بھارتی جنرل پر قاتلانہ حملہ، تین گرفتار

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 5 اکتوبر 2012 ,‭ 00:48 GMT 05:48 PST

جنرل برار نے اس حملے کے لیے سکھ انتہاپسندوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے سابق بھارتی جنرل کلدیپ برار پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے سلسلے میں ایک خاتون سمیت تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس کے مطابق ان افراد کو لندن سے تقریبا ڈھائی سو کلومیٹر دور ویسٹ مڈ لینڈز کے علاقے میں حراست میں لیا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل( ر) برار پر چاقو سے یہ حملہ اتوار کو لندن میں اس وقت کیا گیا جب وہ نجی دورے پر وہاں گئے ہوئے تھے۔

لندن میں پولیس حکام نے اس کارروائی کو قاتلانہ حملہ قرار دیا تھا۔ اس حملے کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر حملہ نفرت کے نتیجے میں کیا جانے والا جرم تھا اور سکھ انتہا پسند اس حملے کے ذمہ دار ہیں۔

کلدیپ برار نے حملہ آوروں کے بارے میں بتایا کہ ’مجھے پورا یقین ہے کہ وہ سکھ تھے، ورنہ میری عمر 78 سال ہو گئی ہے، کوئی اور مجھے کیوں مارنا چاہے گا‘۔

خیال رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) کلدیپ سنگھ برار نے امرتسر کے گولڈن ٹمپل میں سنہ 1984 میں ہونے والی فوجی كارروائي کی قیادت کی تھی۔

سکھوں کے سب سے مقدس مقامات میں سے ایک گولڈن ٹیمپل میں پناہ لیے ہوئے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران درجنوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں جرنیل سنگھ بھنڈراوالا بھی تھے جن کی قیادت میں شدت پسند سکھوں کے لیے ایک الگ ریاست خالصتان کا مطالبہ کر رہے تھے۔

آپریشن بلیوسٹار کو تقریباً 30 سال ہو چکے ہیں لیکن جنرل(ر) برار کو اب بھی بھارت میں سخت ترین ’زیڈ‘ سکیورٹی دی جاتی ہے تاہم جب وہ بیرونِ ملک ہوتے ہیں تو عام طور پر ان کے ساتھ سکیورٹی اہلکار موجود نہیں ہوتے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔