’ بے وقوف کرنل! ہلو گے، تو گولی کھاؤ گے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 19 اکتوبر 2012 ,‭ 14:53 GMT 19:53 PST
کے کے تیواری بی بی سی نامہ نگار ریحان فضل کے ساتھ بات کرتے ہوئے

کے کے تیواری چین کی فوج کی جانب سے یرغمال بنائے گئے تھے

(بھارتی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل کے کے تیواری جنہوں نے چین کی جیل میں چھ ماہ گزارے۔ بی بی سی ہندی کے ریحان فضل کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کچھ یادیں بیان کیں۔)

انیس اکتوبر سنہ انیس سو باسٹھ کی رات میں نے گورکھا فوجیوں کے ساتھ گزاری۔ میرا ارادہ تھا کہ بیس اکتوبر کی صبح میں راجپوتوں کے پاس جاؤں گا لیکن ایسا ہو نہیں سکا۔ اس کے بعد تو جیسا چینی فوج نے چاہا ویسا ہی ہوا۔

بیس اکتوبر کی صبح زبردست بمباری کی آواز سن کر میں گہری نیند سے بیدار ہوا۔

میں بنکر سے باہر آیا اور کسی طرح گرتے پڑتے سگلنز کے بنکر تک پہنچا جہاں میری ریجمنٹ کے دو سگنل مین ہیڈ کوارٹر سے ریڈیو کے ذریعے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

ٹیلی فون لائنیں تو کٹ گئی تھیں لیکن کسی طرح بریگیڈ ہیڈکوارٹر سے ریڈیو کے ذریعے رابطہ ہوا۔ میں نے ان کو زبردست گولہ باری کی اطلاع دی۔

تھوڑی دیر بعد گولہ باری تھم گئی اور گہرا سناٹا چھا گیا۔ اس کے کچھ دیر بعد پہاڑ کی اونچائیوں سے چھوٹے ہتھیاروں سے وقفے وقفے سے فائرنگ ہونے لگی اور میں نے دیکھا کہ لال ستارے لگی خاکی وردی پہنے چینی فوجی نیچے اترتے ہوئے فائرنگ کرتے ہوئے ہمارے بنکر کی طرف بڑھ رہے تھے۔

کے کے تیواری

کے کے تیواری کا کہنا ہے کہ چینی فوجیوں سے بچ نکلنا آسان کام نہیں تھا

تبھی مجھے احساس ہوا کہ بٹالین کے سبھی لوگ مجھے اور میرے دو سگنلز مین کو (جو ان کے یہاں مہمان کے طور پر آئے تھے) چھوڑ کر کب کے جا چکے تھے۔

میں نے اس سے پہلے کسی چینی فوجی کو اتنے قریب سے نہیں دیکھا تھا۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ چینی فوجیوں کا پہلا دستہ ہمیں پيچھے چھوڑتے ہوئے آگے نکل گیا۔

ہم بنکر سے باہر نکلے اور برگیڈ ہیڈکوارٹر کی جانب بڑھنا شروع کیا کہ ہمیں چینی فوجیوں کا دوسرا دستہ نیچے اترتے ہوئے دکھائی دیا۔

وہ بھی پہلے کی طرح وقفے وقفے سے فائرنگ کررہے تھے لیکن یہ دستہ بہت ہی بدستور طریقے سے ایک ایک بنکر کی تلاشی لیتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔ وہ بنکروں میں گرینیڈز پھینک رہے تھے تاکہ وہ اس بات کو یقینی بناسکیں کہ ان بنکروں میں کوئی بھارتی فوجی زندہ نہ بچے۔

اس زمانے میں اپنے نو ایم ایم کی ’براؤننگ آٹومیٹک‘ پستول رکھتا تھا۔ میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ میری لاش کے پاس ایسی پستول نہیں ملنی چاہیے جس سے ایک گولی بھی نہ چلائی گئی ہو۔اس کا استمعال ہونا چاہیے خواہ ہماری حالت کتنی ہی خستہ کیوں نہ ہو۔

اس لیے جیسے ہی دو چینی فوجی ہمارے بنکر کی جانب بڑھے میں نے اپنی پستول کی ساری گولیاں ان پر خالی کردی۔ پہلے چینی کی بائیں آنکھ پر گولی لگی وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔

"بے وقوف کرنل بیٹھ جاؤ۔۔ تم قیدی ہو۔ جب تک میں تم سے میں نہ کہوں تب تک تم ہل نہیں سکتے میں تمہیں گولی مار دی جائے گی۔"

وہ مر ہی گیا ہوگا کیونکہ نہ تو وہ چلایا اور نہ کوئی اور آواز نکالی۔ دوسرے چینی کے کندھے پر گولی لگی اور وہ بھی نیچے گر گیا۔اس کے بعد تو آفت ہی آگئی۔

گولیاں برساتے اور چلاتے ہوئے کئی چینی فوجی ہمارے بنکر کی جانب بڑھنے لگے۔ ایک سگنلز مین تو گولیوں سے بری طرح چھلنی ہوگیا۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ اس کے جسم سے اس طرح خون نکل رہا تھا جیسے کسی نل سے پانی نکلتا ہے۔

اس کے بعد دو چینی فوجی ہمارے بنکر میں کودے اور انہوں نے رائفل کی بٹ سے مجھ پر حملہ کیا اور کھینچتے ہوئے مجھے بنکر سے باہر لائے۔

تھوڑی دیر بعد ایک چینی افسر آیا جو ٹوٹی پھوٹی انگریزی بول سکتا تھا اس نے میرے کندھے پر لگی میرے رینک کو دیکھ لیا تھا اور وہ مجھ سے انتہائی بے عزتی سے پیش آرہا تھا۔ میرے پاس ہی ایک گورکھا فوجی پڑا ہوا تھا جو بے ہوش تھا۔ چند لمحے کے لیے جب اسے ہوش آیا تو اس نے میری طرف دیکھا اور شاید مجھے پہچان کر کہا ’صاحب پانی‘۔

میں کود کر اس کی مدد کرنے کے لیے آگے بڑھا تبھی چینی کیپٹن نے مجھے مارا اور مجھے اپنی محدود انگریزی میں کہنے لگا ’بے وقوف کرنل بیٹھ جاؤ۔ تم قیدی ہو۔ جب تک میں تم سے نہ کہوں تب تک تم ہل نہیں سکتے تمہیں گولی مار دی جائے گی۔‘

تھوڑی دیر بعد ہمیں نام کاں چوں ندی کی بغل میں ایک پتلی گلی میں مارچ کرایا گیا۔ پہلے تین دنوں تک ہمیں کچھ بھی کھانے کے لیے نہیں دیا گیا۔ پھر ہمیں پہلی بار ابلے ہوئے نمکین چاول اور مولی کی سبزی پر مشتمل کھانا دیا گیا۔

ہم چھبیس اکتوبر کو چین کے جنگی قیدیوں کے کیمپ میں پہنچے۔ مجھے پہلے دو دنوں تک ایک اندھیرے اور سیلن بھرے کمرے میں تنہا رکھا گیا۔ اس کے بعد کرنل رِک کو میرے کمرے میں لایا گیا جو بری طرح زخمی تھے۔

کیمپ میں ہمیں چار حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ افسروں اور جوانوں کو الگ رکھا گیا تھا۔ تمام گروہوں کا الگ باورچی خانہ تھا جہاں چینیوں کے ذریعے منتخب بھارتی فوجی سب کے لیے کھانا بناتے تھے۔

پہلی دو راتیں تو ہم سردی میں ٹھٹھرتے رہے۔ ہمیں جب اندر لایا جارہا تھا تو ہم نے دیکھا کہ وہاں پر بھوسے کا ڈھیر تھا۔ ہم نے چینیوں سے پوچھا کہ کیا ہم اس کا استمعال کرسکتے ہیں۔ خوشی قسمتی سے انہوں نے اس کی اجازت دے دی۔

آٹھ نومبر کو جب چینیوں نے ہمیں بتایا کہ توانگ پر ان کا قبضہ ہوگیا ہے تو ہم بہت بے چین ہوگئے۔ ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ لڑائی کس رخ جارہی ہے۔

بہ بات دلچسپ ہے کہ بھارتی فوجیوں کے احساسات پر اثر ڈالنے کے لیے چینی خاص تہواروں پر مخصوص کھانا کھلاتے تھے اور بھارتی فلمیں دکھاتے تھے۔

ہمارے کمیپ میں ایک بے حد خوبصورت چینی خاتون ڈاکٹر تھی جو کبھی کبھی رک کو دیکھنے آتی تھی۔ سچ بتاؤں کہ ہم سب لوگوں کو اس سے پیار ہوگیا تھا۔

سولہ نومبر کو پہلی بار ہمیں گھر خط لکھنے کی اجازت دی گئی۔ چار لیفٹیننٹ کرنلوں کو گھر تار بھیجنے کی بھی اجازت دی گئی۔ ہمارے خط سینسر ہوتے تھے اس لیے ہم ایسی کوئی بات نہیں لکھتے تھے جو چینیوں کو بری لگے۔

ایک خط کے آخر میں میں نے لکھا کہ مجھے ریڈ کراس کے ذریعے کچھ گرم کپڑے اور کھانے کا سامان بھیجا جائے۔ تو میری چار سالہ بیٹی آبھا نے اس کا یہ مطلب نکالا اور اپنی ماں سے کہا کہ لگتا ہے کہ ڈیڈی کو ٹھنڈ لگ رہی ہے اور وہ بھوکے ہیں۔

چینی اکثر پبلک ایڈریس سسٹم پر بھارتی موسیقی پیش کیا کرتے تھے اور ایک گیت بار بار بجایا جاتا تھا اور وہ گیت لتا منگیشکر کا تھا ’آ جا رے میں تو کب سے کھڑی اس پار‘ اس گیت کو سن کر ہمیں گھر کی بے حد یاد آتی تھی۔

بھارت چین جنگ

بھارت اور چین کے درمیان انیس سو باسٹھ میں جنگ ہوئی تھی۔

ہمیں اس وقت کافی حیرت ہوئی جب ایک دن ایک چینی خاتون نے ہمیں بہادر شاہ ظفر کی کئی غزلیں سنائیں۔ ہمارے ساتھی رتن اور اس خاتون نے ایک دوسرے کو ظفر کے لکھے شعر سنائے جو انھوں نے دلی سے جلاوطنی کے بعد رنگون میں لکھے تھے۔ شاید یہ اردو بولنے والی خاتون کئی سال تک لکھنؤ میں رہی ہوگی۔

ہم نے اس دوران سوئیوں سے علاج کے چینی طریقے کا کمال بھی دیکھا۔ ہمارے دوست رک کی مائگرین کی شکایت ہمیشہ کے لیے جاتی رہی۔ اس میں اس خوبصورت لیڈی ڈاکٹر کا کردار تھا یا پھر سوئیوں کا یہ آپ جانیں۔

چینیوں نے طے کیا کہ بھارت بھیجنے سے قبل ہمیں چین کی سیر کرائی جائے۔ وہاں میں دس مزید بھارتی افسر جنگی قیدیوں کو ہمارے پاس لایا گیا۔ ان میں میجر دھن سنگھ تھاپا بھی شامل تھے جنہیں بہادری کے لیے پرمویر چکر کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

یہاں پہلی بار ہمیں آزادی سے ریڈیو سننے کی اجازت ملی اور ہم نے چین میں رہتے ہوئے پہلی بار آل انڈیا ریڈیو اور بی بی سی کو سنا۔

چین میں سیر کے دوران ایک خوش پوشاک چینی ہمیشہ ہمارے ساتھ رہا۔ ہم اس کو جنرل کہہ کر پکارتے تھے۔ ان کے پیچھے ہمیشہ ایک دوسرا چینی چلتا تھا جو ان کے لیے کرسی لگاتا اور چائے بناتا تھا۔ اسے جنرل کا اردلی کہا کرتے تھے۔

جب ہمیں واپس بھارت بھیجنے کی تقریب ہو رہی تھی تو چین کی جانب سے کاغذوں پر دستخط کرنے والا شخص وہ جنرل تھا اور قلم پکڑانے والا شخص وہی اردلی تھا۔

صبح نو بجے ہم نے کن منگ سے کلکتہ کے لیے پرواز کیا دوپہر ایک بج کر بیس منٹ پر ہم وہاں اترنے والے تھے لیکن کافی دیر تک ہمارا جہاز وہاں فضا میں پرواز کرتا رہا۔

پائلٹ نے اعلان کیا کہ جہاز کے پہیے نہیں کھل پا رہے ہیں اور ممکنہ طور پر ہمیں کریش لینڈنگ کرنی پڑے۔

بالآخر ہم ڈھائی بجے دم دم ہوائی اڈے پر اترے۔ کسی طرح کے ناگہانی حالات سے نمٹنے کے لیے وہاں پانی سے بھری گاڑیوں کی ایک قطار کھڑی تھی۔

جب جہاز ہوا میں تھا تو ہم سوچ رہے تھے کہ یہ ہماری شومئی قسمت ہی ہے کہ چین میں اتنی مشکلات سے بچ نکلنے کے بعد ہم کریش لینڈ میں مرنے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔