بال ٹھاکرے کی حالت نازک، امیتابھ پر حملہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 08:41 GMT 13:41 PST
بال ٹھاکرے

بال ٹھاکرے ہندوں کی سختگیر جماعت شیوسینا کے بانی ہیں

بھارتی ریاست مہاراشٹر کی سختگیر ہندو جماعت شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے کی حالت اب بھی نازک ہے لیکن پہلے سے کچھ بہتر ہوئي ہے۔

چھیاسی سالہ بال ٹھاکرے کی حالت گزشتہ روز زیادہ خراب ہوگئی تھی جس کے بعد سے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم مستقل ان کی صحت کی نگرانی کر رہی ہے۔

جمعرات کی صبح بال ٹھاکرے کے صاحبزادے اور پارٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے میڈیا سے بات چیت میں کہا ہے کہ اب وہ لائف سپورٹ پر نہیں ہیں اور وہ پر امید ہیں۔

دیر رات گئے جب یہ خبر عام ہوئی کہ ان کی طبیعت بگڑ گئی ہے تو ان کے حامی شیو سینکوں کی زبردست بھیڑ ان کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہونی شروع ہوگئی۔

حکومت نے حالات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور ان کی رہائش گاہ کے آس پاس بھاری تعداد میں پولیس کو تعینات کیا گيا ہے۔

بال ٹھاکرے اپنی رہائش گاہ ’ماتو شری‘ پر ہی ہیں اور طبی ماہر وہیں ان کا علاج کر رہے ہیں۔ اس دوران ممبئی کی فلمی شخصیات کا ان سے ملاقات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کی طبیعت بگڑنے کی جب خبر آئی تو سب سے پہلے ان کی عیادت کے لیے معروف اداکار امیتابھ بچن پہنچے۔

"جب بوفورس معاملہ اپنے پورے عروج پر تھا تو بال ٹھاکرے نے مجھ سے پوچھا، " کیا آپ اس میں شامل ہیں۔ "میں نے کہا، نہیں۔ اس کے بعد وہ بولے، 'تو فکر مت کرو، میں آپ کے ساتھ ہوں۔ آپ ایک اداکار ہو اور جاؤ وہی کرو جس میں تم بہترین ہو۔ "

امیتابھ بچّن

لیکن بال ٹھاکرے کی رہائش گاہ ماتوشري پر امیتابھ کو شیو سینکوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ لوگ ان سے ہاتھا پائي پر اتر آئے جس میں ان کا کرتا بھی پھٹ گیا اور بازو میں تھوڑی بہت چوٹیں بھی آئیں۔

امیتابھ نے ٹویٹر پر لکھا ہے ’ہاں، ابھیشیک اور میں، دونوں ہی زخمی ہو گئے۔ ہلکی سے چوٹیں آئیں۔ لیکن اب ٹھیک ہیں اور گھر پہنچ گئے ہیں۔ ماتوشري پر موجود ڈاکٹروں نے ہماری مرہم پٹی کی۔‘

بدھ کی رات کو ہی شیوسینا کارکنان ماتوشري پر جمع ہو گئے تھے۔ بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کو محنت کرنی پڑی۔

امیتابھ لوگوں سے امن بنائے رکھنے کی اپیل کر رہے تھے لیکن بال ٹھاکرے کی طبیعت خراب ہونے سے بے حد جذباتی کچھ لوگوں نے ان کے ساتھ بدسلوكي کی۔

اپنے ٹويٹ میں امیتابھ بچن نے بال ٹھاکرے سے متعلق کئی یادوں کو شیئر کیا۔ وہ لکھتے ہیں ’جب جیا اور میری شادی ہوئی تو انہوں نے ہمیں اپنے گھر بلایاتھا ۔ گھر میں بہو کے آنے پر جو رسم کی جاتی ہے، وہ سب کیا گیا۔‘

ایک اور ٹويٹ میں امیتابھ نے لکھا ہے ’جب بوفورس معاملہ اپنے پورے عروج پر تھا تو بال ٹھاکرے نے مجھ سے پوچھا، " کیا آپ اس میں شامل ہیں۔ "میں نے کہا، نہیں۔ اس کے بعد وہ بولے، 'تو فکر مت کرو، میں آپ کے ساتھ ہوں۔ آپ ایک اداکار ہو اور جاؤ وہی کرو جس میں تم بہترین ہو۔‘

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے بال ٹھاکرے کا علاج کر رہے ڈاکٹروں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ان کے حالات ’کافی سنگین‘ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔