گھی کھا کر دلتوں کا احتجاج

آخری وقت اشاعت:  پير 1 اکتوبر 2012 ,‭ 16:20 GMT 21:20 PST
چکواڑہ گاؤں

چکواڑہ گاؤں کے باشندوں کے لیے گھی کھانے کی چيز سے زیادہ احتجاج کا ایک ہتھیار ہے

بھارت میں صدیوں پہلے ایک فلسفی چارواک نے کہا تھا کہ قرض لے کر دیسی گھی پیو اور موج سے جیو لیکن کیا گھی کسی سماجی برائی کے خلاف احتجاج کرنے اور تبدیلی کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔

ریاست راجستھان کے ضلع جے پور کےگاؤں چکواڑہ کے دلت گزشتہ چھہتر برس سے چھوت چھات کے خلاف گھی کھاکر احتجاج رہے ہیں کیونکہ آزادی سے پہلے ایک بار دلتوں نے چکواڑہ میں ایک بڑی دعوت منعقد کی تو مبینہ طور پر اعلیٰ ذات سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے ان کی پٹائی کی اور ان کے سارے کھانے میں مٹی ملا دی تھی۔

تب سے لے کر آج تک چکواڑہ گاؤں کے لوگ احتجاج کے طور پر اپنے کھانے میں دیسی گھی کا استمعال کرتے ہیں۔

چکواڑہ میں ایک دلت بابو لال بیرواہ ماضی کے اس واقعہ کے بارے میں کہتے ہیں اس وقت اعلیٰ ذات کے لوگ بے حد خفا ہوئے اور دلتوں کے کھانے میں دیسی گھی کے استمعال کو اعلیٰ ذات کی توہین قرار دیا گيا کیونکہ وہ مانتے تھے کہ دیسی گھی کھانا صرف اعلیٰ ذات کا شوق ہوسکتا ہے اور اسے خرید بھی وہی سکتے ہیں۔

بابو لال مزید بتاتے ہیں ’اس وقت اعلیٰ ذات کے بعض افراد نے دعوت پر حملہ بول دیا اور کھانے میں مٹی ملا دی۔ دلتوں کی جم کر پٹائی کی گئی۔ اس وقت شاہی دور تھا۔ اس وقت جے پور کی ریاست نے دلتوں کی سنوائی کی اور اعلیٰ ذات کے ان افراد کے خلاف کارروائی بھی کی۔ لیکن دلتوں نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ کھانے میں دیسی گھی کا استمعال ضرور کریں گے۔‘

دلتوں کے فلاح کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن پی ایل میم روتھ کہتے ہیں کہ ’خود بی آر امبیڈکر نے اپنی ایک کتاب میں چکواڑہ کے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔‘

"س وقت اعلی ذات کے بعض افراد نے دعوت پر حملہ بول دیا اور کھانے میں مٹی ملا دی۔ دلتوں کی جم کر پٹائی کی گئی۔ اس وقت شاہی دور تھا۔ اس وقت جے پور کی ریاست نے دلتوں کی سنوائی کی اور اعلی ذات کے ان افراد کے خلاف کاروائی بھی کی۔ لیکن دلتوں نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ کھانے میں دیسی گھی کا استمعال ضرور کریں گے"

بابو لال

ہری شنکر بیروا ہندو نظریاتی تنظیم وشو ہندو پریشد کے ممبر تھے لیکن وہ اس واقعہ سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے ہندو تنظیموں کا ساتھ چھوڑ دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مہنگائی کتنی بھی ہو لیکن گھی کھانا اب دلتوں کی غیرت اور خود داری کا حِصّہ بن گیا ہے۔

واضح رہے کہ تقریباً نو برس قبل چکواڑہ گاؤں میں ایک تالاب سے ایک دلت کے پانی لینے پر اعلیٰ ذات والوں اور دلتوں کے درمیان بڑا جھگڑا ہوا تھا۔ اس واقعہ کے بعد گاؤں میں پولیس چوکی قائم کرنی پڑی تھی۔آج گا‎ؤں کے سبھی لوگ بغیر کسی ڈر کے اس تالاب سے پانی لیتے ہیں۔

گاؤں کے اعلیٰ ذات کے لوگ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ وہ دلتوں کو اچھوت سمجھتے ہیں۔

سماجی امور کے ماہر پروفیسر راجیو گپتا کہتے ہیں دراصل ہمارے سماجی رشتے اصل میں امن کے رشتے ہیں۔ گھی سے متعلق واقعہ کا مقصد دلتوں کی پہچان کو چوٹ پہنچانا تھا۔

وہ مزید کہتے ہیں آج چکواڑہ گاؤں میں گھی ہر دلت کے گھر میں کھایا جاتا ہے لیکن وہ ذائقے سے زیادہ ان کی خود داری کی مثال بن گيا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔