بھارت کے دلت گاندھی سے ناراض کیوں ؟

آخری وقت اشاعت:  پير 1 اکتوبر 2012 ,‭ 16:41 GMT 21:41 PST
مہاتما گاندھی

دلتوں کو لگتا ہے کہ گاندھی نے ان کے لیے جو کوششیں کی تھیں وہ تاریخی غلطیاں تھیں

انڈیا میں ’مہاتما‘ گاندھی کے بارے میں ایک ملیالم فلم کو سینسر بورڈ نے منظوری دینے سے انکار کردیا ہے کیونکہ فلم میں دلتوں کو گاندھی سے ناراض دکھایا گیا ہے اور اس میں ب‏عض ’متنازعہ‘ مناظر ہیں۔

ملیالم زبان میں بنی فلم ’پوپیلون بدھ‘ کو سینسر بورڈ سے منظوری نہ ملنے کے بعد یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ انڈیا میں بابائے قوم سجھے جانے والے موہن داس کرم چند گاندھی پر جب بھی تنقید کی جاتی ہے تو اسے برداشت سے باہر کیوں سمجھا جاتا ہے۔

سینسر بورڈ کا موقوف ہے کہ ’اس فلم میں گاندھی کی بے عزتی کی گئی ہے۔ ان کے پتلے کو جوتوں کا ہار پہنایا گیا ہے اور پھر اس پتلے کو جلایا گیا ہے۔ گاندھی کی اس طرح کی کردار کشی کو منظوری نہیں دی جاسکتی ہے۔‘

وہیں فلم کے ہدایت کار جئین چیرین کا کہنا ہے کہ ’گاندھی کی سوچ اور دلتوں کے لیے کام کر رہے سماجی کارکنان کے درمیان لمبے وقت سے اختلافات جاری ہیں اور ہم نے فلم میں اسی اختلاف کو دکھایا ہے۔‘

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ دلتوں کو ہریجن یعنی ’بھگوان کے بچوں‘ کا نام دینے والے مہاتما گاندھی سے خود دلت سماج کیوں ناراض ہے؟

دلتوں کو کیوں لگتا ہے کہ ان کے لیے گاندھی نے جو کوششیں کی تھیں وہ ’تاریخی غلطیاں‘ تھیں۔

"یٹوں میں رزرویشن سے دلتوں کو الیکشن میں جیت حاصل کرنے کا موقع تو ملتا ہے لیکن ووٹ ڈالنے والوں میں دلتوں کی تعداد کم ہونے سے وہ ہی دلت لیڈر منتخب کیے جاتے ہیں جو اکثریت کی پسند ہوتے ہیں"

ایس آنند

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ بھارت کی سیاست میں دلتوں کے لیے مخصوص سیٹیں دلانے کے پیچھے سنہ 1932 میں گاندھی کی ایک بھوک ہڑتال ہے۔ لیکن آج کے دور میں بھارتی دلت اسے گاندھی کی جانب سے کی گئی ’تاریخی‘ غلطی بتاتے ہیں۔

بھارت کی سیاست میں ووٹ ڈالنے کا سب کو حق ہے اور مخصوص نشستوں کے امیدوار کے لیے بھی ہر کوئی ووٹ دے سکتا ہے۔

لیکن دلتوں کے بارے میں کتابیں شائع کرنے والے ’نوین پرکاشن‘ کے ایس آنند کا کہنا ہے کہ ’سیٹوں میں رزرویشن سے دلتوں کو الیکشن میں جیت حاصل کرنے کا موقع تو ملتا ہے لیکن ووٹ ڈالنے والوں میں دلتوں کی تعداد کم ہونے سے وہ ہی دلت لیڈر منتخب کیے جاتے ہیں جو اکثریت کی پسند ہوتے ہیں۔‘

دراصل سیاست میں دلتوں کی نمائندگی بڑھانے کے لیے 1932 میں دلت لیڈر بی آر امبیڈکر نے الگ تجویز رکھی تھی جس کے تحت دلت اپنا لیڈر الگ سے منتخب کرسکتے تھے اور اس تجویز کو منظوری بھی مل گئی تھی۔ لیکن مہاتما گاندھی نے اس کی مخالفت کی اور اس کے خلاف بھوک ہڑتال کی اور آخرکار ان کی بات مان لی گئی۔

ایس آنند کہتے ہیں ’گاندھی اگر اس کی مخالفت نہ کرتے تو دس بیس برسوں میں ایک ایسا دلت لیڈر منتخب کیا جاتا جو دلتوں کے مفاد کے لیے کام کرتا۔ لیکن آج وہی دلت لیڈر منتخب ہوتے ہیں جنہیں اکثریت کی حمایت ہے اور انہیں دلتوں کے مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘

گاندھی نے دلتوں کو ’اچھوت‘ کہہ کر مخاطب کرنے کے خلاف بھی لڑائی لڑی اور ان کے لیے ’ہریجن‘ کا لفظ کا استمعال کیا۔

لیکن دلتوں کے لیڈر بابا صاحب امبیڈکر کی پوتی رما کے خاوند آنند تلتمبڑے کہتے ہیں کہ دلتوں کو ہریجن لفظ بالکل نا پسند ہے وہ اس لفظ کو گالی سمجھتے ہیں۔ اس لیے اب ہریجن عام استمعال کا لفظ نہیں رہا ہے۔

مہاتما گاندھی کی زندگی پر کتاب لکھنے والے بھیکو پاریکھ کہتے ہیں اس دور میں گاندھی کا یہ قدم بہت معنی رکھتا تھا۔

وہیں لورڈ پاریکھ کا ماننا ہے کہ ’آج کے دور میں ہریجن لفظ شاید غلط لگ رہا ہو ہو سکتا ہے آنے والے وقت میں دلت لفظ بھی غلط لگے‘۔

وہیں دلت امور کی ماہر گیل اومویڈیٹ کہتی ہیں ’مہاتما گاندھی خود کو دلتوں کا لیڈر سمجھتے رہے۔ اس سوچ کے ساتھ کہ دلت سماج ہندو سماج کا حِصّہ ہیں۔ لیکن دلتوں نے انہیں اپنا لیڈر نہیں سمجھا اور ہندوؤں سے الگ اپنی پہچان کی بات کرتے رہے۔‘

ایس آنند بھی اس سے اتفاق رکھتے ہیں اور کہتے ہیں تاریخ میں جو درجہ مہاتما گاندھی کو حاصل ہے وہ دلتوں کے لیے تحریک چلانے والے بابا صاحب امبیڈکر کو نہیں حاصل ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔