کسانوں کے حقوق کا تحفظ کریں ورنہ گھیراؤ: سابق آرمی چیف

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 14:22 GMT 19:22 PST
وی کے سنگھ

وی کے سنگھ بھارت کے سابق فوجی سربراہ ہیں اب وہ بدعنوانی کے خلاف انا کی مہم میں شامل ہیں۔

بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے اگر کسانوں کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو وہ چار دسمبر کو پارلیمان کا گھیراؤ کریں گے۔

دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو زمین کے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی وضع کرنی چاہیے تاکہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

لیکن جب ان سے واضح سوال کیاگیا کہ کیا پارلیمان کے مجوزہ گھیراؤ میں وہ خود بھی شریک ہوں گے تو انہوں نے کہا ’یہ پل ہم وقت آنے پر ہی پار کریں گے۔ فی الحال ہم نے وزیر اعظم کو خط دیا ہے، وہ ایک دانشمند وزیر اعظم ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ ان مطالبات پر غور کریں گے۔‘

فوج کے ایک سابق سربراہ کی طرف سے یہ غیر معمولی بیان ہے لیکن اس کا سیاق و سباق کسی سے چھپا نہیں ہے۔

جنرل وی کے سنگھ مئی میں فوج کے سربراہ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے لیکن حکومت کے ساتھ ایک لمبی اور تلخ جنگ کے بعد، جو پہلے مہینوں تک اخباروں میں لڑی گئی اور پھر عدالت عظمی میں۔

تنازعہ جنرل سنگھ کی تاریخ پیدائش پر تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی عمر ایک سال کم تسلیم کر لی جائے جس کے لیے حکومت تیار نہیں تھی اور جب انہوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کٹھکھٹایا تو انہیں وہاں بھی ناکامی ہاتھ لگی۔

"یہ پل ہم وقت آنے پر ہی پار کریں گے۔ فی الحال ہم نے وزیر اعظم کو خط دیا ہے، وہ ایک دانشمند وزیر اعظم ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ ان مطالبات پر غور کریں گے۔"

جنرل وی کے سنگھ

ریٹائرمنٹ کے بعد سے وہ سماجی کارکن انا ہزارے اور دیگر سیاسی اور سماجی رہنماؤں کے ساتھ ایک ہی سٹیج پر ساتھ نظر آئے ہیں۔ چند ہی روز قبل انا ہزارے کی موجودگی میں انہوں نے پارلیمان کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

وزیر اعظم کے نام اپنے خط میں جنرل سنگھ نے کہا ہے کہ گنے کی کاشت کرنے والے کسانوں کے مطالبات تسلیم کیے جانے چائیں۔

لیکن کئی سابق اعلیٰ فوجی افسران کا کہنا ہے کہ جنرل سنگھ نے جو سیاسی حکمت عملی اختیار کی ہے وہ انہیں زیب نہیں دیتی۔

ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل شنکر پرساد کا کہنا ہے کہ سیاسی اعتبار سے وہ جس طرح چاہیں انہیں احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے لیکن یہ کہنا کہ وہ پارلیمان کا گھیراؤ کریں زیادہ سمجھداری کی بات نہیں لگتی۔

جنرل سنگھ نے فی الحال کسی سیاسی جماعت میں باقاعدہ شامل ہونے کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن ایک نیا محاذ کھول کر وہ بدعنوانی کے الزامات میں گھری وفاقی حوکمت کے لیے ایک نیا درد سر ضرور پیدا کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔