’بجلی ملک کے لیے، بیماری ہمارے لیے‘

آخری وقت اشاعت:  پير 15 اکتوبر 2012 ,‭ 08:28 GMT 13:28 PST
گاؤں کی فوٹو

سوندبھدر کے گھر گھر میں بے روزگاری اور غریبی ہے

بھارت کی ریاستیں اترپردیش اور مدھیہ پردیش کے درمیان سونبھدر اور سنگرولی دو ایسے علاقے ہیں جو بجلی کی پیدوار کرنے کے باوجود اندھیرے میں ڈوبے ہیں اور وہاں کے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

’توانائی کے دارالحکومت‘ کہے جانے والے اس علاقے میں ہر گھنٹے دس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاتی ہے اور یہ علاقے ملک کی بجلی کی پیداوار میں دس فی صد سے زیادہ کی حصہ داری رکھتے ہیں۔

سونبھدر کا یہ علاقہ ایشیا میں تجارت کے اعتبار سے اہم ہے لیکن یہاں ہر گھر میں بے روزگاری، بدحالی اور بیماری ہے۔

کوئلہ کانوں کی کالکی اور بجلی کے کارخانوں کی راکھ میں ڈوبی ایسی ہی ایک اندھیری بستی میں جب ہم پہنچے تو ہماری ملاقات پچپن سالہ سنیتا سے ہوئی جو گزشتہ پندرہ برسوں میں کبھی اپنے گھر سے باہر نہیں نکلی ہیں۔ ہاتھ پیروں سے معذور سنیتا کے پانچ افراد پر مشتمل خاندان میں چار افراد معذوری کا شکار ہیں۔

لرزتے ہاتھوں سے مائیک پکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے سنیتا نے کہا ’یہ علاقہ کبھی بہت زرخیز ہوا کرتا تھا۔ میری شادی ہوئی تو سب نے کہا میں یہاں بہت عیش کروں گی۔ لیکن چالیس برس کی عمر ہوتے ہوتے میرے ہاتھ پیر بے جان ہونے لگے۔ تب سے میں صرف بیٹھ کر ہی چل پاتی ہوں۔ بیٹا ہوا تو یہ احساس ہوا کہ بڑھاپے میں سہارا بنے گا لیکن اس کے ہاتھ پاؤں تو بچپن سے ہی بیکار ہیں۔ کسی طرح اس کی شادی ہوئی تو اب پوتے کے پیر ٹیڑھے ہونے لگے ہیں۔‘

بجلی کے کارخانوں سے نکلنے والے فلورائڈ کی وجہ سے علاقے میں معذوری پھیل رہی ہے۔

سنیتا اپنے خاندان

سنیتا معذوری کا شکار ہیں اور معاشی تنگی ان کی پریشانی مزید بڑھا دیتی ہے

سونبھدر اور سنگرولی صنعتی علاقے کے تقریباً سو کلومیٹر کے دائرے میں شاید ہی کوئی گاؤں، کوئی علاقہ ایسا ہو جہاں ہر گلی محلے میں بچے اور بوڑھے رینگتے، لاٹھیوں کے سہارے نہ چلتے ہوئے نظر آئیں۔

پانی میں فلورائڈ کی موجودگی لوگوں کے جسم کی ہڈیوں کو نشانہ بناتی ہے۔

پاس کے علاقے رینوکوٹ میں سرکاری ڈاکٹر راجیو رنجن کہتے ہیں ’لوگ ہینڈ پمپ اور ندیوں سے پانی لاتے ہیں جس میں کارخانے سے نکلا فلورائڈ پوری طرح گھل چکا ہے۔ اس کا اثر جسم کی ہڈیوں اور دانتوں پر پڑتا ہے۔ فلورائڈ سے ایک بار ہڈی بیکار ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی علاج بھی نہیں ہے۔‘

بھارت کا شمار دنیا کی دوسری سب سے تیزی ترقی کرنے والی معیشت کے طور پر کیا جارہا ہے اور ترقی کی رفتار مزید تیز کرنے کے لیے اس بجلی کی ہر قیمت پر ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے بھارت نے سال دوہزار بارہ اور سترہ کے درمیان بجلی کی پیداوار میں سالانہ اضافہ کا ہدف ایک لاکھ میگا واٹ رکھا ہے۔

حکومت شاید اس ہدف کو پورا کربھی لے لیکن جن علاقوں میں بجلی کے کارخانے لگے ہیں وہاں کے لوگوں کی زندگی داؤ پر لگی ہے۔

ایک تازہ جائزے کے مطابق سونبھدر سنگرولی کے علاقوں میں ہوا، پانی اور مٹی ہی نہیں بلکہ وہاں رہنے والے لوگوں کے خون میں پارے یعنی مرکری کے نمونے پائے گئے ہیں۔

اس علاقے میں پارہ اپنا اثر دکھا رہا ہے لیکن حکومت کی جانب اس کی کوئی تفتیش نہیں ہوئی ہے۔

بھارت میں بجلی کی مطالبہ اور بجلی کی صنعت کے منافے میں اضافہ ہورہا ہے اور ریلائنس جیسی بڑی کمپنیاں ان علاقوں میں بجلی کے کارخانے کھولنے کی تیاری میں ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق سنہ دوہزار اٹھارہ تک سنگرولی میں بجلی کی پیدوار پینتیس ہزار میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔

سنگرولی گاؤں میں پیدا ہونے والی بجلی پورے ملک کو جاتی ہے لیکن گاؤں اندھیرے میں ڈوبا ہے۔ چالیس برس میں ابھی بھی وہاں صرف چند گھنٹوں کے لیے کبھی کبھی بجلی آتی ہے۔

تو کیا ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے ان علاقوں کے لیے لوگوں یا حق نہیں ہے کہ انہیں نہ صرف بجلی ملے بلکہ ہو صحت یاب اور اقتصادی اعتبار سے بہتر زندگی گزاریں؟

.

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔