برِصفیر کی نفرت انگیز سیاست کا یہ بھی ایک پہلو ہے

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 6 اکتوبر 2012 ,‭ 11:21 GMT 16:21 PST

تیرہ برس قبل انہیں دنوں کی طرح موسم اچھا تھا۔ فضا بالکل صاف تھی ا وربحر ہند کی لہریں پر سکون تھیں۔ مچھلیاں پکڑنے کے لیے موسم بہت سازگار تھا۔ کراچی کے ساحل سے نواز علی، عثمان ساچو، زمان جاٹ اور عثمان جاٹ اپنی چھوٹی سی کشتی پر سوار ہوکر مچھلیاں پکڑنے گہرے سمندر کی طرف نکل پڑے۔

شکار کرتے کرتے چاروں ماہی گیر بین الاقوامی سمندر میں اپنی ملک کی آبی سرحدوں سے کافی دور نکل آئے۔ حد نظر تک صرف آسمان اور سمندر کی لہریں نظر آتی تھیں۔ اچانک موسم بدل گیا، سمندر کی لہریں غضبناک ہو اٹھیں۔ ان کی کشتی ایک سمندری طوفان کی زد میں تھی۔ کچھ دیر میں طوفان تھم گیا، سمندر کی لہریں ایک بار پھر پر سکون ہو گئیں۔ خوفزدہ ماہی گیر زندہ بچ جانے کے لیے خدا کا شکر ادا کر رہے تھے۔ ان کی کشتی طوفانی لہروں کے تھپیڑوں سے بہت دور نکل آئی تھی۔ لیکن وہاں اس سے بھی بھیانک طوفان ان کا منتطر تھا۔ یہ واقعہ 1999 کا ہے۔

تیرہ بر بعد، ان میں سے ایک ماہی گیر نواز علی کی لاش 8 ستمبر کو بھارت کی ایک جیل سے کراچی بھجی گئی ہے۔ باقی تینوں ماہی گیروں کے بارے میں صرف اندازہ ہے کہ وہ گجرات کے شہر راجکوٹ کی جیل میں مقید ہیں۔ ان سبھی کو بھارتی بحریہ نے بھارتی سمندر میں داخل ہونے جرم میں گرفتار کیا تھا۔

پچھلے تیرہ برس سے یہ غریب ماہی گیر بھارت کی کسی جیل میں قید ہیں۔ پچھلے تیرہ برس میں نہ تو پاکستان کی حکومت نے ان کے بارے میں کچھ جاننے کی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی بھارتی حکومت نے بین الاقوامی ضابطوں کی پاسداری کرتے ہوئے ان ماہی گیروں کے اہل خانہ یا متعلقہ حکام کو کوئی خبر دی۔

بھارت، پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے ماہی گیر عموماً معاشرے کے غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان ملکوں کی سیاست نے ماہی گیری کو ایک پر خطر پیشے میں بدل دیا ہے۔

یہ اعزاز ضرور حاصل ہے

پچھلے پچاس برسوں میں پاکستان اور بھارت کی بحریہ نے بھلے ہی کچھ نہ کیا ہو لیکن ہر مہینے کھلے سمندر سے ایک دوسرے کے پندرہ بیس ماہی گیر پکڑ کر لانے کا اعزاز انہیں ضرور حاصل ہے۔ سری لنکا کی بحریہ ایک قدم آگے نکل گئی ہے۔ اب وہ ماہی گیروں کو کھلے سمندر میں ہلاک کرنے اور ان کی کشتیوں پر گولہ باری کرنے جیسے کارنامے بھی انجام دینے لگی ہے۔

پچھلے پچاس برسوں میں پاکستان اور بھارت کی بحریہ نے بھلے ہی کچھ نہ کیا ہو لیکن ہر مہینے کھلے سمندر سے ایک دوسرے کے پندرہ بیس ماہی گیر پکڑ کر لانے کا اعزاز انہیں ضرور حاصل ہے۔ سری لنکا کی بحریہ ایک قدم آگے نکل گئی ہے۔ اب وہ ماہی گیروں کو کھلے سمندر میں ہلاک کرنے اور ان کی کشتیوں پر گولہ باری کرنے جیسے کارنامے بھی انجام دینے لگی ہے۔

یہ غریب اور عام طور پر ناخواندہ ماہی گیر سمندر میں ان ملکوں کی بحریہ کا کس جگہ شکار بنتے ہیں وہ صرف بحریہ والے جانتے ہیں اور جس کی کوئی جوابدہی نہیں ہوتی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جب سمندر سے انہیں ساحل پر لایا جاتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ انسان نہ ہوں۔

کچھ عرصے سے ان ماہی گیروں کا استعمال ’بارٹر ٹریڈ‘ کے طور پر بھی ہونے لگا ہے۔ جب بھارت اور پاکستان کی حکومتیں یہ دکھانے کی کوشش کرتی ہیں کہ ان کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں تو دونوں ممالک ایک دوسرے کے تیس پینتیس ماہی گیر قید سے رہا کر دیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ’اعتماد سازی‘ کے قدم کے طور پر جب تک ان کی رہائی عمل میں آتی ہے تب تک اتنے ہی دوسرے ماہی گیر پھر پکڑ لیے جاتے ہیں۔

یہ چونکہ غریب ہیں ناخواندہ ہیں اور ان کی گرفتاری یا موت سے کسی پر کوئی فرق نہیں پڑتا اس لیے حکومتیں نہ تو انہيں قانونی مدد فراہم کرتی ہیں، نہ ہی ان کے گھر اور ان کی حکومت کو ان کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے سفارتخانوں کو ان میں کوئی دلچسپی ہوتی ہے۔

نواز علی 1999 میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے کراچی کے ساحل سے روانہ ہوا تھا۔ تیرہ برس تک وہ قید میں رہا اور قید میں ہی اس کی موت ہو گئی۔

برِصفیر کی نفرت انگیز سیاست کا یہ بھی ایک پہلو ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔