بھارتی شادیوں میں کھانے کا زیاں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 14 اکتوبر 2012 ,‭ 09:52 GMT 14:52 PST
بھارت میں دلہن

بھارت میں شادی میں بڑی سطح پر اخراجات عام بات ہے

بھارت میں شادیاں بہت دھوم دھام سے منائی جاتی ہیں۔ لوگ پوری کوشش کرتے ہیں کہ شادی میں خوب سجاوٹ کی جائے، باراتیوں کے استقبال میں کوئی کمی نہیں ہو اور کھانے کی تو بات ہی کیا۔ شادی پر رقم ہونے والی رقم کا ایک بڑا حصہ کھانے پر خرچ کیا جاتا ہے۔

لیکن یہی شادی کا کھانا کہیں مصیبت کی جڑ تو نہیں بنتا جارہا ہے؟

بنگلور میں واقع یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنس نے ایک تحقیق کی ہے جس میں پتہ چلا ہے کہ بھارت میں شادیوں میں بہت سارا کھانا ضائع ہوتا ہے۔

یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے بنگلور شہر میں ہونے والے پچھہتر شادیوں کا چھ ماہ تک جائزہ لیا اور تقریب میں موجود رہ کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ شادی میں کتنا کھانا برباد ہوتا ہے۔

تحقیق میں پایا گیا کہ صرف بنگلور میں ہونے والی شادیوں میں ہر برس تقریبا نو سو پچاس ٹن غذائی اشیاء ضائع ہوتی ہیں۔

یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنس کے وائس چانسلر کے نارائن گوڑا نے بتایا، ’بنگلور میں تقریباً پانچ سو تیس میرج ہال ہیں جہاں ایک جائزے کے مطابق ہر برس تقریبا اسی ہزار شادیاں ہوتی ہیں۔ ہر شادی میں اوسطا ایک تہائی کھانا ضائع ہوتا ہے اور اگر شخص کے کھانے کی قیمت چالیس روپے بھی لگائیں تو سال میں تین سو انتالیس کروڑ روپے کا کھانا شادیوں میں برباد ہوتا ہے‘۔

ڈاکٹرگوڑا کہتے ہیں کہ شادیوں میں کھانے کے زیاں پر قابو پانے کے لیے لوگوں میں بیداری پھیلانے کی ضرورت ہے اور حکومت کو اس کے لیے ایک قانون بنانا چاہیے۔

عالمی خوراک کی پیداوار پر ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں بہتر اقتصادی ترقی کے باوجود فاقہ کشی سے نمٹنے کی رفتار بہت سست ہے۔

فاقہ کشی کے اہم مسئلے سے نمٹنے میں بھارت اپنے پڑوسی ممالک پاکستان اور سری لنکا سے بھی پیچھے ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔