مودی کے لیے وزارت عظمیٰ کا راستہ اب اور آسان

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 20 اکتوبر 2012 ,‭ 09:24 GMT 14:24 PST
نریندر مودی

نریندر مودی پوری کوشش کررہے ہیں کہ وہ ریاست میں ہونے والے انتخابات جیت لیں

گجرات میں اسمبلی انتخابات کی مہم شروع ہو چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ نریندر مودی تیسری مرتبہ انتخابات جیتنے کے لیے اپنی پوری طاقت کے ساتھ انتخابی میدان میں ہیں۔

ریاستی اسمبلی کا یہ انتخاب اس بار قومی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر اس بار بھی وزیر اعلیٰ مودی انتخابات میں کامیاب ہوئے تو اس بات کے پورے امکان ہیں کہ وہ بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہونگے۔

گجرات میں انتخاب جیتنے کے لیے کانگریس کے پاس نہ تو کوئی سیاسی کرشماتی رہمنا ہے اور نہ ہی کوئی جامع متبادل جس کی بنیاد پر وہ ریاست کے عوام کو یہ یہ بتا سکے کہ وہ کس طرح مودی سے بہتر انظامیہ دے سکتی ہے۔ وہ ایک شکست خوردہ پارٹی کی طرح انتخاب میں اتر رہی ہے۔

مرکز میں کانگریس اور اس کی حکومت افراتفری کا شکار ہے۔ منمموہن سنگھ کی حکومت کسی لقوہ زدہ مریض کی طرح مفلوج ہو چکی ہے۔ کانگریس یہ امید کر رہی تھی کہ راہول گاندھی کے اترتے ہی اس کے مسلسل زوال کا عمل رک جائے گا اور نوجوان گاندھی اس کے سیاسی مسیحا ثابت ہونگے۔

"حکومت مفلوج، کانگریس حیران و پریشان۔ یہ صورتحال حزب اختلاف بی جے پی کے لیے ایک بہترین موقع فراہم کر رہی ہے۔ لیکن بی جے پی بھی یہاں کی مقامی اصطلاح میں اندرونی کھینچا تانی کا شکار ہے۔"

لیکن کچھ ہی دنوں میں سبھی کو یہ محسوس ہونے لگا کہ وہ ان توقعات پر پورا نہیں اتر رہے ہیں۔ اگر سیاسی سطح پر کوئی بہت بڑی تبدیلی رونما نہ ہوئی تو غالباً کانگریس اپنے بدترین وقت کی طرف بڑھ رہی ہے۔

حکومت مفلوج، کانگریس حیران و پریشان۔ یہ صورتحال حزب اختلاف بی جے پی کے لیے ایک بہترین موقع فراہم کر رہی ہے۔ لیکن بی جے پی بھی یہاں کی مقامی اصطلاح میں اندرونی کھینچا تانی کا شکار ہے۔ اس میں کئی رہنما خود کو وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور وہ مودی کی دبے چھپے لفظوں میں مخالفت کرتے ہیں۔

لیکن ملک کی موجودہ صورتحال نے مودی کے لیے راستہ ہموار کر دیا ہے۔ ملک کے متوسط طبقے میں مودی کو خاصی مقبولیت حاصل ہے اور مودی کو یہ معلوم ہے کہ فسادات کے بارے میں ان کا موقف اور ان کا ہندوتوا حامی رویہ منفی نہیں انتخابی اعتبار سے ان کا ایک مثبت پہلو ہے۔

مودی رفتہ رفتہ وزارت عظمیٰ کی امیدواری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہیں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا تھا اب خود نتیش اپنی ریاست میں مقبولیت کھوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

مودی کو وزارت عظمیٰ کی امیدواری سے اب صرف اسی صورت میں ہٹایاجا سکتا ہےجب وہ گجرات کے ریاستی اسمبلی میں شکست کھا جائیں۔ اور اس وقت جو آثار ہیں ان سے مودی کی جیت یقینی نظر آ رہی ہے۔

شاید یہی سوچ کر برطانیہ نے بھی مودی کا بائیکا ٹ ختم کر دیا ہے اور پیر کو برطانیہ کے سفیر ان سے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ملاقات کرنے والے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔