کشمیر میں اسرائیل مخالف مظاہرے

آخری وقت اشاعت:  پير 19 نومبر 2012 ,‭ 13:26 GMT 18:26 PST
کشمیر احتجاج

احتجاج کے دوران اسرائیل کے قومی پرچم کو نذرآتش کیا گیا

فلسطینی اہداف پر اسرائیل کی مسلسل بمباری کے خلاف بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں دو روز سے مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ اس دوران ایک علیحدگی پسند رہنما کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے خلاف بھی پیر کو وادی میں عام ہڑتال کی گئی۔

اسرائیل مخالف ان مظاہروں میں خواتین علیحدگی پسندوں، طلبا اور وکلا نے شرکت کی۔

علیحدگی پسند رہنما زمرودہ حبیب نے درجنوں برقعہ پوش خواتین کے ہمراہ سرینگر کے لال چوک میں اسرائیل کے خلاف مظاہرہ کیا۔ خواتین نے ہاتھوں میں کتبے اُٹھا رکھے تھے جن پر ’اسرائیل دہشت گردی بند کرو‘ کے نعرے لکھے تھے۔

انہوں نے غزہ کے عسکریت پسند رہنماؤں کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔ اسی دوران نوجوان وکلا نے بھی اسرائیل کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف مظاہرے کیے۔ وکلا نے اسرائیل کا قومی پرچم نذر آتش کیا اور اسرائیلی حکومت کو ایک ’دہشت گرد حکومت‘ قرار دیا۔

اتوار کی شام کو یونیورسٹی اور کالجوں کے درجنوں طلبا نے لال چوک میں شمعیں جلا کر اسرائیل کے خلاف غصے کا اظہار کیا۔ طلبا نے رنگین سیاہی سے کتبوں پر اسرائیل مخالف اور فلسطین حامی نعرے تحریر کیے تھے۔

اس دوران کشمیر میں پیر کے روز ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی معطل رہی۔ ہڑتال کی کال علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی اور عسکری گروپوں جہاد کونسل اور لشکر طیبہ نے بیس سال سے قید علیحدگی پسند رہنما ڈاکٹر قاسم فکتو کو عمرقید کی سزا سنانے کے خلاف دی تھی۔

کشمیر میں علیحدگی پسندوں ک ہندم خالف مظاہروں کی اجازت نہیں دی جاتی۔ سید علی گیلانی سمیت کئی علیحدگی سپندوں کو احتجاج کی کال کے فوراً بعد گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اسرائیل مخالف مظاہروں کے دوران لال چوک میں سیکورٹی کی پابندیاں نہیں تھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔