کشمیر:امریکی اور یورپی سیاحوں کو اجازت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 14:23 GMT 19:23 PST

یورپی اور مریکی سیاحوں کو ہندوستان کے زیر اتنظام کشمیر میں سیاحت کی اجازت مل گئی۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سیاحت سے جڑے تاجروں، علیحدگی پسند رہنماؤں اور انسانی حقوق کے اداروں نے حکومت برطانیہ کے اُس فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے، جس کے مطابق بائیس سال بعد برطانوی شہریوں کو کشمیر کی سیر کرنے کی اجازت مل گی ہے۔

اُنیس سو نوّے میں یہاں مسلح شورش شروع ہوتے ہی تمام یورپی ممالک اور امریکہ نے اپنے شہریوں کے لیے ایک امتناعی حکم جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ کشمیر سیاحت کے لیے محفوظ نہیں ہے۔

قابل ذکربات یہ ہے کہ رواں سال موسم گرما میں کشمیر آنے والے سیاحوں اور ہندو یاتریوں کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کرگئی تھی لیکن ان میں غیرملکی سیاحوں کی تعداد بیس ہزار سے کم تھی۔

واضح رہے کشمیر کی مقامی حکومت نے پچھلے کئی سال سے مغربی ممالک میں کشمیری سیاحت کی تشہیر کے لیے پانچ کروڑ سے زائد رقم خرچ کی۔ پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران امریکہ، برطانیہ ، یونان اور جرمنی نے کشمیر کی سیاحت پر لگی پابندیوں کو ختم کردیا ہے۔

کشمیر کی سیاحت سے جُڑے معروف تاجر اور کئی ہوٹلوں کے مالک فیض بخشی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فیصلہ سے کشمیر میں اقتصادی ترقی کی نئی امیدیں پیدا ہوگئی ہیں۔

فیض بخشی کا کہنا تھا کہ ’اُنیس سو اٹھاسی میں یہاں اسّی ہزار یورپی اور امریکی سیاح آئے تھے، لیکن بعد میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی یورپ اور امریکہ نے دس سال تک کشمیر کی سیاحت پر پابندی لگا دی‘۔

وہ کہتے ہیں کہ’یورپی اور امریکی پابندی کی وجہ سے یہاں صرف جنوب مشرقی ایشیا سے لوگ آتے رہے، لیکن اب لگتا ہے کہ کشمیر میں سیاحت کی بہار لوٹ آئی ہے۔‘

انسانی حقوق کی تنظیموں کے اتحاد، کولیشن آف سِول سوسائیٹیز کے سربراہ پرویز امروز کہتے ہیں کہ اُنیس سو پچانوے میں دو برطانوی شہریوں سمیت پانچ غیرملکی سیاحوں کو مسلح افراد نے اغوا کرلیا تھا،جس کے بعد

غیرملکی سیاحوں کی آمد مزید مشکلات کا شکار ہوگئی۔

"اُنیس سو اٹھاسی میں یہاں اسّی ہزار یورپی اور امریکی سیاح آئے تھے، لیکن بعد میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی یورپ اور امریکہ نے دس سال تک کشمیر کی سیاحت پر پابندی لگ گئی"

تاجر فیض بخشی

ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت ہند نے اس واقعہ کو عالمی سطح پر خُوب اُچھالا، حالانکہ اب نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس میں بھارتی فورسز کا بھی ہاتھ تھا‘۔

پرویز امروز کا خیال ہے کہ ’برطانیہ اور دوسرے ملکوں کا فیصلہ کشمیریوں کے لیے اچھا ہے۔ برطانوی اور امریکی شہری حساس ہوتے ہیں اور وہ اگر سیاحت کی غرض سے بھی کشمیر آئیں گے، وہ یہاں پر فوجی موجودگی کا بغور مشاہدہ کریں گے‘۔

علیٰحدگی پسند رہنما میرواعظ عمرفاروق بھی اس فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے’ہم لوگ تحریک کو ایک ہی رُخ پر نہیں رکھ سکتے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ غیرملکی سرمایہ کاری کیسے آئے گی۔ اس کے لیے سیاحت اہم ہے۔ یہ ایک انقلابی فیصلہ ہے۔ برطانیہ اور امریکہ کے شہریوں کا کشمیریوں کے ساتھ ثقافتی سطح پر بھی تبادلہ ہوگا۔‘

میر واعظ نے مزید بتایا کہ ان کی حریت کانفرنس مغربی سیاحوں کو یہاں پر نافذ سخت فوجی قوانین خاص طور پر آرمڈفورسز سپیشل پاورز ایکٹ یا افسپا کے ناجائز استعمال کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی۔

غورطلب بات یہ ہے کہ اس قانون کے تحت کسی بھی فوجی یا نیم فوجی اہلکار کو عدالتی وارنٹ کے بغیر کسی بھی گھر کی تلاشی لینے، کسی شخص کو گرفتار کرنے یہاں تک کسی کو گولی مارنے کی اجازت ہے۔ انسانی حقوق کی پامالیوں کے کئی کیسوں میں مقامی عدالتوں میں فوجیوں اور نیم فوجی اہلکاروں کے خلاف مقدمے درج ہیں، لیکن افسپا کے تحت قانونی مواخذہ کے لیے حکومت ہند کی اجازت لازمی ہے۔

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں سیاحت کے فروغ سے مقامی تاجر اور سیاسی رہنما خوش ہیں۔

شعبہ سیاحت کے سربراہ طلعت پرویز کہتے ہیں کہ حکومت کو فی الوقت یہ مشکل پیش ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر سیاحوں نے کشمیر آنا شروع کیا، تو یہاں انفراسٹرکچر یعنی بنیادی ڈھانچہ کا فقدان شدت سے محسوس ہوگا۔ سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ گیسٹ ہاؤسز، ہوٹلوں اور ہاؤس بوٹوں سمیت کشمیر میں فی الوقت صرف پچاس ہزار بستروں کا انتظام ہے۔

طلعت پرویز نے بتایا کہ حکومت نے شہروں اور قصبوں میں بے روزگار نوجوانوں کو اپنے گھر کے کچھ حصہ کو ہوٹل میں تبدیل کرنے کی پیشکش کی ہے، جس کے لیے آسان قسطوں پر قرضے اور دوسری مراعات دی جاتی ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ کشمیر میں بائیس سال قبل موسم گرما اور سرما دونوں موسموں کے دوران یورپی اور امریکی سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ اکثر غیرملکی سیاح شمالی کشمیر کے علاقےگلمرگ کی ڈھلانوں پر سکیئنگ کرتے دکھائی دیتے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔