انڈیا: کنگ فشر ایئر لائنز کا لائسنس منسوخ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 20 اکتوبر 2012 ,‭ 14:18 GMT 19:18 PST
کنگ فشر

کنگ فشر ایئر لائنز کو مالی بحران کا سامنا ہے۔

بھارت کے شہری ہوابا‌زی کے ریگولیٹروں نے پرائیوٹ کمپنی کنگ فشر ایئر لائنز کا لائسنس اگلے اعلان تک منسوخ کر دیا ہے۔

لائسنس منسوخ کرنے کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ کنگ فشر اپنی خدمات کو جاری رکھنے کی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کنگ فشر ایئرلائنز اپنے نیٹ ورک اور ٹریول ایجنٹوں کے ذریعے اب کوئی بکنگ نہیں کر پائے گی۔

بہر حال اس بارے میں کنگ فشر سے تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

شہری ہوابازی کے ڈائریکٹر جنرل ارون مشرا نے کنگ فشر ایئرلائنز سے اس ماہ کے اوئل میں کہا تھا کہ اگر وہ ’محفوظ، باصلاحیت اور قابل اعتماد خدمات‘ فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی تو اس کا لائسنس رد کر دیا جائے گا۔

ارون مشرا نے کہا کہ کنگ فشر نے جواب تو دیا لیکن ہوا بازی کے ضابطہ کاروں کے اہم سوال کا جو اب نہیں دیا اور مزید مہلت کی درخواست کی۔

واضح رہے کہ کنگ فشر پربھارت کے معروف تاجر وجے مالیہ کا اختیار ہے اور کنگ فشر اپنی شروعات دو ہزار پانچ سے ہی خسارے میں چل رہی ہے۔

نجی کمپنی کو امداد نہیں

"ہم نے بہت پہلے ہی یہ بات واضح کردیا ہے۔ جہاں تک ایئر انڈیا کا سوال ہے تو وجے مالیہ کو پتہ ہے کہ وہ حکومت کی ہے اور جو مدد ہم اسے دیتے ہیں وہ کسی نجی کمپنی کو نہیں دی جا سکتی"

شہری ہوا بازی کے وزیر اجیت سنگھ

واضح رہے کہ ایک اکتوبر سے اس ایئر لائنز کی کوئی بھی پرواز نہیں ہوئی ہے۔ اسے آٹھ ہزار کروڑ کے خسارے کے ساتھ ساتھ سات ہزار پانچ سو کروڑ سے زیادہ کے قرض کا بھی سامنا ہے۔

کنگ فشر کے ملازمین ہڑتال پر ہیں اور انہیں کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ صورت حال اس وقت مزید بگڑ گئی جب کمپنی کے انجینیئر بھی ہڑتال پر چلے گئے۔

پہلے کنگ فشر کے پاس اڑسٹھ جہاز ہوا کرتے تھے جو کم ہوکر دس رہ گئے ہیں۔

کنگ فشر ایئر لائن کو سخت مالی مشکلات کا سامنا ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اس کی مالی مدد کی جائے۔

لیکن حکومت نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی نجی کمپنی کی مالی مد کے حق میں نہیں ہے اور کمپنی کو چاہیے کہ وہ خود بینکوں سے اس بارے میں بات کرے۔

اس سے قبل شہری ہوا بازی کے وزیر اجیت سنگھ نے کہا تھاکہ 'ہم نے بہت پہلے ہی یہ بات واضح کردیا ہے۔ جہاں تک ایئر انڈیا کا سوال ہے تو وجے مالیہ کو پتہ ہے کہ وہ حکومت کی ہے اور جو مدد ہم اسے دیتے ہیں وہ کسی نجی کمپنی کو نہیں دی جا سکتی۔'

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔