دشمنوں کو اب گولی ماریں گے: ماؤنواز باغی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 31 اکتوبر 2012 ,‭ 09:26 GMT 14:26 PST
ما‎ؤنواز باغیوں کے کمیپ کی ایک تصویر

ماؤنواز باغی اکثر اپنے دشنموں کو بے حد بے رحمی سے مار دیتے ہیں

بھارت میں ماؤنواز باغیوں کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اپنے اثرو رسوخ والے علاقوں میں دشمنوں کو بے رحمی سے قتل کرنا بند کریں گے۔

ماؤنواز باغی اپنے دشمنوں خاص طور سے سکیورٹی فورسز اور مشتبہ پولیس کے مخبروں کا بے رحمی سے قتل کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

ماؤنواز باغیوں کا کہنا ہے کہ آئندہ وہ اپنے دشمنوں کے جسم کے ٹکڑے کرکے یا گلا کاٹ کر قتل نہیں کرے گہ بلکہ انہیں صرف گولی ماریں گے۔

ماؤنواز باغیوں کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کے درمیان یہ فیصلہ سنہ دوہزار نو میں ایک پولیس افسر کے قتل کے بعد کیا گیا ہےجس کو باغیوں نے گلا کاٹ کر قتل کردیا تھا۔

فرانسس اندوور کو جھارکھنڈ میں ماؤنواز باغیوں نے گلا کاٹ کر قتل کردیا تھا۔

ماؤنواز باغیوں کے ترجمان مانس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پولیس اہلکار کے قتل کے بعد پارٹی کےاندر یہ بحث ہوئی کہ اپنے ’طبقاتی‘ دشمنوں کو بے رحمی سے قتل نہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ اس طرح کے قتل کی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی مذمت کی گئی تھی اور یہ موقف دیا گیا تھا کہ بدلا لینے کا یہ جارحانہ طریقہ ناقابل قبول ہے۔

مانس نے بتایا ’ہم بے رحمی سے قتل کے طریقہ کار دھیرے دھیرے چھوڑ رہے ہیں۔‘

ماؤنواز باغیوں کے اس فیصلے کے باوجود بھی ان کے اثرورسوخ والی ریاستوں جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ سے بے رحمی سے قتل کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے جھارکھنڈ میں ماؤنواز باغیوں نے دو چرواہوں کے ہاتھ صرف اس لیے کاٹ دیے کیونکہ انہیں شک ہوا کہ وہ پولیس کے مخبر تھے۔

اس ہفتے پیر کو ماؤنواز باغیوں نے ایک سکیورٹی اہلکار کا بے رحمی سے قتل کردیا تھا۔

مانس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ چرواہوں کے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی تنظيم اس واقعہ کی تفتیش کررہی ہے۔

واضح رہے کہ اس ماہ کی شروعات میں ماؤنواز باغیوں کے ایک گروپ نے رانچی میں ایک جوڑے کو قتل کردیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔