بھارتی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  پير 29 اکتوبر 2012 ,‭ 15:47 GMT 20:47 PST
وی کے سنگھ

وی کے سنگھ بھارت کے سابق فوجی سربراہ ہیں اب وہ بدعنوانی کے خلاف انا کی مہم میں شامل ہیں۔

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف تحریک چلانے والے سماجی کارکن انّا ہزارے نے سابق فوجی سربراہ ریٹائرڈ جنرل وی کے سنگھ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کی ہے جس میں ملک کی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پریس کانفرنس میں پہلے جنرل وی کے سنگھ نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ نے لوگوں کا اعتماد کھو دیا ہے اس لیے اسے تحلیل کر دیاجانا چاہیئے اور اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کو عوام کا سامنا کرنا چاہیئے۔

غیر ممالک میں جمع بلیک منی یعنی سیاہ دولت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’ہماری پارلیمنٹ قوم کے لیے اس سنگین مسئلے پر خاموش بیٹھی ہے۔ ملک کو نہیں معلوم کہ کن کن لوگوں کا کتنا پیسہ بیرون ملک میں جمع ہے‘۔

ریٹائرڈ وی کے سنگھ نے کہا کہ’ کانگریس کی سربراہی والی یو پی اے حکومت نے حال ہی میں جتنے فیصلے لیے ہیں، ان میں سے زیادہ تر میں حکومت اقلیت میں ہے چاہے وہ خوردہ تجارت میں ایف ڈی آئی کا مسئلہ ہو یا ڈیزل اور کھانا پکانے کی گیس کی قیمت میں اضافہ۔ یہاں تک کہ اتحاد میں شامل پارٹیاں بھی حکومت کے ساتھ نہیں ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی قیمت من مانے طریقے سے اضافے اور اس کا سالانہ کوٹہ طے کرنے کے حق میں حکومت نے یہ دلیل دی ہے کہ پٹرولیم کمپنیوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ ’حکومت کا یہ کہنا گلے سے نہیں اترتا ہے‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’حکومت ملک کی پالیسی آئین کے مطابق نہ بنا کر بازار کے مطابق بنا رہی ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ گاندھی جی کے اصولوں پر مبنی پالیسیاں بنائی جائیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر لایا جائے‘۔

"ملک کے عوام کے لیے سوچنے کا وقت آ گیا ہے۔ عوام اگر آج نہیں سوچےگي تو آنے والی نسلیں خطرے میں پڑ جائیں گی کیونکہ سب مل کر ملک کو لوٹ رہے ہیں اور یہ لوٹ انگریزوں کی لوٹ سے بھی زیادہ ہے۔ انگریزوں نے جتنا اپنے پورے دور اقتدار میں نہیں لوٹا اس سے زیادہ گذشتہ پینسٹھ سال میں لوٹ ہوئی ہے"

وی کے سنگھ

انہوں نے کہا کہ ملک کے پانی، جنگلات اور زمین کو ذاتی ہاتھوں میں سونپا جا رہا ہے، اس سے ملک آگے نہیں بڑھے گا۔

جنرل ریٹائرڈ سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ’ملک کے عوام کے لیے سوچنے کا وقت آ گیا ہے۔ عوام اگر آج نہیں سوچےگي تو آنے والی نسلیں خطرے میں پڑ جائیں گی کیونکہ سب مل کر ملک کو لوٹ رہے ہیں اور یہ لوٹ انگریزوں کی لوٹ سے بھی زیادہ ہے۔ انگریزوں نے جتنا اپنے پورے دور اقتدار میں نہیں لوٹا اس سے زیادہ گذشتہ پینسٹھ سال میں لوٹ ہوئی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ اور اقتدار میں شامل لوگوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ سب آئین کے تحت عوام کے خادم ہیں لیکن وہ عوام کی بھلائی کا کام نہیں کر رہے اس لیے انہیں ہٹایا جانا اب ضروری ہو گیا ہے۔

جنرل ریٹائرڈ سنگھ انہوں نے کہا کہ نئی پارلیمنٹ تشکیل دینا ہے، عوام نئے نمائندہ چنےگي۔ اب ملک کو باکردار، رضاکار اور قومی نظریے سے سرشار رہنماؤں کی ضرورت ہے۔

جنرل ریٹائرڈ سنگھ کے مطابق ’اب انتخابات لڑنےوالوں کو ایسا حلف نامہ دینا چاہیئے جس پر عمل نہ کرنے پر عوام کے پاس انہیں واپس بلانے کی طاقت ہو۔آج ایسا کوئی قانون نہیں کیونکہ آج کے نظام میں منتخب لوگ پانچ سال کے لیے راجا بن جاتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ’ عوام کی پارلیمنٹ بنے گی تو ’جن لوك پال‘ آئے گا اور انگریزوں کے سڑےگلے قانون بدلے جائیں گے‘۔

اس موقع پر انّا ہزارے نے بھی اپنی بات میڈیا کے سامنے رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں غریب اور امیر کا فاصلہ بڑھ رہا ہے۔’ کہیں لوگ کیا، کیا كھاؤ اس کے لیے جی رہے ہیں اور کہیں لوگ کیا کھائیں اسی فکر میں لگے ہیں۔ اس نظام تبدیل کرنا ہوگا‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔