ڈاکٹر خلیل چشتی بھارت واپس آگئے ہیں

آخری وقت اشاعت:  پير 12 نومبر 2012 ,‭ 11:39 GMT 16:39 PST
خلیل چشتی

خلیل چشتی کا کہنا تھا کہ وہ ایک بار ضرور اپنے ملک واپس جانا چاہیں گے

پاکستانی سائنسدان خلیل چشتی واپس بھارت پہنچ گئے ہیں اور اب ان کے مقدمے کے آئندہ سماعت سپریم کورٹ میں انیس نومبر کو ہوگی۔

واضح رہے کہ اکیاسی برس کے مائيکرو بائیولوجسٹ خلیل چشتی قتل کے جرم میں بھارتی ریاست راجستھان میں اجمیر کی جیل میں قید تھے۔

اس برس اپریل میں بھارتی سپریم کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کی تھی اور قانونی کارروائی کے بعد انہیں رہا کر دیا تھا اور ان کو پاکستان جانے کی مشروط اجازدت دے دی تھی۔

عدالت نے ان سے کہا تھا کہ مقدمے کی آئندہ سماعت کے لیے انہیں واپس بھارت آنا ہوگا۔

ڈاکٹر خلیل چشتی عدالت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت سے تقریباً دس دن پہلے ہی بھارت واپس آگئے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ مہرالنساء اور ان کے بیٹے طارق چشتی بھی ساتھ آئے ہیں۔

طارق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا’دیکھیں ڈاکٹر چشتی عمر دراز ہیں۔ وہ اسی برس کے ہو چکے ہیں۔ حالانکہ انہیں سفر کرنے میں کافی پریشانی ہوئی لیکن عدالت کا حکم ماننا ضروری تھا۔‘

ڈاکٹر خلیل چشتی کو قتل کے ایک مقدمے میں اجمیر کی ایک عدالت نے انیس برس تک سماعت کے بعد جنوری دو ہزار گيارہ میں عمر قید کی سزا سنائی تھی اور اس وقت سے وہ قید تھے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس برس کے اوائل میں صدر زرداری کے بھارتی دورہ کا ذکر کرتے ہوئے انہیں انسانی بنیادوں پر ضمانت دی تھی اور کہا کہ خیر سگالی کے اقدامات جاری رہنے چاہیں۔

ڈاکٹر چشتی نے رہائی کے بعد صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایّام اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزار سکیں جس کے لیے وہ کراچی واپس جانا چاہتے تھے۔

دس دن پہلے بھارت واپسی

ڈاکٹر خلیل چشتی عدالت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت سے تقریباً دس دن پہلے ہی بھارت واپس آگئے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ مہرالنساء اور ان کے بیٹے طارق چشتی بھی ساتھ آئے ہیں۔

ڈاکٹر خلیل پاکستانی شہری ہیں اور سنہ انیس سو بانوے میں وہ اپنے بھائی اور والدہ سے ملنے کے لیے اجمیر آئے ہوئے تھے۔

اجمیر میں ان کے بھائی کی رہائش گاہ پر خاندان کے کچھ لوگوں میں لڑائی ہوگئی۔ لڑائی کے دوران کسی نے گولی چلا دی جس سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ چونکہ اس وقت موقع پر ڈاکٹر خلیل بھی موجود تھے اس لیے ایف آئی آر میں ان کا نام بھی درج کر لیاگیا۔

مقدمے کے بعد انہیں ضمانت پر رہائی مل گئی تھی لیکن پاکستانی شہری ہونے کے سبب ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیاگیا تھا اور انہیں انیس برس تک عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے ہر پندرہ دن بعد تھانے میں حاضری دینی پڑتی تھی۔

ڈاکٹر خلیل کو دل کا دورہ بھی پڑ چکا ہے اور اس عمر میں وہ کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور جیل میں قید کے دوران ان کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے۔

پروفیسر خلیل نے کراچی یونیورسٹی سے مائیکروبائیولوجی میں ایم ایس سی کیا تھا اور اس کے بعد ایڈنبرا یونیورسٹی سے وائرولوجی میں پی ایچ ڈی کی تھی۔

انہوں نے کراچی کے علاوہ ایران، سعودی عرب اور نائجیریا میں بھی کئی برس درس و تدریس کا کام کیا اور اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔