نتن گٹکری پر دباؤ، استعفے کا مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 6 نومبر 2012 ,‭ 12:39 GMT 17:39 PST
نتن گٹکری

بی جے پی صدر نتن گٹکری نے کرپشن کے الزامات سے انکار کیا ہے

بھارت میں اپوزیشن جماعت بی جے پی کے بعض رہنماؤں نے بدعنوانی کے الزامات کے بعد صدر نتن گٹکری سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

بی جے پی کے صدر نتن گٹکری ایک صنعت کار اور کاروباری شخصیت ہیں جن پر مالی لین دین اور سودوں میں بد عنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

منگل کو پارٹی کے ایک سرکردہ رکن اور ملک کے معروف وکیل رام جیٹھ ملانی نے ایک نیوز کانفرس میں ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

مہیش جیٹھ ملانی نے یہ کہہ کر پارٹی کی رکنیت سے استعفی دیدیا تھا کہ نتن گٹکری کے صدر کے ہوتے ہوئے پارٹی میں رہنا غیر اخلاقی بات ہوگي۔

رام جیٹھ نے کہا کہ وہ نتن گٹکری کے استعفے کے مطالبے میں تنہا نہیں ہیں اور اس مسئلے پر یشونت سنہا اور جسونت سنگھ جیسے سینیئر رہنما بھی ان کے ساتھ ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’ہمیں لگتا ہے کہ ہم اس مسئلے پر ہم خيال ہیں۔ ہم یہ پیشگوئی نہیں کریں گے وہ کیا کریں گے لیکن یہ بات صاف ہے کہ ہماری رائے میں انہیں فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے‘۔

رام جیٹھ ملانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس کے لیے خود گٹکری اور ایل کے ایڈوانی کو خط لکھے ہیں۔

"ہمیں لگتا ہے کہ ہم اس مسئلے ہم خيال ہیں۔ ہم یہ پیشین گوئی نہیں کریں گے وہ کیا کریں گے لیکن یہ بات صاف ہے کہ ہماری رائے میں انہیں فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔"

رام جیٹھ ملانی

پارٹی کے صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والے رہنماؤں کا موقف ہے کہ اس وقت بدعنوانی ایک بڑا مسئلہ ہے اور اگر انہوں نے استعفی نہ دیا تو اس سے یہ پیغام جائےگا کہ پارٹی کرپشن سے لڑنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو آئندہ عام انتخابات میں پارٹی کو زبردست نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اس لیے انہیں فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔

اطلاعات کے مطابق پارٹی اس مسئلے پر بٹی ہوئی ہے اور بہت سے سینیئر رہنما مسٹر گٹکری کی حمایت کرتے ہیں۔ خود مسٹر گٹکری اس وقت پارٹی کے سینیئر رہنما، شسما سوارج ارون جیٹلی اور ایل کے ایڈوانی سے ملاقات کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پارٹی کے کچھ رہنما گجرات کے وزیر اعلٰی نریندر مودی کو پارٹی کا صدر بنانا چاہتے ہیں اور یہ تبھی ممکن ہے جب مسٹر گٹکری مستعفی ہوں۔

رام جیٹھ ملانی نے اس سے پہلے کھل کر مسٹر مودی کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ بلا تاخیر بی جے پی وزارت عظمٰی کے عہدے کے لیے اپنے رہنما کا اعلان کرے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ گجرات کی اسبملی انتخابات میں اگر مودی نے مسلسل تیسری بار کامیابی حاصل کی تو پھر وہ وزارت عظمی کے لیے سب سے مضبوط داعویدار ہوں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔