بھارتی وزراء کے استعفوں کا سلسلہ جاری

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 27 اکتوبر 2012 ,‭ 09:18 GMT 14:18 PST
منموہن سنگھ اور راہول گاندھی

موجودہ حکومت نے اس سے قبل بھی کئی بار کابینہ میں ردوبدل کیا ہے۔

بھارت کی کابینہ میں اتوار کو متوقع ردوبدل سے قبل وزراء کے استعفوں کا سلسلہ جاری ہے۔

جمعہ کو بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کے استعفے کے بعد سنیچر کو اطلاعات و نشریات کی وزیر امبیكا سونی، سماجی انصاف کے وزیر مكل واسنك اور سیاحت کے وزیر سبودھ كانت سہائے نے اپنے اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا ہے۔

سنیچر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ نوجوانوں کو موقع دیا جائے۔ دوسری جانب امبیکا سونی نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے استعفی دینے کی اجازت طلب کی ہے اور استعفی دینے کی وجوہات پر بحث کی ہے اور انھوں نے بھی نوجوانوں کو موقع دیے جانے کی بات کہی ہے۔

مکل واسنک دلتوں کے بڑے رہنما شمار کیے جاتے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل دوہزار چودہ کے عام انتخابات کے پیش نظر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف ریاستوں کو نمائندگی مل سکے اور حکومت کی شبیہ کو بہتر بنایا جا سکے۔

بہرحال تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی شبیہ کو کو تبدیل کرنے کے نام پر پہلے بھی ردوبدل ہوئے ہیں مگر اسے خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ہے کیونکہ نئے چہروں کو عام طور پر وزارت کی ذمہ داریوں سے دور رکھا گیا ہے۔

ایس ایم کرشنا اور حنا ربانی

ایس ایم کرشنا کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں پاکستان اور چین سے بھارت کے رشتے بہتر ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک کے بعد ایک مبینہ گھپلوں نے حکومت کی شبیہ کو خاک میں ملایا ہے۔

حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ساتھ سیاست میں قدم رکھنے والے آر ٹی آئی کارکن اروند كیجريوال نے کئی معاملات پر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔

کابینہ کی اس ردوبدل کے بعد راہول گاندھی کو بھی پارٹی میں مزید حمایت دلوانے کی بات ہو رہی ہے۔ جمعہ کی شام کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی تھی۔

یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دوہزار نو میں وزیر خارجہ بننے والے ایس ایم کرشنا کو اگلے سال ان کی ریاست کرناٹک میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اہم ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔ کرشنا پہلے کرناٹک کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔

استعفی کے بعد ہفتہ کو ایس ایم کرشنا نے کہا کہ ان کے دور اقتدار میں بھارت کے چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے بھارت آنے سے اور ان کے پاکستان کے دورے پر جانے سے حالات میں بہتری آئی ہے۔

امبیکا سونی

امبیکا سونی کانگریس کی ترجمان بھی رہ چکی ہیں۔

دوسری جانب سبودھ كانت سہائے نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم سے بات کی ہے کہ پارٹی اور حکومت کے ساتھ مل کر وہ مستقبل میں کس طرح کام کر سکتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا استعفی دینے والے وزراء کو تنظیم سے متعلق کاموں کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے، تو انھوں نے کہا کہ انہیں پارٹی کی اعلی قیادت کی جانب سے ایسی بات کہی گئی ہے۔

میڈیا میں راہول گاندھی کے قریب سمجھے جانے والے کئی نوجوان چہروں کے حوالے سے یہ باتیں کی جا رہی ہیں کہ انھیں کابینہ کے اس ردوبدل میں زیادہ ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں۔ ان میں سچن پائلٹ، جے رام رمیش اور اجے ماكن کےنام لیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔