’مصیبت کے مارے، بھارت کے سہارے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 12 اکتوبر 2012 ,‭ 12:17 GMT 17:17 PST
ہندو مظاہرین راجستھان کے دارالحکومت میں

ہندو پناہ گزینوں نے راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں جمعہ کو مظاہرہ کیا۔

پاکستان سے بھارتی ریاست راجستھان میں پہنچنے والے پاکستانی ہندوؤں کے ایک گروپ نے بھارت میں پناہ لینے کے لیے راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں ریاستی اسمبلی کے سامنے جمعہ کو مظاہرہ کیا ہے۔

جے پور میں بی بی سی کے نامہ نگار نارائن باریٹھ نے بتایا کہ ہندوؤں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیمانت لوک سنگھٹن (ایس ایل ایس) کے صدر ہندو سنگھ سودھا نے اس مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ دور دراز کے علاقے سے آئے ہیں اور بھارتی شہریت کے خواہاں ہیں۔

جلوس کی شکل میں مظاہرین نے جے پور کی سڑکوں پر گشت کیا اور وہ یہ نعرہ ’ہم مصیبت کے مارے ہیں، بھارت کے سہارے ہیں‘ لگاتے ہوئے سنے گئے۔

یہ ہندو مظاہریں ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے اور انھوں نے سہکر بھون سے ریاستی اسمبلی تک مارچ کیا اور اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا۔

اس گروپ کے رہنما سودھا نے کہا: ’یہ دیکھ کر کافی افسوس ہوتا ہے کہ حکومت ان کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے۔ یہ ہندو برصغیر کے سب سے زیادہ ستم رسیدہ ہیں۔‘

واضح رہے کہ پاکستان سے آنے والے ہندوؤں کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایس ایل ایس ان کے لیے بھارت کی شہریت کا مطالبہ کرتے ہیں، وہ نئی ویزہ فیس میں بھی کمی چاہتے ہیں کیونکہ وہ اتنی زیادہ کہ عام پاکستانی ہندو اس کی ادائیگی سے قاصر ہے۔

خوفناک خواب

"ہندوؤں کے لیےسندھ کسی خوفناک خواب سے کم نہیں کیونکہ وہاں عورتیں اور لڑکیوں کو اغوا کر لیا جاتا ہے اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ جب ہم کھیتوں میں کام کرتے ہیں تو ہمیں مناسب اجرت بھی نہیں ملتی ہے"

کھیما بائی

سودھا نے کہا کہ ایس ایل ایس بھارتی شہریت حاصل کر نے کی مدت کو بھی سات سال سے کم کرکے پانچ سال کی مانگ کر رہی ہے۔

اس مظاہرے میں پاکستان سے آنی والی ہندو خواتین نے بھی شرکت کی اور اپنی روداد سنائی۔ ایسی ہی ایک خاتون کھیما بائی ہیں انھوں نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا: ’ہندوؤں کے لیےسندھ کسی خوفناک خواب سے کم نہیں کیونکہ وہاں عورتیں اور لڑکیوں کو اغوا کر لیا جاتا ہے اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ جب ہم کھیتوں میں کام کرتے ہیں تو ہمیں مناسب اجرت بھی نہیں ملتی ہے۔‘

حیدرآباد سے ہجرت کرکے آنے والی چیتن نے کہا: 'آپ ہمیں یہاں مار ڈالو لیکن ہم پاکستان واپس نہیں جائیں گے۔ ہماری بیٹیاں وہاں محفوظ نہیں ہیں۔ ان کا اغوا کر لیا جاتا ہے اورزبردستی ان سے مذہب تبدیل کرایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمیں لاٹین بھی جلانے کا حق نہیں ہے۔

ایس ایل ایس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہندو یا تو دلت ہیں یا پھر بھیل قبیلے سے آتے ہیں

سماجی کارکن کویتا نے ان کی حالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان ہندوؤں کی پناہ، خوراک اور تحفظ فراہم کرے۔ یہ عالمی انسانی حقوق کا حصہ ہے اور بات افسوس ناک ہے کہ بھارت نے انھیں بغیر سہارے چھوڑ دیا ہے۔'

ایس ایل ایس کا کہنا ہے کہ ابھی جودھپور کیمپ میں کل تین سو پچپن ہندو پناہ گزین ہیں۔ تنظیم کے مطابق راجستھان میں کل ساتھ ہزار ہندو رہ رہے ہیں جو بھارتی شہریت چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت پاکستان کے درمیان چلنے والی تھر ایکسپریس ہر ہفتے دس سے بیس ایسے پاکستانی ہندو کولاتی ہے جو پاکستان واپس جانا نہیں چاہتے ہیں

بھارت نے دو ہزار پانچ میں تیرہ ہزار پاکستانی ہندوؤں کو شہریت دی تھی اور شہریت کے متعلق قوانین میں نرمی بھی برتی ہے۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان بار بار یہ کہتی رہی ہے کہ ملک میں اقلیتیں خاص طور پر ہندو پوری طرح محفوظ ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔