’نیوز ایجنسیوں کے علاوہ کوئی رشتہ نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 25 اکتوبر 2012 ,‭ 09:11 GMT 14:11 PST
سید احمد کاظمی

سید احمد کاظمی نے کہا ہے کہ ان کی گرفتاری سے یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ ہم کس طرح کے نظام میں رہ رہے ہیں

اسرائیلی سفارتکار کی گاڑی پر بم حملے کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے صحافی سید احمد کاظمی نے ضمانت پر رہائی ملنے کے بعد کہا ہے ایران سے ان کا صرف صحافت کا رشتہ تھا۔

واضح رہے کہ اس سال فروری کے مہینے میں دلی میں واقع اسرائیلی سفارتخانے کی ایک گاڑی میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں ایک سفارتکار کی اہلیہ سمیت چار افراد زخمی ہوئے تھے۔

سید محمد احمد کاظمی کو چھ مارچ کو دلی کے انڈین اسلامک سینٹر سے باہر نکلتے وقت دلی سپیشل سیل کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا اور ان سے پوچھ گچھ کے بعد پولیس حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔ وہ مارچ سے لے کر اب تک پولیس کی حراست میں تھے۔

سید محمد کاظمی ایک عرصے سے ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے لیے لکھتے رہے ہیں اور ہندوستان کے مختلف اخبارات میں کالم لکھتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ بھارت کے سرکاری نیوز چینل ڈی ڈی نیوز کے لیے بھی کام کر چکے ہیں۔ بی بی سی کے ونیت کھرے نے رہائی کے بعد ان سے بات چیت کی اور یہ سوالات پوچھے:

جب آپ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو کیا آپ کو سمجھ میں آتا ہے کہ آخر کیا ہوا اور کیوں ہوا؟ کیا کوئی بھول ہوئی پولیس سے؟

میں اسے بھول چوك نہیں کہتا۔ میں یہ کہوں گا کہ میں نے جن موضوعات پر کام کیا ہے، جس طرح سے اس معاملے کو دیکھا ہے، اسے بغیر جھجھک کے ساتھ کہا ہے اور اس پر لکھا بھی ہے، شاید یہ بات کچھ لوگوں کو پسند نہیں آئی۔

آپ کے ایران دوروں کے بارے بہت باتیں کہیں گئی ہیں۔ آپ اتنی بار ایران کیوں جاتے تھے؟

جتنے بھی میرے ایران کے دورے ہوئے، ان میں سے تقریباً آدھے عراق کی جنگ کے دوران ہوئے۔ جب صدام حسین کے زمانے میں عراق کے لئے براہ راست پروازیں نہیں ہوتی تھیں، اس وقت بھی میں ایران کے راستے عراق گیا۔

میں شیعہ مسلمان ہوں۔ میں اپنے بچوں اور بیوی کے ساتھ بھی ایران کے مذہبی مقامات پر کئی بار گیا۔ سال دو ہزار دس اور گیارہ میں امام خمینی کی برسی کے پروگرام میں صحافیوں کے ساتھ ایران گیا۔ ان وجوہات کی بنا پر ایران جانا عام بات تھی۔

آپ ایران کتنی بار گئے ہیں؟

میں سنہ انیس سو نوے اور دو ہزار بارہ کے درمیان تقریباً پندرہ سے سترہ بار ایران گیا ہوں۔

آپ کی گرفتاری کے بعد یہ بات کہی گئی کہ آپ ایران کے سرکاری انتظامیہ کے قریب ہیں؟

"میری نظر میں میری گرفتاری سے ہی ان کے غلط برتاؤ کی شروعات ہوگئی تھی۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ مجھے جسمانی ایزائیں دی گئیں، لیکن ذہنی طور پر مجھے کافی پریشان کیا گیا"

سید محمد کاظمی

سرکاری اداروں سے اچھے رشتوں والی تو کوئی بات نہیں تھی۔ جب آدمی کام کرتا ہے تو اس کی ملاقات مختلف لوگوں سے ہوتی ہے۔ سفارتی دائروں میں ملاقاتیں ہوتی ہیں لیکن اس سے زيادہ کچھ نہیں ہے۔ چيزوں کو غلط طریقے سے سمجھا گیا ہے۔

ایران کی خفیہ ایجنسیوں سے بھی آپ کے رشتوں کی باتیں کہی گئی ہیں؟

ایران کی نیوز ایجنسیوں کے علاوہ میرا رشتہ کسی دوسری ایجنسیوں سے نہیں رہا ہے۔

گزشتہ سات ماہ آپ کے خاندان پر کس طرح گزرے ہیں؟

میرے خاندان کے لوگوں کے لئے یہ بہت مشکل وقت تھا۔ میں نے انہیں بے سہارا حالت میں دیکھا۔ اقتصادی طور پر بھی انہیں پریشانی ہوئی۔ یہ ان کے لئے بہت مشکل وقت تھا۔ جیل میں غیر یقینی کی زندگی گزارنا بہت مشکل کام ہے۔

میڈیا کے رویے کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

میڈیا کے ایک طبقے نے وہی کہا جو انہیں پولیس نے بتایا۔ شاید یہ ان کی پیشہ وارانہ مجبوری تھی۔ یہ تو وہی لوگ بتا سکیں گے۔

اسرائیل کے بارے میں آپ کے خیالات کو لے کر کافی باتیں کہیں گئی ہیں. اسرائیل پر آپ کا کیا نظریہ ہے؟

مجھے ابھی اس تفصیل میں نہیں جانا ہے۔ میں بھی اس معاملے کو اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح ایک متوازن دماغ والا شخص اسے دیکھتا ہے۔

دلی پولیس کی سپیشل سیل کا آپ کے ساتھ کیسا رویہ رہا؟

میری نظر میں میری گرفتاری سے ہی ان کے غلط برتاؤ کی شروعات ہوگئی تھی۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ مجھے جسمانی ایزائیں دی گئیں، لیکن ذہنی طور پر مجھے کافی پریشان کیا گیا لیکن میں اس تفصیل میں نہیں جاؤں تو بہتر ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔