’ریپ سے بچاؤ کے لیے شادی کی عمر کم کریں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 8 اکتوبر 2012 ,‭ 12:15 GMT 17:15 PST
کھاپ پنچایت کی ایک فائل فوٹو

ہریانہ کی کھاپ پنچایت اکثر اپنے متنازعہ فرمانوں کی وجہ سے سرخیوں میں رہتی ہے

ریاست ہریانہ میں گزشتہ دنوں میں ریپ کے کئی معاملات سامنے آنے کے بعد وہاں کی جاٹ برادری کی کھاپ پنچایت نے مشورہ دیا ہے کہ مسئلہ کے حل کے لیے شادی کی عمر سولہ برس کردی جائے۔

اپنے عجیب و غریب فیصلوں کے لیے بدنام ہریانہ کی کھاپ پنچایتیں اپنے نئے فیصلے کی وجہ سے ایک بار پھر سے تنازعات میں گھر گئی ہے۔ حالانکہ ہریانہ کی دیگر کھاپ پنچایتوں نے اس تجويز کو مسترد کر دیا ہے۔

آل انڈیا جاٹ مہا سبھا کے ریاستی صدر اوم پرکاش مان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ ریپ اور بھاگ کر شادی کرنے کے معاملات پر روک لگانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ لڑکے لڑکیوں کی شادی سولہ برس کی عمر میں کردی جائے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت فحش فلموں اور ویب سائٹس پر پابندی لگائے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا سولہ برس شادی کے لیے بہت کم عمر نہیں ہے اور یہ عمر تو تعلیم حاصل کرنے کی ہوتی ہے ان کا کہنا تھا ’ہمارے یہاں کے نوجوان بچے کالج میں ہاتھ پکڑ کر گھومنے کے لیے جاتے ہیں اور وہاں سے بھاگ کر شادی کرلیتے ہیں‘۔

ان کا مزید کہا تھا ’ آپ کو نہیں لگتا کا کہ اس سے اچھا یہ ہوگا کہ ان نوجوان بچوں کی سولہ برس کی عمر میں شادی کردینی چاہیے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے بھارت میں ایسا ہی تو ہوتا تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ شادی کی عمر کم کرکے سولہ برس کردی جائے۔

واضح رہے کہ فی الوقت بھارت میں قانونی طور پر شادی کے لیے لڑکیوں کی عمر اٹھارہ اور لڑکوں کی اکیس برس ہونی ضروری ہے۔

ہریانہ کی جاٹ برادری کی کھاپ نے اپنا فیصلہ سنا تو دیا ہے لیکن اس بارے میں نہ تو دیگر کھاپ اور نہ ہی دیگر سماجی حلقوں سے انہیں کوئی حمایت حاصل ہوتی نظر آ رہی ہے۔

قواتین کے قومی کمیشن کی سابق سربراہ گریجا ویاس کا کہنا ہے’ اس تجویز میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ سولہ برس کی عمر میں تو عورت جسمانی طور پر شادی کے قابل نہیں ہوتی ہے۔ مردوں کے لیے اکیس برس شادی کے لیے صحیح عمر ہے کیونکہ وہ ذمہ دار ہوگا تبھی تو شادی کرے گا‘۔

واضح رہے کہ ہریانہ میں گزشتہ ایک ماہ میں ریپ کے بارہ سے زیادہ معاملات سامنے آئے ہیں اور حکومت اس بارے میں کوئی بھی سخت قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔