’دامني صحت مند‘ والد اور ہسپتال خوش

آخری وقت اشاعت:  پير 5 نومبر 2012 ,‭ 12:50 GMT 17:50 PST
ببلو ننھی کے ساتھ

رکشے پر ببلو، ننھی اور سواری ایک ایسا مثلث بناتے ہیں جو زندگی کو گلے لگاتی ہے۔

ریاست راجستھان کے شہر جے پور کے خستہ حال رکشہ ڈرائیور ببلو کی بیٹی کے ساتھ دعائیں اور دوائیں دونوں تھیں اور ماں کے انتقال کے بعد اپنے والد کےگلے میں جھولتي ہوئی ننھی دامني صحت یاب ہو چکی ہیں۔

تقریبًا پندرہ دن پہلے دامني کو شدید بیماری کی حالت میں جے پور کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

پیر کو علاج کے بعد دامني کو جب جے پور میں ہسپتال سے فارغ کیا گیا تو ایسا ماحول تھا جیسے بیٹیاں شادی کے بعد والدین کے گھروں سے رخصت ہوتی ہیں۔

جے پور کے فورٹس ہسپتال کے ڈاکٹر اور دوسرے لوگ بھی انھیں رخصت کرتے ہوئے سلامتی کی دعائیں دے رہے تھے۔

دامني کا علاج کرنے والے ڈاکٹر جےكشن متل نے کہا اب وہ ٹھیک ہے۔ ’جب اسے یہاں لایا گیا تھا تو اس کا وزن محض 1400 گرام تھا۔ اب اس کا وزن بڑھ کر 2140 گرام ہو گیا ہے۔ یہ اچھی علامت ہے۔ مگر یہ ضروری ہے کہ اسے آگے بھی اچھی خوراک اور دیکھ بھال ملے، نہیں تو اس کے صحت کو پھر سے خراب ہو سکتی ہے‘۔

دامني اب 52 دن کی ہو چکی ہے۔ وہ جب بھرت پور میں پیدا ہوئی تو کچھ دیر بعد ہی اس کے سر سے ماں کا سایا اٹھ گیا تھا۔

پھر والد ببلو نے اس کی ذمہ داری سنبھالی۔ ببلو جب بھی رکشہ چلانے جاتے، دامني ان کے دامن سے چمٹی رہتی۔ رکشہ ڈرائیور ببلو نے کپڑے کا ایک جھولا بنایا اور اسے گلے میں ڈال کر جھولا سا بنا لیا جس میں دامنی لیٹی رہتی۔

رکشہ چلاتے ببلو سواری بھی ڈھوتے اور ساتھ ساتھ دامني بھی والد کے دامن سے لپٹے رہتی لیکن انہیں حالات میں دامني بیمار پڑ گئی اور اس کی جان پر بن آئی تھی۔

ڈاکٹروں کی دعائیں

"ویسے تو ڈاکٹر کے لیے ہر بچہ اہم ہوتا ہے مگر جس طرح دامني یہاں آئی، وہ ایک پیغام بھی لائی کہ بیٹی بھی بیٹوں جیسی لاڈلی ہوتی ہے، اس لیے ہم اس کے لیے دعا بھی کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں دامني آگے چل کر بہت ہی اچھا کام کرے گی اور ایک مثال بنے گی"

ڈاکٹر متّل

لہٰذا ببلو اسے بھرت پور کے ہسپتال لے گئے مگر دامني کی حالت اور بگڑ گئی۔ اس دوران رکشے پر اپنے والد کے گلے سے چمٹی دامني کی تصویر دنیا بھر میں پہنچي تو مدد کے لیے بہت سے ہاتھ آگے بڑھے اور دیکھتے دیکھتے ببلو کے اکاؤنٹ میں کوئی پندرہ لاکھ روپے سے زیادہ جمع ہو گئے۔

ریاستی حکومت کو پتہ چلا تو اس کے علاج کا انتظام کیا گي اور 22 ستمبر کو بھرت پور سے جے پور لایا گیا اور ایک بڑے نجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔

اس کے علاج کے اخراجات حکومت اٹھا رہی ہے۔ ڈاکٹر متل کہتے ہیں، ’ویسے تو ڈاکٹر کے لیے ہر بچہ اہم ہوتا ہے مگر جس طرح دامني یہاں آئی، وہ ایک پیغام بھی لائی کہ بیٹی بھی بیٹے جیسی لاڈلی ہوتی ہے، اس لیے ہم اس کے لیے مزید دعا کرتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں دامني آگے جا کر بہت ہی اچھا کام کرے گی اور ایک مثال بنے گی‘۔

دامني کے والد ببلو کہتے ہے وہ اس کی دیکھ بھال کریں گے۔ ’میں اس کے لیے والد تو ہوں ہی مگر ماں کا کردار کر رہا ہوں، کیونکہ ہمیں یہ بچی شادی کے کوئی پندرہ سال بعد نصیب ہوئی اور اس کے ساتھ میری بیوی کی يادیں بھی جڑی ہیں‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔