کشمیر میں پانچ درانداز ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 1 اکتوبر 2012 ,‭ 09:25 GMT 14:25 PST
کشمیر میں فوج کی فوٹو

چند روز قبل شمالی کشمیر کے ہندوارہ قصبہ میں ایسی ہی ایک جھڑپ کے دوران ایک فوجی اور دو عسکریت پسند مارے گئے تھے

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گاندربل کے جنگلات میں پانچ مسلح دراندازوں کو تصادم کےدوران ہلاک کیا گیا ہے۔

وادی میں تعینات بھارتی فوج کی پندرہویں کور نے پیر کو دعویٰ کیا کہ کشمیر کے شمال مشرقی جنگلات میں ایک طویل تصادم کے دوران پاکستان سے آئے پانچ مسلح دراندازوں کو ہلاک کیا گیا۔

فوج کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل ایچ ایس برار کے مطابق یہ تصادم وسطی ضلع گاندربل کے وانگت جنگلی علاقہ میں ایک پہاڑی بستی کے قریب ہوا۔

ترجمان کا کہنا ہے ’پاکستانی علاقہ سے پانچ مسلح درانداز آئے جنہیں وانگت کے قریب ایک جھڑپ کے دوران ہلاک کیا گیا۔ ہمیں شبہ ہے کہ یہ سب پاکستانی ہیں لیکن ابھی تک باقاعدہ شناخت نہیں ہوسکی ہے۔‘

واضح رہے کہ چند روز قبل شمالی کشمیر کے ہندوارہ قصبہ میں ایسی ہی ایک جھڑپ کے دوران ایک فوجی اور دو عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

مسلح تشدد میں اچانک اضافہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب وادی میں تیس ہزار سے زائد منتخب پنچائیت ممبروں کو اختیارات کی کمی کے ساتھ ساتھ سلامتی کے خطرات بھی درپیش ہیں۔ کئی پنچائیت ممبروں کو نامعلوم افراد نے ہلاک کردیا جس کے بعد آٹھ سو سے زائد پنچائیت ممبروں نے اخبارات کے ذریعہ استعفیٰ کا اعلان کیا۔

اس حوالے سے کانگریس کے جنرل سیکرٹری راہول گاندھی نے کشمیر کا دورہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور پنچائیت بحران کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعلیٰ نے فوج اور سرکاری افسروں کی ’یونیفائڈ کمانڈ‘ کا اجلاس بھی طلب کیا ہے۔

گاندربل کے واقعہ سے متعلق وہاں کے باشندوں نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج نے وانگت علاقہ کی کئی بستیوں کا محاصرہ کیا ہے۔

جائے واردات کے قریب ایک گاؤں مچ کنی کے رہنے والے عبداللہ خان نے بتایا ’ہمیں فوج نے کہا پانچ لوگوں کو دفن کرنے کا انتظام کرو۔ جھڑپ یہاں سے آٹھ کلومیٹر دوُر لاپھتری جنگل میں ہوئی ہے۔ ہمارے کچھ لوگوں کو وہاں لاشیں لانے کے لیے بھیجا گیا ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔