دلی میں پانچ افراد کو سزائے موت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 5 اکتوبر 2012 ,‭ 12:35 GMT 17:35 PST

غیرت کے نام پر بھارتی دارالحکومت دلی کے سوروپ نگر کے اسی گھر میں قتل ہوا تھا۔

بھارت کی ایک عدالت نے ایک نوجوان جوڑے کو تشدد کرکے قتل کرنے کے مقدمے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کو موت کی سزا سنائی ہے۔

بھارتی دارالحکومت دہلی میں سنہ دو ہزار دس میں قتل کا یہ معاملہ پیش آیا تھا جس میں نوجوان جوڑے آشا اور یوگیش کو آشا کے گھر والوں نے قتل کر دیا تھا۔

دلی کے ایڈیشنل شیشن جج رمیش کمار نے جمعہ کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہیمانہ قتل تھا‘ اور یہ کہ اس جرم نے عدالت کے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ ’انتہائی مختلف قسم کے معاملوں‘ میں شامل ہے اس لیے ان لوگوں کو ‎‎سزائے موت سنائی جا رہی ہے۔

یوگیش اور آشا کو آشا کے گھر کے افراد نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر اذیتیں اور بجلی کے جھٹکے دے کر قتل کر دیا تھا۔ انھیں ذات پات کی بنیاد پر آشا اور یوگیش کے تعلقات پر اعتراض تھا۔

آشا کے والدین، اس کے چچا، چچی اور چچازاد بھائی کو قتل کے اس معاملے کے بعد حراست میں لے لیا گیا تھا۔

گذشتہ سال بھارت کی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ غیرت کے نام پر کیے جانے والے قتل کے جرم میں سزائے موت دی جانی چاہیے۔

ملک میں غیرت کے نام پر کیے جانے والے قتل کا علیحدہ سے کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا ہے لیکن حال ہی میں کی گئی ایک ریسرچ سے یہ پتہ چلا ہے کہ ہر سال سینکڑوں افراد غیرت اور ناموس کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں کیونکہ وہ محبت میں گرفتار ہوکر اپنے گھر والوں کی مرضی کے خلاف شادی کرنا چاہتے ہیں۔

غیرت کے نام پر قتل

"عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ملزمین ہی مہلوکین کے قتل کے ذمہ دار ہیں اور استغاثہ نے اس بات کو ثابت بھی کر دیا ہے کہ انھوں نے ایک ہی مقصد کے تحت بے رحمی کے ساتھ ان کی پٹائی کی اور انھیں رسی سے باندھا اور پھر جسم کے متعدد حصوں پر بجلی کا جھٹکا دیکر انہیں مار ڈالا"

ایڈیشنل شیشن جج رمیش کمار

بھارت میں زیادہ تر والدین اپنی ہی ذات اور برادری میں طے کی گئی شادیوں کو پسند کرتے ہیں جبکہ ذات کے باہر کسی قسم کے رشتے پر ان کی بھویں تن جاتی ہیں۔

دہلی کے شمال مشرقی علاقے گوکول پوری میں آشا اور یوگیش کو آشا کے والدین ان کے چچا کے گھر سوروپ نگر لے گئے جہاں ان دونوں کو اذیتیں دی گئیں اور انہیں قتل کر دیا گیا۔

آشا کے اہل خانہ ان دونوں کے شادی کرنے کے منصوبے کے خلاف تھے کیونکہ ان کے مقابلے میں یوگیش کا تعلق نچلی ذات سے تھا۔

ان پانچ افراد کو سوموار کو قتل اور ایذائیں دینے کا مرتکب پایا گیا تھا۔

سوموار کو رمیش کمار نے کہا تھا کہ: ’عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ملزمین ہی قتل کے ذمہ دار ہیں اور استغاثہ کے وکیلوں نے اس بات کو ثابت بھی کر دیا ہے کہ انھوں نے ایک ہی مقصد کے تحت بے رحمی کے ساتھ ان کی پٹائی کی اور انھیں رسی سے باندھا اور پھر جسم کے متعدد حصوں پر بجلے کے جھٹکے دیکر انہیں مار ڈالا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔