رابرٹ واڈرا کو ہریانہ حکومت کی کلین چٹ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 26 اکتوبر 2012 ,‭ 14:04 GMT 19:04 PST
رابرٹ واڈرا اور پرینکا گاندھی کی تصویر

رابرٹ واڈرا پیشے سے ایک تاجر ہیں

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کو زمین کے تنازع کے معاملے میں ہریانہ حکومت کی جانب سے کلین چٹ مل گئی ہے۔

ہریانہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ رابرٹ واڈرا کی جانب سے زمین خریدنے کے معاملے میں کسی طرح کی کوئی خلاف ورزی نہیں پائي گئی ہے۔

اہلکاروں نے معاملے کی تفتیش کے بعد کہا ہے کہ رابرٹ واڈرا نے جو بھی زمین خریدی ہے اس میں سٹامپ ڈیوٹی کی پوری ادائیگی کی گئی ہے اور کسی طرح خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

تفتیش کے بعد جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ رابرٹ واڈر کی کمپنیوں نے سنہ 2005 کے بعد اب تک ہریانہ میں تقریباً دو سو ایکڑ زمین خریدی ہے۔ ان میں ہریانہ کے پل ول علاقے میں چوہتر ایکڑ، فرید آباد میں باون ایکڑ، گڑگاؤں میں سینتالیس ایکڑ اور میوات میں ستائیس ایکڑ ڑمین خریدی گئی ہے۔

واضح رہے کہ کچھ دن قبل کرپشن کے خلاف مہم چلانے والی تنظیم انڈیا اگینسٹ کرپشن نے رابرٹ واڈرا پر تجارتی لین دین میں بدعنوانی کا الزام عائد کیا تھا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ہریانہ میں کانگریس پارٹی کی حکومت ہے اور رابرٹ واڈرا نے ڈی ایل ایف کے ساتھ تجارتی مفاد کے لیے اثر و رسوخ کا بےجا استعمال کیا۔

کانگریس نے رابرٹ واڈرا پر عائد الزامات کو غلط قرار دیا تھا وہیں اس بارے میں خود رابرٹ واڈرا نے کہا تھا کہ ’بعض لوگ سستی شہرت‘ پانے کے لیے ان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

رابرٹ واڈرا نے کہا تھا ’بزنس کے تعلق سے میرے تمام لین دین کی قانون کے تحت تمام وضاحتیں ان دستاویزوں میں ہیں جو سرکاری اداروں کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔‘

اس سے پہلے تعمیراتی کمپنی ڈی ایل ایف نے بھی اروند کیجری وال کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے مسٹر واڈرا کے ساتھ کوئی غیر قانونی لین دین نہیں کیا ہے۔

لیکن انڈيا اگینسٹ کرپشن کے رکن اروند کیجری وال نے ڈی ایل ایف کے بیان کو ’جھوٹ کا پلندہ‘ بتایا ہے ۔

ہریانہ حکومت کی جانب سے رابرٹ واڈرا کو کلین چٹ دیے جانے پر اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ تفتیش کے دوران شفافیت نہیں برتی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اروند کیجری وال اور ان کے ساتھی پرشانت بھوشن نے رابرٹ واڈرا پر الزام عائد کیا تھا کہ رابرٹ واڈرا نے سنہ دو ہزار سات کے بعد پانچ کمپنیاں قائم کیں جن کی مجموعی مالیت پچاس لاکھ روپے تھی۔

ان کے بقول ان کمپنیوں کی آمدنی کا کوئی جائز ذریعہ نہیں تھا اس کے باوجود تین برس میں ان کمپنیوں نے تین سو کروڑ روپے کی املاک بنائیں جن کی مالیت اب پانچ سو کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے پرینکا گاندھی کے شوہر رابرٹ واڈرا نے تین سو کروڑ روپے کی جو املاک خریدی ہیں ان کی بہت کم قیمت بتائی گئی ہے۔

بدعنوانی کے خلاف تحریک چلانے والی تنظیم نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ یہ املاک رابرٹ واڈرا نے کانگریس کے اقتدار والی ریاستوں یعنی راجستھان، ہریانہ اور دلی میں حاصل کی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔