بھارتی سلیکون ویلی سے واپس کیوں جا رہے ہیں؟

آخری وقت اشاعت:  منگل 6 نومبر 2012 ,‭ 17:27 GMT 22:27 PST

ویلیری کیلیفورنیا کی سیلیکون ویلی کو چھوڑ کر پانچ برس پہلے بھارت کے شہر بنگلور آگئیں۔

امریکہ کی سلیکون ویلی کو ہمیشہ سے ہی بھارتی تارکینِ وطن کے لیے کاروبار شروع کرنے کی بہترین جگہ مانا جاتا رہا۔ لیکن اب دور بدلا ہے لوگ نئی سوچ کے ساتھ بھارت جا رہے ہیں۔

ویلیری ویگونر ایک ذہین عورت ہیں۔ انہوں نے سٹینفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے اور آن لائن نیلامی کی سائٹ ای بے کی سابق ملازم ہیں۔ انہوں نے بھارت واپس جانے کا فیصلہ کیا۔

ویلیری کیلی فورنیا کی سلیکون ویلی کو چھوڑ کر پانچ برس پہلے بھارت کے شہر بنگلور آگئیں تھیں اور اب وہ اپنی ذاتی موبائل کمپنی ’زپ ڈائل‘ چلا رہی ہیں۔

کاؤفمان فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق دو ہزار پانچ سے سلیکون میں شروع والے نصف سے زیادہ کاروبار امریکہ میں تارکینِ وطن نے شروع کیے، ان میں بھی ہر تین میں سے ایک بھارتی نژاد تھا۔ لیکن اب امریکیوں کا ایک خاص گروہ واپس وطن لوٹ رہا ہے۔

ویلیری کا کہنا ہے کہ ’بھارت کمزور دل والوں کے لیے نہیں ہے۔ یہاں آنے والے ایک ماہ کے آخر تک یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ انہیں واپس گھر جانا ہے یا وہاں رکنا ہے۔‘

انہوں نے چین کے بجائے بھارت کو اہمیت دی کیونکہ یہاں انگریزی بولنے والے لوگ ہیں۔ بقول ان کے ’یہاں کاروبار بنانے اور کچھ نیا کرنے کے لیے بہت مواقع ہیں‘۔

خود ویلری کا کاروبار بھارت میں بڑھتے ہوئے موبائل فون کلچر میں ایک انوکھے پلیٹ فارم کی تخلیق تھا۔

انہوں نے ایک ایسی ٹیکنالوجی بنائی جس کے تحت لوگ کسی بھی انعامی قرعہ اندازی میں ایک نمبر کے ذریعے شامل ہو سکتے ہیں۔ کچھ دیر انتظار کے بعد انہیں اشتہاری کمپنی کی طرف سے تحریری پیغام مل جاتا ہے، جس سے ان کے کال سے پیسے بچ جاتے ہیں۔

گذشتہ چند برسوں سے بھارت میں ٹیکنالوجی کا دارالحکومت ہونے کے ناتے کا یہ جنوبی شہر ویلری جیسے کاروباری افراد کا گڑھ بن چکا ہے۔

بنگلور اب بھارت کی سلیکون ویلی بن چکا ہے کیونکہ یہاں کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں آ چکی ہیں، جن میں بعض بڑے نام بھی ہیں جیسے کہ گوگل، مائیکروسافٹ اور یاہو۔ کاروبار شروع کرنے کے لیے رہنمائی کرنےوالے ایک گروپ سٹارٹ اپ جینوم نے اسے کاروبار کے لیے دس بہترین جگہوں میں شامل کیا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چیز ہے جو ان باصلاحیت لوگوں کو بھارت کی جانب متوجہ کر رہی ہے۔

سین بلیگزویٹ سات برس قبل یہاں مائیکرو سافٹ کے دفاتر قائم کرنے یہاں آئے۔

سین بلیگزویٹ سات برس قبل یہاں مائیکرو سافٹ کے دفاتر قائم کرنے یہاں آئے۔وہ کہتے ہیں ’میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ذہانت چھپی ہوئی ہے۔ اگر کسی جگہ دنیا کی آبادی کا چھٹا حصہ موجود ہے، تو وہاں دنیا کی ذہنی صلاحیت کا بھی چھٹا حصہ موجود ہے۔‘

یہاں آنے والے کاروباری افراد کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان میں غربت اور ناقص انفراسٹرکچر شامل ہیں، لیکن یہی یہاں غیر ملکی کاروبار کے لیے موقع بن سکتے ہیں اگر وہ ان مسائل کے حل کے لیے کام کریں۔

ویلری اور سین لوگوں کے لیے ملازمتوں کے راستے تلاش کرتے ہیں۔ ان کی ویب سائٹ باباجاب ڈاٹ کام بھارت کے نچلے درجے کے طبقے کے لوگوں کو ملازمت دلاتی ہے۔

یڈم سیچ مین ہیٹن سے ممبئی آئے، انہیں متوجہ کرنے والی چیز بھارت میں لڑکے لڑکیوں کا تفریحی مقامات پر ملنے کا بڑھتا ہوا رجحان تھا۔

سین کا کہنا ہے کہ ان کا یہ کام اس بات کی مثال ہے کہ کیسے انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی بھارت کے مسائل کا حل تلاش کر رہے ہیں۔

ایڈم سیچ نیویارک سے ممبئی آئے، انہیں متوجہ کرنے والی چیز بھارت میں لڑکے لڑکیوں کا تفریحی مقامات پر ملنے کا بڑھتا ہوا رجحان تھا۔

ایڈم نے ’نیو یارکرز‘ کے نام سے ویب سائٹ بنائی لیکن جلد ہی انہیں اندازہ ہوا کہ ان کی کہیں اور زیادہ ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں’ پہلے یہ ہمیں بہت اجنبی سا لگا۔ کیونکہ ہم کبھی بھارت نہیں گئے تھے اس لیے کبھی سوچا نہیں تھا کہ یہ وہاں کامیاب ہوگا۔‘

ان کی ویب سائٹ شیٹ پاؤٹ ڈاٹ کام پر پینتالیس لاکھ افراد رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں سے پچانوے فیصد کا تعلق بھارت سے ہی ہے۔

اس بدلتی ہوئی دنیا میں امریکہ سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد کا بھارت میں اضافہ ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔