی علاقوں میں حمایت حاصل کرے۔ اسی وجہ سے اختیارات کی بات ہورہی ہے۔‘

وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے عسکریت پسندوں کو ’بزدل‘ قرار دے کر کہا ہے ’اگر ان میں دم ہے تو مجھے قتل کریں۔‘

جہاد کونسل نے ابھی تک اس سلسلے میں کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے تاہم سید علی گیلانی نے ایک تلخ بیان میں کہا ہے کہ ’عمرعبدللہ کی سیاسی زندگی بھارتی افواج اور پولیس پر منحصر ہے۔ کسی کو انہیں مارنے کی ضرورت نہیں، جب ان کی سیکورٹی ہٹائی جائے گی ان کی خودبخود سیاسی موت ہوجائے گی۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔