بھارت کے کسان کب تک خود کشی کرتے رہیں؟

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 3 نومبر 2012 ,‭ 14:12 GMT 19:12 PST
کسان

بھارت کو زراعت پر انحصار کرنے والا ملک کہا جاتا ہے۔

چند برس قبل بھارت کے دارالحکومت دلی سے محض تیس کلوميٹر دور مشرق کی سمت سینکڑوں گاؤں ہوا کرتے تھے۔

یہ سارا خطہ گنگا جمنا دوآبے کے میدانی علاقوں میں آتا ہے۔ یہاں کی زمین انتہائی زرخیز زمینوں میں شمار ہوا کرتی تھی۔ پورے بھارت کی طرح یہاں کے گاؤں کا ذریعہ معاش بھی کھیتی باڑی ہی تھا۔

اچانک ایک روز ان گاؤں کے باشندوں کو بتایا گیا کہ ان کی زمینیں حکومت کی کسی رہائشی اسکیم کے دائرے میں آگئی ہیں۔ انہیں اپنی زمینیں انتہائی سستی قیمتوں پر حکومت کو دینی پڑیں۔

یہ کسان اپنی آبائی زمین سے ہمیشہ کے لیے بے دخل کر دیۓ گئے۔ جو زمینیں ان سے جبریہ سو روپے میں خریدی گئی تھیں وہ اب تیس ہزار اور چالیس ہزار میں خریدی اور فروخت کی جا رہی ہیں۔

ان زمینیوں پر ایک انتہائی شاندار اور منظّم شہر بسا ہوا ہے۔ جہاں بھارت کے امیر اور کامیاب لوگ ہی مکان خریدنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔ ان مکانوں کی قیت اتنی ہوتی ہے کہ متوسط طبقے کا کوئی شخص شاید اپنی پوری زندگی کی کمائی سے ان مکانوں کو خریدنے کا اہل نہیں ہو سکے گا۔

دوسری جانب وہ بے نام کسان جن کی ز مینوں پر مستقبل کے یہ شہرتعمیر کیے گئے ہیں وہ کہاں گئے، وہ اب کس حالت میں ہیں؟ یہ کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی کو جاننا چاہتا ہے۔

"بھارت کا کاشتکار اس وقت بھارت کی معیشت کے حاشیے پر ہے۔ غربت اور افلاس اس کا مقدر بن چکا ہے۔ شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک وہ قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ہر برس ہزاروں کی تعداد میں یہ بے بس کاشتکار اب خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔"

اگر بھارت کے سالانہ بجٹ کو دیکھا جائے اور سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور پر نطر ڈالیں تو ایسا محسوس ہو گا کہ بھارت کے کسان دنیا کے سب سے مراعات یافتہ لوگ ہیں۔ حکومتی اسکیموں اور منصوبوں میں جتنی رقم کسانوں کے مد میں صرف کی جاتی ہیں اس کے مطابق انہیں انتہائی خوشحال طبقہ ہونا جاہيئے تھا۔

لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بھارت کا کاشتکار اس وقت بھارت کی معیشت کے حاشیے پر ہے۔ غربت اور افلاس اس کا مقدر بن چکا ہے۔ شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک وہ قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ہر برس ہزاروں کی تعداد میں یہ بے بس کاشتکار اب خود کشی کرنے پر مجبور ہیں۔

بھارت نے پچھلے بیس برس میں اقتصادی محاذ پر زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ ان برسوں میں معاشرے کے ہر طبقے نے ترقی کی ہے، لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ لوگ پہلے سے زیادہ خوشحال ہیں۔

دوسری جانب کارخانوں اور شہروں کی تعمیر کے لیے کسانوں کی زمینیں ان سے جبراً لینے کا سلسلہ بڑھ گیا ہے ۔ جو کاشتکار پہلے اپنے کھیتوں کی پیداوار سے اپنے کھانے پینے کا انتظام کر لیا کرتے تھے اب وہ اس سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر کوئی اضافہ ہوا ہے تو وہ صرف ان کی خود کشیوں کی تعداد میں ہوا ہے۔

کسان

کسانوں نے احتجاج کا نیا طریقہ نکالا

ملک کی سیاسی جماعتوں کے پاس کاشتکاروں کے مسائل کا کوئی منظّم اور ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔ کبھی یہ اعلان ہوتا ہے کہ کاشتکاروں کو بجلی مفت فراہم کی جائےگی۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے گاؤں میں بجلی ہی نہیں آتی۔

کبھی کوئی حکومت اس بات کا ڈھنڈورا پیٹے گی کہ کسانوں کے قرض معاف کر دیے جائیں گے۔ یہ کوئی نہیں جاننا چاہتا کہ وہ قرض دار کیوں ہوئے۔

حکومتیں سب کو یہ بتائیں گی کہ ڈیزل پر سبسڈی کسانوں کے لیے دی جاتی ہے۔ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ ستّر فی صد ڈیزل کی کھپت ریلوے، سرکاری گاڑیوں اور شہری استعمال پر ہوتی ہے۔

بھارت کے معاشرے میں کاشتکار استحصال، محرومی اور دائمی صبر کی تصویر بنا ہوا ہے۔ برسوں کی بے توجہی اور بے حسی کے سبب کاشتکاروں کی صورتحال اب ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔