سونیا گاندھی کے داماد پر بدعنوانی کا الزام

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 6 اکتوبر 2012 ,‭ 05:59 GMT 10:59 PST

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف تحریک چلانے والی تنظیم ’انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ نے حکمران جماعت کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے داماد پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ’مشتبہ نوعیت کے لین دین‘ سے تین سو کروڑ روپے کی جائیداد حاصل کی ہے۔

تنظیم کے دو اہم رہمنا اروند کیجریوال اور پرشانت بھوشن نے ایک نیوز کانفرنس میں سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کے تمام لین دین کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کہ رابرٹ واڈرا نے سنہ دو ہزار سات اور اس کے بعد پانچ کمپنیاں قائم کیں جن کی مجموعی مالیت پچاس لاکھ روپے تھی۔

ان کے بقول ان کمپنیوں کی آمدنی کا کوئی جائز ذریعہ نہیں تھا اس کے باوجود تین برس میں ان کمپنیوں نے تین سو کروڑ روپے کی املاک بنائیں جن ان کی مالیت اب پانچ سو کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے پریانکا گاندھی کے شوہر رابرٹ واڈرا نے تین سو کروڑ روپے کی جو املاک خریدی ہیں ان کی بہت کم قیمت بتائی گئی ہے۔

تنظیم کے مطابق ان املاک کی خریداری اس رقم سے کی گئی جو واڈرا کو ایک تمعیراتی کمپنی نے بغیر سود کے قرض کے طور پر دی تھی اور یہ قرض اس وقت پینسٹھ کروڑ روپے کا تھا۔

تنظیم کا الزام ہے یہ اس کمپنی سے یہ لین دین ’مشتہ نوعیت‘ کا ہے جس کی تحیق ہونی چاہیے۔

بدعنوانی کے خلاف تحریک چلانے والی تنظیم نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ یہ املاک برابرٹ واڈرا نے کانگریس کے اقتدار والی ریاستوں یعنی راجستھان، ہریانہ اور دلی میں حاصل کی ہیں۔

سونیا کے خلاف مہم

اروند کیجریوال اور پرشانت بھوشن نے گاندھی خاندان سے متعلق کسی شخص پربدعنوانی کا براہ راست الزام ایک ایسے وقت میں عائد کیا ہے جب گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے کانگریس کی صدرر سونیا گاندھی کے خلاف ذاتی نوعیت کی مہم چھیڑ رکھی ہے۔

دوسری جانب تعمیراتی کمپنی ڈی ایل ایف نے ایک بیان میں کیجریوال کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ واڈرا سے تما م لین دین پوری شفافیت کے ساتھ کیے گئے اور اس عمل میں بزنس کے تمام اصولوں کی پاسداری کی گئی ہے۔‘

کانگریس نے ان الزامات کو ’بدترین نوعیت کی سیاسی مداری‘ قرار دیا ہے جبکہ دلی کی ریاستی حکومت نے بدعنوانی مخالف تنطیم کے الزام کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ الزام کہ دلی حکومت نے ڈی ایل ایف کو کبھی زمین الاٹ کی غلط ، گمراہ کن اور بد نیتی پرمبنی ہے۔‘

بھارت کی اپوزیشن جماعت بی جے پی نے یہ مطالبہ کیا ہے لوگوں کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ واڈرا کے کاروبار کی نوعیت کیا ہے۔

دلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ اروند کیجریوال اور پرشانت بھوشن نے گاندھی خاندان سے متعلق کسی شخص پربدعنوانی کا براہ راست الزام ایک ایسے وقت میں عائد کیا ہے جب گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے کانگریس کی صدرر سونیا گاندھی کے خلاف ذاتی نوعیت کی مہم چھیڑ رکھی ہے۔

مو دی نے گزشتہ دنوں یہ الزام عائد کیا تھا کہ سونیا گاندھی کے غیر ممالک کے سفر پر تین برس میں دو ہزار کروڑ روپے سرکاری خزانے سے صرف کیے گئے ۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جمعہ کی رات جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے سونیا گاندھی کے غیر ممالک کے دورے پر اب تک صرف تین لاکھ روپے حکومت نے خرچ کیے ہیں جب وہ بیلجیم حکومت کی دعوت پر ایک پرو گرام میں شرکت کے لیے بروسلزگئی تھیں۔

اس سے قبل ملک کے انفارمیشن کمیشن نے بھی مودی کے اس الزام کی نفی کی تھی کہ سونیا گاندھی کا امریکہ میں علاج سرکاری خرچ سے ہوا تھا۔ اگرچہ سونیا گاندھی سرکاری خرچ سے اپنا علاج کرانے کی مجاز ہیں لیکن انہوں نے سارے اخراجات خود ادا کیے تھے۔

حکمراں کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ حزب اختلاف اس قدر گھبرائی ہوئی ہے کہ وہ اب سیاست کرنے کے بجائے افواہیں پھیلانے پر اتر آئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔