ہماچل پردیش: اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 4 نومبر 2012 ,‭ 09:08 GMT 14:08 PST

ہماچل میں سونیا گاندھی نے اپنی پارٹی کے لیے زبردست مہم چلائی

بھارت کی شمالی ریاست ہماچل پردیش کے اسبملی انتخابات کے لیے آج ووٹ ڈالے جا رہے ہیں جہاں کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

ریاستی اسمبلی کی اڑسٹھ نشتوں کے لیے اتوار کی صبح سات بجے پولنگ شروع ہوئي جہاں تقریباً چھیالیس لاکھ رائے دہندگان ووٹ ڈالیں گے۔

اس بار انتخابات میں کل چار سو انسٹھ امید وار میدان میں ہیں جس میں سے ستائیس خواتین امیدوار ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس فہرست میں سو سے زائد مختلف سیاسی جماعتوں کے باغی امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں۔

اس ریاست میں گزشتہ پانچ برسوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں جبکہ کانگریس پارٹی اپوزیشن میں ہے۔

ان انتخابات میں بدعنوانی، بے روزگاری اور بڑھتی مہنگائی اہم موضوعات ہیں۔

ہماچل پردیش میں عام طور پر ہر پانچ برس بعد حکومت تبدیل ہوجاتی ہے اور بی جے پی یا کانگریس کو اقتدار ملتا ہے لیکن سیاسی ماہرین کے مطابق اس بار دونوں سیاسی پارّٹیوں میں بہت سخت مقابلہ ہے۔

کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی نے انتخابی مہم کے لیے زبردست محنت کی ہے اور میڈیا میں اشتہارات پر خوب پیسہ خرچ کیا۔

اس کے علاوہ ریاست میں بائیں بازو کی جماعتیں بھی میدان میں ہیں لیکن سیاسی طور پر وہ اتنی مضبوط نہیں ہیں کہ خود سے حکومت سازی کر سکیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔