بیچارے سیاست دانوں کے پھر برے دن

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 13 اکتوبر 2012 ,‭ 12:18 GMT 17:18 PST
سلمان خورشید

سلمان خورشید اور ان کی اہلیہ پر ایک ٹرسٹ کے خزانے میں گھپلہ کرنا کا الزام ہے

بھارت میں تقربیا ڈیڑھ برس قبل انا ہزارے اور اروند کیجریوال نے جب بدعنوانی کے خلاف اپنی تحریک شروع کی تو ان کے نشانے پر ملک کی سیاسی جماعتیں اور پورا سیاسی نظام تھا ۔ بدعنوانی سے تباہ حال عوام نے اس تحریک کی زبردست حمایت کی ۔

چند دنوں قبل اسی مہم کے تحت اروند کیجروال نے سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کی دولت کے بارے میں کچھ چھبتے ہوئے سوالات اٹھائے۔

کیجریوال نے پوچھا کہ واڈرا کے پاس2007 میں جب صرف پچاس لاکھ روپے کے اثاثے تھے اور ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا تو کس طرح تین برس میں وہ تین سو کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک بن گئے۔

اس طرح کے سوالات پوچھنے کی ایسی کوئی خاص ضرورت تھی نہیں ۔ عوام کو اچھی طرح معلوم ہے کہ سیاسی رہنما اوران کے گھر والوں کو سیاست کے ساتھ ساتھ بزنس کا بھی اچھا گر آتا ہے۔

پچھلے دنوں مرکزی وزیر سلمان خورشید اور ان کی اہلیہ پر الزام لگا کہ جسمانی معذوروں کی فلاح کے لیے جو این جی او وہ چلاتے ہیں اور جس کے لیے حکومت سے انہیں کروڑوں روپے ملےان کا استمعال استعمال معذوروں پر نہیں ہوا ۔ سلمان خورشید ابھی تک رابرٹ واڈرا کا دفاع کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ اب خود اپنے لینے کے دینے پڑ گئے ہیں ۔ کافی مشکل میں ہیں سلمان صاحب ۔

اروند کیجریوال کی بد عنوانی مخالف تحریک پر کانگریس اکثر یہ الزام لگاتی رہی ہے وہ بی جے پی حامی ہے ۔

اب پتہ چلا ہے کہ کیجریوال آئندہ پیر کو بی جے پی کے صدر نیتن گڈکری کے بارے میں کچھ انکشاف کرنے والے ہیں ۔ بی جے پی کے حلقون میں اس خبر سے کافی بے چینی پھیلی ہوئی ہے ۔

آج بعض اخبارات میں صفحۂ اول پر ایک تصویر شائع ہو‏‏ئی ہے جس میں ایک شاہراہ پر ٹول چوکی پر مقررہ اسی روپے مانگے جانے پر ایک رکن پارلیمان کو ایک آٹو میٹک کاربائن بندوق نکال کر ٹول مانگنے والے اہلکار کی طرف بڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ یہ بندوق بھی غیرقانونی ہے ۔

سیاست داں اور سیاسی نظام ایک بار پھر بری خبروں کا محور بنے ہوئے ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما عصری حقیقتوں سے پوری طرح کٹے ہوئے ہیں۔ ان کا طریقۂ کار، سوچنے کا انداز اور روش پرانی ہے۔ عوام کی تمناؤں اور امنگوں اور سیاسی رہنماؤں کی سوچ اور کام کرنے کے طریقے میں زبردست خلیج پیدا ہو گئی ہے ۔

یہ میڈیا کا دور ہے اور بھارت کے تھکے ہوئے سیاست داں اس صورتحال کا مقابلہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ بھارت میں پہلی بار سیاسی برادری کمزور ہوئی ہے اسی لیے وہ آج ہر کسی کے نشانے پر ہے ۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔