بائیس وزراء کا حلف، سلمان خورشید نئے وزیرِخارجہ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 28 اکتوبر 2012 ,‭ 08:34 GMT 13:34 PST

فی الحال کابینہ میں راہول گاندھی کی شمولیت کا امکان نہیں لیکن تبدیلیوں میں ان کی مرضی شامل ہے

بھارت میں متحدہ ترقی پسند اتحاد یعنی یو پی اے کی مرکزی حکومت کی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔

اتوار کو کابینہ کا رکن بننے والوں میں سات مرکزی جبکہ پندرہ ریاستی وزراء شامل ہیں جن سے صدر پرنب مکھرجی نے حلف لیا۔

سات مرکزی وزراء میں سے پانچ دنشا پٹیل، ایم ایم پللم راجو، ہریش راوت، اجے ماکن اور اشونی کمار پہلے ریاستی وزیر تھے اور اب انہیں ترقی دے کر مرکزی وزیر بنا دیا گیا ہے۔

ان کے علاوہ کابینہ میں دو نئے چہرے کے رحمان خان اور چدریش کماری مرکزی وزراء کے طور پر شامل کیے گئے ہیں۔

وزارتِ خارجہ کا قلمدان سلمان خورشید کو سونپا گیا ہے جو اس سے قبل وزیرِ قانون تھے اور وزارتِ قانون اب اشونی کمار کو ملی ہے۔ اجے ماکن کو شہری ترقی اور غربت کے خاتمے جبکہ ایم پللم راجو کو انسانی وسائل اور ترقی کی وزارت ملی ہے۔

کلِک کس کے پاس کون سا محکمہ؟

کے رحمان خان کو اقلیتی امور،ہریش راوت کو پانی کے وسائل اور چدریش کماری کٹوچ کو امورِ ثقافت کا وزیر بنایا گیا ہے۔

ششی تھرور کی بھی بطور وزیر واپسی ہوئی ہے۔ انہیں انڈین پریمیئر لیگ میں کوچی ٹیم سے متعلق تنازع کے بعد استعفی دینا پڑا تھا.

آندھرا پردیش سے ممبر پارلیمنٹ اور اداکار چرجيوي کو سیاحت اور کانگریس کے ترجمان منیش تیواری کو اطلاعات و نشریات کا ریاستی وزیر بنایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ کے سریش، طارق انور، كےجے روشنی، ایچ خان چودھری اور ادھیر رنجن چودھری سمیت کل پندرہ ریاستی وزیر حلف لے رہے ہیں.

پريرجن داس منشی کی اہلیہ دیپا داس منشی اور اروناچل پردیش سے ممبر پارلیمنٹ نننگ ایرگ کو بھی ریاستی وزیر کا حلف دلایا گیا ہے۔

بھارتی کابینہ میں ردوبدل کی خبریں کئی دن سے گردش میں تھیں اور جمعہ کو وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا کے استعفے کے بعد سنیچر کی شام تک سات وزراء نے استعفی دے دیا تھا۔

مستعفی ہونے کے بعد ایس ایم کرشنا نے کہا تھا، ’یہ موسم نوجوانوں کا ہے۔ استعفے کے پیچھے بھی مقصد یہی ہے کہ نوجوان اور زیادہ ذمہ داری سنبھالیں‘۔

پہلے یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی بھی حکومت میں شامل ہوں گے لیکن بعدازاں اس سے انکار کر دیا گیا۔

اخبار بزنس سٹینڈرڈ کی سیاسی امور کی مدیر ادیتی فرنيس کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی کی کابینہ میں شمولیت ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’راہول گاندھی کے حکومت میں شامل ہونے سے وزیراعظم منموہن سنگھ کے لیے مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ فرض کریں کہ راہول گاندھی ایسا کوئی فیصلہ کرتے ہیں جو منموہن سنگھ کو اچھا نہیں لگتا تو ان کے لیے راہول گاندھی کو منع کرنا مشکل ہو گا‘۔

ادیتی کے خیال میں راہول حکومت میں تبھی شامل ہوں گے جب حکومت کی باگ ڈور ان کے اپنے ہاتھوں میں ہوگی۔

لیکن تجزیہ نگاروں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جسے کے خیال میں کابینہ میں نوجوانوں کو آگے بڑھانے کا مطلب راہول کی آمد کی تیاری ہے کیونکہ نوجوانوں کو آگے بڑھانے میں ان کی مرضی شامل ہے۔

معلومات اور نشریات کی وزیر امبكا سونی اور سماجی انصاف کے وزیر مكل واسنك کو جماعتی کاموں میں لگانے کی بات کہی جا رہی ہے اور اسے بھی 2014 کے انتخابات کے مشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔