مودی کے لیے بی جے پی میں خانہ جنگی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 10 نومبر 2012 ,‭ 00:03 GMT 05:03 PST

کانگریس کی شکست کے آثار واضح نطر آ رہے ہیں

بھارت میں ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا بھارتیہ جنتا پارٹی خود کو تمام سیاسی جماعتوں سے مختلف جماعت بتایا کرتی تھی۔ اسے تجزیہ کار بھی ایک اصول پرست اور ڈسپلن پارٹی تصور کیا کرتے تھے۔ کسی نے سوچا نہیں تھا کہ یہی جماعت ایک مختصر عرصے میں اندرونی انتشار اور قیادت کے ٹکراؤ کا شکار ہو جائے گی۔

اس وقت حکمراں کانگریس ایک زوال پذیر جماعت بنی ہو ئی ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کبھی کابینہ میں ردو بدل سے تو کہیں تنہائی میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کرپارٹی کی سیاسی تقدیر بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کانگریس کی شکست کے آثار اتنے واضح نطر آ رہے ہیں کہ اب غیر ممالک بھی اپوزیشن سے اپنے تعلقات مستحکم کر رہے ہیں۔

پچھلے دنوں دلی میں عرب ممالک کے بیس سے زیادہ سفیروں نے بی جے پی کے صدر نیتن گڈکری سے ملاقات کی۔ سفیروں نے ان سے بھارت عرب تعلقات اور اور ان کی مختلف پالیسیوں کے بارے میں بی جے پی کے خیالات جاننا چاہا۔ یہ اس نوعیت کا ایسا پہلا واقعہ تھا جب سفیروں کا اتنا بڑا گروپ انتخاب سے ڈیڑھ برس قبل حزب اختلاف سے قربت بڑھانےکی کوشش کر رہا ہو۔

دوسری جانب جب سے نتین گڈکری کو بی جے پی کا دوسری بار صدر بنائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تب سے پارٹی میں کہرام مچا ہوا ہے۔ بی جے پی اس وقت مودی حامی اور مودی مخالف، دو خیموں میں منقسم ہے۔ گڈکری کو دوبارہ صدر بنانے کا فیصلہ بی جے پی کی نظریاتی تنطیم آر ایس ایس کی ایما پر کیا گیا ہے۔

ان کی پہلی مدت دسمبر میں ختم ہو رہی ہے۔ آر ایس ایس مودی کے طریقہء کار کے سبب ان کے حق میں نہیں ہے جبکہ مودی وزارت عظمیٰ کی امیدوارکے طور پر تیزی سے ابھر رہے ہیں۔ بی جے پی میں مودی اوران کے حامی گڈکری کومودی کی راہ میں آر ایس ایس کے رخنے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

مودی اس وقت گجرات اسمبلی کی انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ وہ مسلسل تیسری بارانتخاب جیتنے کی طرف گامزن ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ گزشتہ بار سے زیادہ سیٹوں سے کامیاب ہوں۔

مودی بھارت کے بڑے بڑے صنعت کاروں کے اس وقت سب سے مقبول سیاسی رہنما ہیں۔ بڑے بڑے صنعت کار مودی کو (مودی جیسے کسی رہنما کو) بھارت کی وزارت عظمیٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ مودی حامی رہنماؤں نے ان کے لیے قومی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

سب سے پہلے انہوں نے کبھی انا کی صفوں میں داخل ہو کر تو کبھی کیجریوال سے مل کر کانگریس کی پوری حکومت اور اس کے پورے نطام کو بدعنوان قرار دینے کی مہم چلائی۔ حکومت کی ساکھ پوری طرح خراب کرنے مہم کامیاب رہی۔ اب یہ مہم میڈیا کے ذریعے گڈکری کے خلاف شروع کی گئی ہے۔ صنعت کاروں، تجزیہ کاروں اور دانشوروں کا ایک بہت بڑا طبقہ اس وقت غیر محسوس طریقے سے مختلف شکلوں میں مودی کے لیے کام کر رہا ہے۔

مقبول سیاسی رہنما

مودی بھارت کے بڑے بڑے صنعت کاروں کے اس وقت سب سے مقبول سیاسی رہنما ہیں۔ بڑے بڑے صنعت کار مودی کو (مودی جیسے کسی رہنما کو) بھارت کی وزارت عظمیٰ کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ مودی حامی رہنماؤں نے ان کے لیے قومی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

مودی صنعتی گروپوں اور بڑی بڑی کمپنیوں کے لیے سب سے مقبول سیاسی رہمنا کیوں بن گئے یہ بتانا مشکل ہے۔ یہ بتانا بھی مشکل ہے آخر مودی میں ایسی کون سے انتطامی خوبی ہے جو انہیں دوسرے رہنماؤں سے بہتر ثابت کرتی ہے۔ اگر مختلف ریاستوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو پچھلے پانچ برس میں بہار کی پسماندہ ریاست سمیت کئی ریاستوں نے مودی سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔

دراصل بھارت میں اس وقت سیاسی قیادت کی ایک خلاء پیدا ہو گئی ہے۔ حکمراں کانگریس اور بی جے پی دونوں کا طرز عمل تنظیمی سطح پر ہمیشہ سے غیر جمہوری اصولوں پرقائم رہا ہے۔ نتیجے میں بی جے پی میں واجپائی اور اڈوانی کے بعد کوئی موثر رہمنا نہ ابھر سکا۔ اور کانگریس میں راہول گاندھی تمام کوششوں کے باوجود لوگوں کو اپنی موجودگی تک کا احساس نہ دلا سکے۔

یہی وہ سیاسی خلا ہے جو گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی پُر کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ جس طرح گجرات کی سطح پر نریندر مودی نے آر ایس ایس سمیت ہر طرح کی مخالفت اور متبادل کا خاتمہ کر دیا ہے اسی طرح قومی سطح پر مودی کا کوئی موثر متبادل نہیں ہے۔ اس حقیقت کوسب سے پہلے ملک کے صنعتکاروں نے محسوس کر لیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔