مایاوتی پر مقدمہ شروع کرنے کی اپیل خارج

آخری وقت اشاعت:  پير 5 نومبر 2012 ,‭ 08:42 GMT 13:42 PST
مایاوتی کی ایک فائل فوٹو

آلہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ کے تازہ فیصلے کو مایاوتی کے لیے ایک پرسکون خبر قرار دیا جارہا ہے

اترپردیش کے شہر الہ آباد کی ہائی کورٹ کے لکھنؤ بینچ نے ریاست کی سابق وزیراعلی مایاوتی کے خلاف تاج کوریڈور معاملے میں دوبارہ مقدمہ چلانے کی مفاد عامہ کی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔

سی بی آئی نے مایاوتی اور ان کی حکومت کے کئی سینیئر اہلکاروں پر مقدمہ چلانے کے لیے چارج شیٹ داخل کی تھی لیکن سنہ دو ہزار سات میں جون کے مہینے میں اس وقت کے ریاست کے گورنر ٹی وی راجیشور نے مایاوتی پر مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دی تھی جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے معاملہ خارج کر دیا تھا۔

الہ آباد ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست کے ذریعے ریاستی گورنر کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

جن افراد نے عدالت میں مایاوتی کے خلاف دوبارہ مقدمہ چلانے کے لیے عرضی داخل کی تھی ان کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق مایاوتی پر مقدمہ چلانے کے لیے گورنر کی اجازت کی ضرورت ہی نہیں ہے لیکن ہائی کورٹ نے اس موقف کو خارج کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ تاج کوریڈور معاملے میں گھپلے کا معاملہ سنہ دو ہزار دو میں اس وقت شروع ہوا تھا جب اس وقت ریاست کی وزیر اعلی مایاوتی نے تاج محل نے متصل علاقے میں ایک نئی سڑک اور بازار کی تعمیر کے لیے ایک سو پچھہتر کروڑ کا منصوبہ بنایا تھا۔

مایاوتی پر الزام تھا کہ اس تعمیراتی کام کے لیے جو ٹھیکے دیے گئے تھے ان میں بڑی سطح پر گھپلا ہوا ہے۔ مایاوتی اور ان کے ساتھی اہلکار ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔