آسٹریلیا:سکھوں کا قتل عام ’نسل کشی‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 12:45 GMT 17:45 PST

چوراسی کے فسادات میں تقریبا تین ہزار سکھ مارے گئے تھے

بھارت میں سنہ انیس سو چوراسی میں ہونے والے سکھ مخالف فسادات کو ’نسل کشی‘ قرار دینے کے لیے آسٹریلیا کی پارلیمان میں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے۔

جمعرات کے روز آ‎سٹریلوی پارلیمان کے رکن وارین سٹنچ نے یہ قرارداد ایوان میں پیش کی۔

اس قرارداد میں انہوں نے کہا ہے کہ جب تک اس تشدد کو ’سکھ مخالف فسادات کے نام سے منسوب کیا جائےگا اس وقت تک سکھ برادری کے لیے اس کا خاتمہ نہیں ہوسکےگا۔‘

جو قرار داد مسٹر سٹنچ نے پیش کی ہے اس پر تقریبا ساڑھے چار ہزار افراد نے دستخط کیے ہیں۔

اس میں آ‎سٹریلیا کی حکومت سے کہا گيا ہے کہ وہ سنہ چوارسی کے فسادات میں ملوث افراد کو سزا دلانے کے لیے بھارتی حکومت پر تمام ممکنہ اقدات کرنے لیے زور ڈالے۔

بھارتی وزیر اعظم اندارا گاندھی کے سکھ محافظوں کے ہاتھوں قتل کے بعد سکھ مخالف فسادات میں تقریباً تین ہزار سکھوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

بھارتی سکھوں کا ایک مسلح گروپ بھارت سے علحیدہ ایک الگ ریاست ’خالستان‘ کے لیے لڑائی کر رہا تھا جن کی سرکوبی کے لیے اندرا گاندھی نے امرتسر میں واقع سکھوں کے مقدس ترین گولڈن ٹیمپل میں فوج کو کارروائي کرنے کا حکم دیا تھا۔

اسی کارروائی کے بعد دو سکھ محافظوں نے محترمہ گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ان فسادات کی حکومت نے حال ہی میں جو انکوائری کروائی تھی اس سے پتہ چلتا ہے کہ اندرا گاندھی کی کانگریس پارٹی کے ارکان تشدد میں ملوث تھے۔

رپورٹ کے مطابق کانگریس پارٹی کے کئی لیڈروں نے پرتشدد مظاہروں کی قیادت کی تھی اور فسادات خود بخود نہیں پھوٹ پڑے تھے۔

لیکن ان تمام رپورٹوں کے باجود اٹھائس برس کے بعد بھی کسی کو سزا نہیں مل پائی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔